ایک معصوم بچی کا دل توڑنے والے ولی عہد ابو ظہبی شیخ محمد بن زید النہیان نے واقعہ کے چند گھنٹوں بعد اس بچی اور پوری قوم کو کیا سرپرائز دے دیا ؟ شاندار خبر

لاہور (ویب ڈیسک) ایک حسین تصویر دیکھی جس میں ولی عہد ابو ظہبی ایک بچی کی پیشانی پر بوسہ دے رہے ہیں اور اس کا پس منظر اس تصویر سے بھی زیادہ دلفریب ہے۔ ابو ظہبی کے ولی عہد اور متحدہ عرب امارات کی مسلح افواج کے ڈپٹی کمانڈر شیخ محمد بِن زاید النہیان

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔پیر کو ایک بچی کے گھر جانے پر مجبور ہو گئے۔سعودی عرب کے ولی عہد محمد بِن سلمان متحدہ عرب امارت کے دورے پر ہیں اور اسی دورے کے دوران ایک تقریب میں دونوں رہنما بچوں سے مل رہے تھے۔یہ بچیاں دونوں ملکوں کے پرچم اٹھائے دونوں جانب قطار میں کھڑی تھیں۔ ایک طرف کی بچیوں سے سعودی ولی عہد محمد بِن سلمان مل رہے تھے تو دوسری جانب قطار میں کھڑی بچیوں سے ابو ظہبی کے ولی عہد محمد بِن زاید مل رہے تھے۔ اس دوران محمد بِن سلمان والی قطار سے نکل کر ایک بچی بھاگتی ہوئی ولی عہد محمد بِن زاید سے ہاتھ ملانے دوسری قطار میں جا پہنچی۔ولی عہد محمد بِن زاید جیسے ہی بچی کے قریب پہنچے اس بچی نے اپنا ہاتھ ان کی جانب بڑھایا لیکن ولی عہد اسے دیکھے بغیر ہی آگے بڑھ گئے۔ بچی اس سے مایوس ہوئی اور اس بچی کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی جس کے بعد شہزادہ محمد بِن زاید نے اس بچی کے گھر جا کر اس سے ملاقات کی۔سوشل میڈیا کی طاقت کے کئی کرشمے دیکھنے کو ملتے ہیں مگر پاکستان میں ایسے ایسے حکمران آتے ہیں جو سوشل میڈیا میں جینون واقعات کو بھی پائوں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔ سانحہ ساہیوال کا چشم دید واقعہ اس بے رحمی کی حالیہ مثال ہے۔حسرت ہی رہی کہ ریاست مدینہ کا داعی یتیموں کے گھر جائے گا ان کے سروں پر ہاتھ رکھے گا ان کے ماں باپ اور بہن کے قتل پر تعزیت کرے گا

انصاف کا یقین دلائے گا ان کو ریاست کی گود مہیا کرے گا مگر ایسا کچھ نہ ہوا بلکہ یتیموں کے ساتھ ظلم کو مزید عبرتناک داستان بنا کر دیا۔ جب یہ لوگ اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو فوٹو سیشن کے لئے مظلوموں کے گھروں میں پہنچے ہوتے ہیں اور جب اقتدار مل جاتا ہے تو ان کے نزدیک یہ مظلوم نا پسندیدہ واقعات ہو جاتے ہیں جنہیں سوشل میڈیا وائرل کر کے حکومت کو غصہ دلایا ہے۔دو روز قبل لاہور دارلامان سے یتیم بے آسرا بچیوں کو وزرا اور طاقتور افراد کے لئے سپلائی کرنے کا ایشو چیخ چیخ کر انصاف مانگتا رہا مگر حاکم وقت نے کوئی نوٹس نہ لیا۔ایسے گھناؤ نے متعدد واقعات سوشل میڈیا پر اٹھائے جاتے ہیں مگر حکمرانوں نے آنکھوں پر پٹی باندھ رکھی ہے۔ جیلوں اور دارالامان سے بچیوں اور عورتوں کو سپلائی کرنے کا گھناؤنا کاروبار نئی شکایت یا واقعہ نہیں مگر اب ‘‘صادق و امین ‘‘ کی حکومت ہے لہذا قوم خاموش نہیں رہ سکتی۔ عمران خان کہا کرتے تھے اوپر لیڈر ٹھیک ہو تو نیچے سب ٹھیک ہوجاتا ہے۔ یعنی وہ خود کو ‘‘ٹھیک’’ سمجھتے ہیں ؟ اوپر ‘‘ٹھیک ‘‘ ہوتا تو نیچے واقعی کچھ ٹھیک ہوتا۔ خوش فہمی اور زعم لا علاج امراض ہیں ، عمران خان ملک کو آصف علی زرداری اور میاں نواز شریف کے اثاثے واپس دلانا چاہتے ہیں، نظام کو شفاف بنانے کے متمنی ہیں۔ عمران خان پاکستانیوں کو وہ نظام دینا چاہتے ہیں جس کی مثال خلفائے راشدین نے اپنی زندگیوں سے پیش کی، وہ نظام جس کا اظہار امیر المومنین حضرت ابوبکر صدیقؓ نے اپنی آخری خواہش میں کیا، آپ نے فرمایا ’’مجھے نئے کپڑوں میں دفن نہ کیا جائے!

کیوں کہ نئے کپڑوں کے زیادہ مستحق وہ ہیں جو زندہ اور برہنہ ہیں۔‘‘ پاکستان کلمہ کی بنیاد پر بنا اور خلفائے راشدین کے نظام کا مستحق ہے، کچھ تو جھلک نظر آنی چاہئے تھی مگر اسے ’’مکر و فریب‘‘ نگل گیا۔ اس نظام کی مثال اپنی ذات، خاندان اور اطراف سے شروع ہوتی ہے۔ انسان کا نجی کردار داغدار ہو جائے تو ایک سجدے میں معافی مل سکتی ہے مگر جب پورا ملک داغدار کر دیا جائے تو اس کو دلدل سے نکالنے کے لئے نیک حکمران اور صاف وزراء کی ایک ٹیم ناگزیر ہے۔ اسلامی نظام ہو یا نظام جمہوریت، نظام ایک شخص تبدیل نہیں کر سکتا، اس کے ساتھ ایک ٹیم ہوتی ہے جو نظام پر عمل کر کے دکھاتی ہے۔ وہ شخص خواہ اللہ کا نبی کیوں نہ ہو اسے بھی اللہ کی مدد کے علاوہ ابوبکر، عمر، عثمان، علی جیسے رفقاء کی مدد، تعاون اور مشاورت کی ضرورت ہوتی ہے۔ عمران خان کی ٹیم کا ‘‘ٹھیک ‘‘ ہونا تو درکنار ان کے پاس ٹیم سرے سے موجود ہی نہیں۔ وہی پرانے پانڈے (برتن ) بار بار قلعی کرا کے استعمال کرنے پر مجبور ہیں ،ماشا اللہ چور، لٹیرے، وڈیرے اور سازشی اکٹھے کر رکھے ہیں۔ تبدیلی کا آغاز اپنی ذات سے ہوتا ہے۔اللہ بھلا کرے طاہر القادری کا، خان کی جان چھوڑ گئے یا خان صاحب نے دودھ سے بال کی مانند نکال باہر کیا۔غریبوں کے درد میں قادری صاحب عارضہ قلب میں مبتلا ہو گئے ہیں۔ واقعہ ماڈل ٹائون نام نہاد ریاست مدینہ کے سپرد۔ عمران خان اپنے دائیں بائیں وڈیروں، لٹیروں اور لوٹوں کو اپنی قوتِ بازو سمجھ رہے ہیں ؟ڈیڑھ برس ہو گیا ہے نہ مساوی انصاف مل رہا ہے نہ روزگار نہ تحفظ اور مہنگائی کے سبب نہ ہی عوام کی ضروریات زندگی پوری ہو رہی ہیں۔ جموں کشمیر کی بات کریں تو حکومتی پیروکار کہتے ہیں کہ کشمیر کی تو بات ہی مت کریں جناب یہاں اپنے مر رہے ہیں۔یعنی اپنی ناکامی و نا اہلی کا اعتراف سب کرتے ہیں مگر ‘‘صادق و امین ‘‘ سے سچ کہنے کی ہمت کوئی نہیں کرتا۔(ش س م)