میاں صاحب : شیر بنو شیر ۔۔۔۔۔ ایک سروے میں پاکستانیوں کی اکثریت نے نواز شریف کے بیرون ملک جانے کی حمایت کیوں کی ؟ ایک دلچسپ اور سبق آموز حقیقت سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) پاکستان مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین نے عمران خان سے بڑی دانا بات کہی ہے۔ انہوں نے کہاہے کہ نواز شریف کے باہر جانے پر جو طوفان شروع ہوا ہے ،اسے عمران خان کو قابو کرنا پڑیگا، زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے ،عمران خان ماتھے پر

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیا اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ وہ کلنک کا ٹیکا نہ لگنے دیں جسے دھونا مشکل ہو جائے۔ چوہدری شجاعت حسین نے کہاکہ جیسے کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ زندگی موت اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے عمران خان کو اللہ تعالیٰ نے موقع دیا ہے اور ملک کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے اپنے اچھے فیصلوں میں ایسے لوگوں کی مت سنیںجو اس میں مینگنیں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ صاحبِ اقتدار لوگوں کو چاہیے کہ وہ اپنی توانائی مہنگائی اور بے روزگاری ختم کرنے پر صرف کریں۔ یاد رہے کہ حکومت نے سابق وزیراعظم نواز شریف کو چار ہفتے کیلئے بیرون ملک جانے کی اجازت دی ہے۔وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کو چار ہفتے کیلئے ون ٹائم بیرون ملک جانے کی اجازت دے رہے ہیں۔ نواز شریف شورٹی بانڈز دے کر بیرون ملک جا سکیں گے۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف کو سات ارب روپے کے لگ بھگ رقم دینا ہو گی۔ نواز شریف اور شہباز شریف سات ارب روپے کے شورٹی بانڈ جمع کروائیں۔ فیصلہ نواز شریف کی تشویشناک صحت کے پیش نظر کیا گیا۔ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کیلئے شہباز شریف نے درخواست دی تھی۔ درخواست کیساتھ نواز شریف کی شریف میڈیکل سٹی کی میڈیکل رپورٹس بھی ملی ہیں۔ کل میرے پاس وزارت داخلہ کو بھیجی جانے والی درخواست بھی بھجوائی گئی۔نواز شریف کی صورتحال تشویشناک ہے۔ ہم نے سفارشات بنا کر کابینہ کو بریفنگ دی۔

کابینہ کو بھی بتایا کہ نواز شریف کی صحت کو سنگین خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چار ہفتے کے بعد نواز شریف کی میڈیکل صورتحال دیکھیں گے۔ فروغ نسیم نے کہا کہ شورٹی بانڈ دینا پڑے گا یہ کابینہ کا فیصلہ تھا۔ پہلے بھی کئی ملزمان کو ایک وقت کی اجازت مل چکی ہے۔ادھر میاں شہباز شریف نے سینئر رہنمائوں کو نواز شریف کے موقف سے آگاہ کر دیا اور کہا کہ نواز شریف نے دو ٹوک کہہ دیا ہے حکومت کی شرط منظور نہیں ، علاج کی خاطر بیرون ملک جانے کے مشروط بانڈ کو حکومت این آراو بنا دیگی اور کردار کشی کریگی جو کسی صورت قابل قبول نہیں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ جب نواز شریف کی سزائیں معطل ہیں تو پھر گارنٹی دینے کیا جواز؟پاکستانی عوام کی اکثریت نے مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کو علاج کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دینے کی حمایت کردی۔گیلپ کی جانب سے سروے کیا گیا جس میں 53 فیصد عوام نواز شریف کو بیرون ملک علاج کے لیے جانے دینے کے حامی نکلے۔اس کے ساتھ ساتھ 44 فیصد عوام نے نواز شریف کو باہر جانے دینے کی اجازت کی مخالفت کی۔سروے کے مطابق زیادہ تر لوگ نواز شریف کی غیر موجودگی میں شہباز شریف کو پاکستان مسلم لیگ (ن) کا سربراہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہے کہ نواز شریف باہر بھیجے جانے کیخلاف ہیں لیکن کچھ حلقوں کے حلق کی ھڈی بن چکے ہیں۔ اب ھڈی ’’تاوان‘‘ ادا کرے۔ میاں صاحب اگر شیر ہیں تو پھر شیر بن کر جئیں۔ لْندن بیگم کلثوم کو بھی نہ بچا سکا۔تاوان ادا کر نا شریف فیملی کیخلاف کرپشن ثابت کرنے کی ترکیب لڑائی گئی ہے۔ 7ارب روپے ‘‘ضمانت ‘‘کا مطالبہ اس بات کاثبوت ہے کہ نواز شریف نے ابھی تک ایک ڈھیلہ ادا نہیں کیا اور حکومت بھاگتے چور کی لنگوٹی سے ‘‘مر جائوں گا مگرچوروں کو نہیں چھوڑوں گا’’ پرفیس سیونگ چاہتی ہے۔سب کو اپنی اپنی سیاست بچانے کی فکر ہے۔ نواز شریف کو علاج کیلئے بیرون ملک جانے کی عدالتی اجازت پر زیرک سیاسی رہنما اور حکومتی پارٹی کے حصہ دار چوھدری شجاعت حسین کا تبصرہ جاندار ہے کہ خان صاحب دودھ میں مینگنیں مت ڈالیں۔ انسانی ہمدردی کی بنا پر اجازت دی ہے تو مشیروں کے بہکاوے میں آکر موت کا کلنک مت سجا لینا۔(ش س م)