مولانا فضل الرحمٰن کا دھرنا عمران خان کو نہیں بلکہ نواز شریف کو پکا پکا گھر بھیجنے کے لیے تھا، اب پلان یہ ہے کہ ۔۔۔۔ نامور خاتون کالم نگار کا تہلکہ خیز انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) اگر عمران دھرنا غلط تھا تو مولانادھرنا بھی غلط ہے ، عمران دھرنا درست تھا تو مولانادھرنا بھی درست ہے۔ ملک نہ عمران دھرنا کا متحمل تھا نہ مولانادھرنا کا متحمل ہے۔ دونوں دھرنوں کا مقصد اقتدار ہے۔عمران دھرنا بھی نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے تھا اور مولانا کا دھرنا

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیاء چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔ بھی نواز شریف کو گھر بھیجنے کیلئے ہے۔ دونوں دھرنوں کے بعد نواز شریف بہر حال گھر بھیج دئے گئے۔ دھرنوں میں طاقت تو ہوتی ہے کبھی وزارت اعظمی سے فارغ اور کبھی ہسپتال سے فارغ۔ عمران دھرنا کی پاکستان کے تمام ٹی وی چینلز نے ریکارڈ توڑ کوریج کی جبکہ مولانا دھرنا کو یہ نعمت میسر نہ آسکی۔ دھرنوں کی غلط روایت عمران خان نے ڈالی،عمران خان کا دھرنا غلط تھا تو مولانا کا دھرنا بھی غلط ہے۔ عمران خان کے دھرنے سے لیکر علامہ طاہر القادری اور نواز شریف کے جی ٹی روڈ مارچ تک کنٹینر کو استعمال کیا لیکن مولانا فضل الرحمان نے ان تمام سیاسی رہنماؤں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ان کے ایک ساتھی نے ایک ایسا کارروان ہوم حاصل کر لیا ہے جس میں ایک گھر کی تمام سہولیات میسر ہوتی ہیں۔ اس کاروان ہوم میں بیڈ روم، باتھ روم کچن، ڈرائنگ روم اور لیونگ روم جہاں صوفے لگے ہوئے ہیں اور اسے گاڑی کے پیچھے لگا کر کھینچا جاتا ہے۔ یہ کارروان ہوم جے یو آئی بلوچستان کے صوبائی امیر مولانا عبدالواسع کی ملکیت ہے جو انھوں نے جاپان سے منگوایا ہے۔ ہر بڑے دھرنے میں اکثر یہ دیکھنے میں آتا ہے کہ سیاسی جماعت اپنے رہنما کیلئے کنٹینر کا بندوبست کرتی ہے۔ کنٹینرز کی دنیا میں پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے کنٹینر کو ایک منفرد مقام حاصل ہے۔ ان کے کنٹینر نے نئے سیاسی اتحاد اور اختلافات کو جنم دیا تھا۔

طاہر القادری کے ساتھیوں کی جانب سے اس کنٹینر کو ’بم پروف بنایا گیا تھا،اس میں قیام کی تمام سہولیات موجود تھیں۔ مسلم لیگ نواز نے بھی 2017 میں اسلام آباد سے لاہور تک جی ٹی روڈ پر لانگ مارچ کرنے کا فیصلہ کیا تو پارٹی قائد کیلئے ایک خاص کنٹینر تیار کروایا گیا۔ عمران دھرنا ایک سنسنی خیز فلم تھی جبکہ مولانا کے دھرنا میں نہ کانسرٹ نہ ناچ نہ گانا نہ خواتین بچوں کو ڈھال بنایا گیا۔ اس کے باوجود مردوں نے میدان سجا رکھا ہے۔اکثریت معصوم طلبہ کی ہے جنہوں نے زندگی میں پہلی مرتبہ پاکستان کا کیپیٹل دیکھا ہے۔ جمعیت علمائے اسلام کے دھرنے کیلئے پاکستان کے دور دراز علاقوں سے لوگ شریک ہیں۔ دھرنے میں شریک ان افراد اور خاص طور پر نوجوانوں کیلئے تو یہ تفریحی سرگرمیوں کا ایک موقع بنا ہوا ہے اور یہ لوگ دلچسپ کھیلوں اور حرکتوں سے نہ صرف اپنا خون گرم رکھتے ہیں بلکہ ان کی یہ سرگرمیاں دیکھنے والوں کیلئے بھی تفریح کا سبب بنی ہوئی ہیں۔ ہمارے ایک قاری جو مولانا کے دھرنے میں شریک تھے لکھتے ہیں کہ آزادی مارچ کے مجمع میں سے ایک پچپن سالہ شخص عبدالکریم دل کا دورہ پڑنے سے وفات پا گیا ہے۔ ان کا تعلق سندھ کے ضلع لاڑکانہ سے تھا۔ دھرنے میں ایک شخص کے وفات پانے کی خبر اہم تھی لیکن حیران کن طور پر ٹی وی چینلز نے اس خبر کو اہمیت دینا مناسب نہ سمجھا۔ لوگ بدستور وہاں موجود ہیں۔ پانچ دن گزرنے کے باوجود ان کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ کم و بیش دو کلومیٹر تک کے علاقے میں جگہ جگہ لوگ کھلے آسمان تلے موجود ہیں اور کئی ٹینٹ بھی لگے ہوئے ہیں، جن کے باہر لوگوں نے اپنے کھانے پینے کیلئے الگ سے خصوصی انتظامات بھی کررکھے ہیں۔ گزشتہ شب سے اسلام آباد میں ٹھنڈ ہو چکی ہے لیکن یہ لوگ کسی بات کی پرواہ کیے بغیر وہاں موجود ہیں۔بارش ان کے حوصلے پست نہیں کر سکی۔ انہیں کوئی سمجھائے کہ عمران خان 126 روزہ دھرنے کے باوجود نواز شریف کا استعفیٰ نہیں لے سکے تھے اور دھرنا سمیٹ کر گھر لوٹنا پڑا۔ مولانا فضل الرحمان عمران خان کا استعفیٰ بھی کسی صورت نہیں لے سکتے البتہ ان کے دھرنے کی برکات سے نواز شریف باپ بیٹی کو آزادی مل گئی ہے۔ مسلم لیگ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ہے اب باقی دنوں کا دھرنا بیچارے کارکن بھگت رہے ہیں جن بیچاروں کے دن نہ دھرنے سے پہلے بدل سکے نہ دھرنے کے بعد دن بدلنے کی امید ہے۔ مذہبی کارکن ‘‘ سنو اور اطاعت کرو’’ کے پابند ہوتے ہیں۔ مذہبی رہنما مریدوں کو جب جیسے اور جہاں کھڑا کر دیں بیچارے اف کرنے کے مجاز نہیں۔مولانا کے دھرنے نے حکومت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔ حکومت اپنے قدموں پر کب تک کھڑی رہ سکے گی یہ اگلے چند مہینوں میں ثابت ہو جائے گا۔(ش س م)