کشمیریوں کی لازوال قربانیاں : سرگرم رہنما آسیہ اندرابی کے والدین کی تحریک آزادی کشمیر کے لیے بے مثال قربانی کا یہ واقعہ آپ کا لہو گرما دے گا

لاہور (ویب ڈیسک) اللہ آپ کو دونوں جہانوں کی نعمتوں سے سرفراز فرمائے۔ آمین۔ سمیع اللہ ملک لندن سے مخاطب ہوں۔ آپ کا یوٹیوب پر ویڈیو کلپ دیکھا۔ اسی کو سنتے ہوئے دوسرے کلپ بھی سننے کو ملے، جہاں ایمان تازہ ہوا وہاں مجھ جیسے مردوں کو ندامت کے گھڑوں پانی نے شرابور کر دیا۔۔۔

نامور خاتون کالم نگار طیبہ ضیا چیمہ اپنے ایک کالم میں لکھتی ہیں ۔۔۔۔۔۔میرا سارا خاندان اب بھی مقبوضہ کشمیر میں موجود ہے اور میرا علاقہ کیونکہ منی پاکستان کے نام سے مشہور ہے اس لئے آپ میری کیفیت کا اندازہ کر سکتی ہیں کہ باوجود پوری کوشش کے ان سے رابطہ نہیں ہو رہا۔ آپ نے کشمیر کا نوحہ جس دلسوزی سے بیان کیا ہے اور دو قومی نظریہ کے معاملے پر جن جذبات کا اظہار کیا ہے اس کو سننے کے بعد میری دعا ہے کہ اللہ آپ کو نظربد اور دنیا کی تمام بلائوں سے محفوظ فرمائے آمین۔ یقیناً مسئلہ کشمیر کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر آپ ہم بے نوا کشمیریوں کی بھی نمائندگی کررہی ہیں۔۔۔ اس سلسلے میں ابھی چند منٹ قبل موصول ہونے والی تازہ ترین صورتحال سے آپ کو مطلع کرنے کی جسارت کر رہا ہوں۔۔۔ سید علی گیلانی جن کو ان کے گھر میں پچھلے دس سال سے نظر بند کیا ہوا ہے، اور ان کے گھر کے تمام فون جہاں بند ہیں وہیں پچھلے دو ہفتوں سے ان کے گھر کی بجلی بھی کاٹ دی گئی ہے اور ان کے دونوں بیٹے جو ڈاکٹر ہیں، ان کو دلی میں ہسپتال کی ملازمت سے نہ صرف برطرف کر دیا گیا ہے بلکہ ان کو واپس اپنے ضعیف والدین کے پاس جانے کی بھی اجازت نہیں مل رہی۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ سید علی گیلانی نہ صرف دل کے مریض ہیں بلکہ پندرہ برس قبل ان کا ایک گردہ نکال دیا گیا تھا اور دوسرا نصف گردہ بھی

چھ برس قبل کاٹ دیا گیا تھا اور اب وہ صرف نصف گردے پر اپنی زندگی گزار رہے ہیں۔ سید علی گیلانی کے بڑے داماد الطاف حسین اور گیلانی صاحب کے ذاتی معاون ایاز اکبر بھی پچھلے پانچ برس سے تہاڑ جیل میں ہیں اور موجودہ سید علی گیلانی کی طرف سے ان کے ترجمان صحرائی صاحب کو بھی گھر میں نظر بند کر دیا گیا ہے اور علاج معالجہ نہ ہونے کی صورت میں ان کی قوت سماعت انتہائی متاثر ہو چکی ہے۔۔۔۔۔ سید علی گیلانی کے دوسرے داماد اور مشہور صحافی افتخار گیلانی چند ماہ قبل اپنی جان کے خطرے کی بناء پر بھارت چھوڑ کر ایک اسلامی ملک میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔۔۔۔ بہن آسیہ اندرابی کے بیٹے کے مطابق ان کے والد ڈاکٹر قاسم جو پچھلے تیس سال سے جیل میں ہیں اور پچھلے ڈیڑھ سال سے ان کی والدہ جوکہ بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں قید تنہائی میں ہیں، ان کی ادویات پچھلے تین ماہ سے روک دی گئی ہیں اور اب ان کی صحت اس قدر خراب ہو گئی ہے کہ ان کی بیٹھنے کی قوت بھی ختم ہو گئی ہے اور ان کا کھانا بھی پلاسٹک کی تھیلی میں ان کی طرف اچھال دیا جاتا ہے۔۔۔۔ ملک یاسین اپنے کان کی شدید انفیکشن کی وجہ سے کئی دنوں سے غشی کی حالت میں ہیں۔۔۔۔۔۔ اسی طرح مسرت عالم کو بھی پہلے جموں کی جیل میں رکھا گیا تھا اور اب وہ بھی تہاڑ جیل میں ہیں اور یہ تمام حضرات قید تنہائی میں رکھے گئے ہیں۔۔۔ خود بھارت میں دانشوروں کی ایک کثیر تعداد بھارتی اقدام کی مذمت کر رہی ہے

اور بھارتی نوبل انعام یافتہ نے بھی مودی کے حالیہ اقامات پر خود کو بھارتی شہری ہونے پر اپنی شرمندگی کا اظہار کیا ہے۔۔۔۔ اب تک دس ہزار سے زائد کشمیری نوجوانوں کو گرفتار کر کے کشمیر سے باہر کی جیلوں میں ٹھونس دیا گیا ہے اور کشمیر کے تمام پولیس اسٹیشن کا انتظام بھارتی رائفلز بٹالین نے سنبھال لیا ہے۔ ہفتہ قبل میرے سگے چھوٹے کزن کو جو سرینگر میں ڈپٹی کمشنر تھا، گرفتار کر کے کسی نامعلوم مقام پر قید کر دیا گیا ہے جس کی ابھی تک کوئی اطلاع نہیں۔ ہمارا آبائی علاقہ درہال ملکاں راجوری جو جموں سے متصل ہے اور جو منی پاکستان کے نام سے مشہور ہے، وہاں سے تمام نوجوان یا تو گرفتار کر لئے گئے ہیں یا پھر اپنے گھروں سے فرار ہو چکے ہیں۔۔۔۔ بھارتی درندے اب ان کے اہلخانہ کو بری طرح سے پریشان کررہے ہیں۔۔۔۔ جیلوں اور تھانوں میں جگہ کم ہونے کی وجہ سے وہاں کے اسکولوں اور کالجز کو جیل کی شکل دیکر نوجوانوں کو سخت پہرے میں قید کر دیا گیا ہے اور ان کو بھوک اور پیاس میں مبتلا کر کے اذیتیں دی جا رہی ہیں۔۔۔۔۔ یہ مختصر سانوحہ ہے جو آپ کی اطلاع کیلئے ارسال خدمت ہے۔۔۔ ہر کوئی اس مملکت خداداد پاکستان کی بقاو سلامتی کی دعاؤں میں مصروف ہے اور ہر کسی سے صرف ایک ہی التجا کرتا ہے۔ اس سے پہلے کہ آندھیاں اور طوفان اور عذابوں اور سیلابوں کے قافلے ہمیں گھیر لیں اللہ کے سامنے گڑ گڑا کر استغفار کر لو۔ اپنے اعمال کی، اپنے کوتاہیوں کی، ظلم پر اپنی

خاموشی کی تاکہ میرا رحیم رب ان ناگہانی مصائب کا رخ پھیر دے جس نے میرے وطن کو گھیر رکھا ہے کہ میں جو ایک کو تاہ نظر، گناہ گار اور کم مایہ شخص ہوں وہ جب ان صاحبان نظر کو دیکھتا ہوں جنہیں اللہ نے بصیرت اور بصارت عطا کی ہے تو خوف سے کانپ اٹھتا ہوں۔ مڑ کر اپنے گزرے ہوئے سالوں پر نگاہ پڑتی ہے تو یوں لگتا ہے جیسے میرے جیسے لوگوں کے گناہ، بداعمالیاں اور مصلحتیں اتنی شدید ہیں کہ شاید آنسوؤں کے سمندر اور ہچکیوں سے مانگی ہوئی معافی کی درخواستیں بھی قبولیت کا مقام حاصل نہ کر سکیں۔۔۔ میرے ایک انتہائی قریبی صحافی دوست نے بھارت کے اٹھارہ شہروں میں گھومنے کے بعد خود وہاں کے لوگوں سے جو ویڈیو انٹرویو ریکارڈ کئے، مجھے اپنے گھر دعوت دیکر ان کو دکھانے کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ اس بھارتی یاترا کیلئے برطانوی پاسپورٹ پر بھی مجھے کشمیری نژاد ہونے کی وجہ سے ویزہ دینے سے انکار کر دیا گیا تھا جس کی وجہ سے میں اپنے اس دوست کا ساتھ نہ دے سکا۔ میری اپنی خواہش تھی میں اس بدترین غلامی کا نظارہ اور مشاہدہ خود اپنی آنکھوں سے کروں۔ بنارس، اورنگ آباد اور ممبئی جیسے شہر جہاں مسلمان کسی طور بھی چالیس فیصد سے کم نہیں وہاں وہ اس قدر خوفزدہ، بے اطمینان اور مضطرب ہیں جیسے ان کی ذرا سی خطا ان کے گھر جلا کر راکھ کروا دے، عصمتیں تار تار ہو جائیں گی اور اولاد آنکھوں کے سامنے تڑپتی جان دے گی۔

ان تمام ویڈیوز انٹرویو دیکھ کر میں یہ سوچ رہا تھا کہ ہم نے ان 72سالوں میں ملنے والی اس جائے امان کے ساتھ کیا کیا۔ وہ سر زمین جسے نہ ہم نے اپنے خون سے سینچا تھا اور نہ ہی اپنی جدوجہد سے حاصل کی تھی بلکہ عطائے ربِّ کریم تھی۔ ہم نے اس کے کونے کونے کو ظلم زیادتی، بے انصافی، جبر اور استحصال سے بھر دیا۔ ہم نے سوچا تک نہیں کہ یہ سرزمین تو ہمارے پاس ایک امانت ہے۔ کیا ہم نے اپنے بدمعاشوں، اپنے تھانیداروں، اپنے حکمرانوں کی عزت ان کے شر کی وجہ سے نہیں کی؟ کیا ہم نے فاسق وفاجر لوگوں کو اپنے قبیلوں کا سربراہ نہیں بنایا۔ کیا ہم نے قوم کا سربراہ چنتے ہوئے کبھی سوچا کہ اسے کن خصلتوں کا امین ہونا چاہیے۔ ہم پر جو بھی مسلط ہو گیا ہم نے اسے تسلیم کیا۔ سید الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ کی، اس کے فرشتوں کی اور تمام انبیاء کی لعنت اس شخص پر جو طاقت کے ذریعے اقتدار پر قبضہ کرے اور شریف لوگوں کو ذلیل ورسوا کرے اور کمینوں کو عزت دے، ہم اس عمل کو دیکھ کر خاموش رہے بلکہ ہم توبے حس ہو گئے ہیں۔۔ ہمارے سامنے ہر روز لوگ بھوک اور افلاس سے تنگ آکر خودکشی کرتے اور ہمارے بڑے بڑے ہوٹل مرغن کھانا کھانے والوں سے آباد رہے، ہمارے سامنے گھروں کے گھر بارود کے دھوؤں اور بموں کی کرچیوں سے اڑتے رہے، معصوم بچوں کی قطار درقطار لاشیں دفن ہوتی رہیں اور ہم اپنے گھروں کے آرام دہ صوفوں پربیٹھے ٹیلیویژن سکرین پر منظر دیکھتے رہے، تنگ آ کر چینل بدلتے رہے، معصوم بچیاں بموں کی گھن گھرج میں اپنے پیاروں کی خون آلود لاشیں گود میں رکھ کر آسمان کی سمت دیکھتیں رہیں اور اپنے اللہ کے حضور پیش ہونے تک سوچتی رہیں کہ اس مملکت خداد اد پاکستان میں کتنے ہوں گے جو اپنی بیٹیوں کو گلے سے لگائے پیار سے میٹھی نیند سو رہے ہوں گے۔ میرے گناہوں اور میری خاموشیوں کی تفصیل طویل ہے۔ اس ملک کے 22 کروڑ لوگ طاقت رکھتے تھے اس ظلم اور زیادتی کے خلاف کھڑے ہونے کی لیکن ان کی مصلحتیں ان کے سامنے آکر کھڑی ہو گئیں۔ بس اوّل و آخر اللہ ہے۔ پاکستان و کشمیر کا حامی و ناصر ہو !۔(ش س م)