You are here
Home > منتخب کالم > سہیل وڑائچ > پاکستانی میڈیا : کچھ بک چکا کچھ جھک گیا ، کوئی بھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہ رہا ۔۔۔۔۔۔موجودہ سیاسی و صحافتی حالات پر سہیل وڑائچ کی یہ شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

پاکستانی میڈیا : کچھ بک چکا کچھ جھک گیا ، کوئی بھی سر اٹھا کر چلنے کے قابل نہ رہا ۔۔۔۔۔۔موجودہ سیاسی و صحافتی حالات پر سہیل وڑائچ کی یہ شاندار تحریر ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک) فتح مبارک ہو، ہم نے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے، تکبر کے مندروں کو پاش پاش کیا،بڑے بڑے پردھانوں کو روند ڈالا ا ور عہدوں کی عظمت رکھنے والے میناروں کو ٹھوکروں سے گرادیا ۔شمشیر جہاں گیر نے شیروں کو میدان سے بھگادیا ، اب نہ سیاست کا ٹھُسہ ہے اور نہ جمہوریت کا طمطراق، سول سوسائٹی کے کس بل نکالے جاچکے،

نامور کالم نگار سہیل وڑائچ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ عاصمہ جہانگیر ویسے ہی مرچکی ،اب کوئی بول کے تو دکھائے؟ میڈیا ادھ موا ہوچکا، کچھ بک چکا اور کچھ ہار چکا، سیاست میں بھی کوئی سرا اٹھا کر چلنے والا نہ رہا ، کوئی نااہل ٹھہرا تو کوئی احتساب کے شکنجےمیں پھنسا ہے، بیوروکریٹ پیسے پیسے کا حساب دے رہے ہیں، گڑگڑا کر معافیاں مانگ رہے ہیں ، کانوں کو ہاتھ لگارہے ہیں۔ سیاست اور جمہوریت کی خاک میں موجود ہلکی پھلکی چنگاریاں بھی پھونکوں سے بجھائی جاچکیں۔ اب تو ہر طرف قبرستان کی سی خاموشی ہے، عظیم فاتحین ایوبی ، غوری اور غزنوی بھی اتنی شاندار فتح حاصل نہ کرسکے جو ہمیں حاصل ہوئی ہے۔ وہ تو صرف ملک فتح کرسکےتھے ہم تو دل ودماغ اور افراد و ادارے سب کچھ فتح کرچکے ہیں۔ مبارک ہو، پاکستان بدل چکا، ہر طرف عدل و انصاف کی ہوا چل چکی۔ شفافیت کے پھریرے لہرارہے ہیں، ایمانداری کی خوشبو سے فضائیں معطر ہیں، ہر طرفمسکراہٹیں ہی مسکراہٹیں ہیں۔ سیاست دفن ہوچکی ، کرپشن کا بیڑہ غرق ہوچکا، جمہوریت کی چیخیں نکل چکیں۔ آزادیوں کی سسکیاں سنائی دے رہی ہیں،مگر ملک تیزی سے ترقی کررہا ہے، عوام خوشحال ہیں، سیاسی جماعتیں کافی حد تک کمزور ہوچکیں جلد ہی ٹوٹ بھی جائیں گی، خس کم جہاں پاک۔ آخر ہمارے ملک میں اس تکلف کی ضرورت ہی کیا ہے؟ اب ایک منظم اور مضبوط ریاست کی بنیاد رکھی جارہی ہے

اب یہ وہ پاکستان نہیں جس کو چلانے والوں کو طرز حکمرانی ہی نہ آتا ہو۔ اب صرف ایماندار حکمران ہی سامنے لائے جائیں گے، آئین کو بالا تر رکھا جائے گا، قانون کی حکمرانی ہوگی، عدلیہ کے احکامات کا منہ چڑانے والے سیاستدانوں کو ہر صورت روکا جائے گا۔ میڈیا کی بے محابہ آزادی کو حب الوطنی کے تقاضوں سے معمور کیا جائے گا، آئندہ وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ رحمن ملکوں اور احسن اقبالوں کے سپردنہیں ہوگی بلکہ اس کو تربیت یافتہ حاضر سروس یا ریٹائرڈ لوگ چلایا کریں گے۔ وزارت مالیات میں بہت گھپلے ہیں، اسحاق ڈار کی چھٹی اسی لئے کرائی گئی ہے، آئندہ ڈاروں یا شوکت ترینوں کا سویلین رسک نہیں لیا جائے گا بلکہ محب الوطن ڈاکٹر عشرت حسین یا شوکت عزیز جیسے سند یافتہ اور صحیح سوچ والے سے ہی یہ کام کروایا جائے گا۔ مبارک اس لئے بھی ہو کہ فتح تک کا سارا آپریشن بغیر خون کا کوئی قطرہ بہائے، مکمل ہوا نہ تیر کی ضرورت پڑی اور نہ تفنگ کی۔ نہ بندوق کاتردد کرنا پڑا اور نہ ہی ٹینک یا میزائل کا سہارا لینا پڑا۔ سارا کام چھومنتر اور خوف و ہراس سےہی ہوگیا ، لگتا ہے سیاسی ڈھانچہ پہلے ہی گرنے کو تیار بیٹھا تھا۔ صرف نگاہ غضب ڈالنے کی دیر تھی کہ سب کچھ خود بخود گرنے لگا۔ وزیر اعظم کیا گرا، کابینہ بھی پناہ ڈھونڈنے لگی۔ کچھ کا خیال ہے کہ بنیادیں ہی کمزور تھیں

اس لئے عمارت ڈھے گئی جبکہ کچھ کا خیال ہے کہ قوم نے خود ہی شرم کھائی کہ کون اپنوں سے لڑے اور یوں پیچھے ہٹتے ہٹتے شکست تسلیم کرلی۔ مبارک ہو کہ اس وقت دشمن زیر ہے ،دل فتح کے نشے سے چور ہے، مگر ایک ذمہ دار ادارے کے فرد کی حیثیت سے یہ وضاحت ضروری ہے کہ اس ملک میں جمہوریت قائم رہے گی، الیکشن وقت پر ہوں گے،الیکشن میں محب وطن افراد کی اکثریت منتخب ہوگی جو آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کے احترام اور سول بیوروکریسی کے کردار پر یقین رکھتی ہوگی۔ امید یہی ہے کہ جس طرح قوم کی خاموش اکثریت نے ہماری فتح کی تائید کی ہے، الیکشن میں بھی غداروں، مفاد پرستوں اور عدلیہ کی توہین کرنے والوں کو مسترد کردیا جائے گا، غالب امکان یہی ہے کہ معلق پارلیمان وجود میں آئے گی جس میں سے کوئی بھلا سا آدمی چن کر وزیر اعظم بنادیا جائیگا اور یوں یہ نظام پہلے سے بھی زیادہ بہتری سے چلنا شروع ہوجائے گا۔ فتح کی مبارک لیتے ہوئے جو فکر دامن گیر ہے، وہ نگران حکومت کی ہے۔ امکان ہے کہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور لیڈر آف دی اپوزیشن سید خورشید شاہ کے درمیان نگران وزیر اعظم اور کابینہ پر اتفاق رائے نہیں ہو سکے گا اور یہ معاملہ بھی انصاف کے سب سے بڑا ایوان میں ہی جاکر طے ہوگا۔

امید یہی ہے کہ جس طرح اس ملک کی خاموش اکثریت احتساب کی حامی ہے، نگران وزیر اعظم اور کابینہ بھی اصول پسند ہوں گے اور وہ نیب اور دوسرے اداروں کے ساتھ مل کر احتساب کا عمل تیز تر کردیں گے۔ اس عمل میں پنجاب کے حکمران شہباز شریف خاص طور پر تفتیش کا نشانہ بنیں گے۔ پنجاب سے اقتدار کا خاتمہ نہ ہوا تو کرپشن کا دور ختم کیسے ہوگا؟ اس لئے مکمل فتح اسی روز ہوگی جب پنجاب سے بھی ن لیگ کے اقتدار کا خاتمہ ہوگا، فی الحال سندھ میں پیپلز پارٹی کو برداشت کرنا ہوگا دو برائیوں سے بیک وقت لڑنا مشکل ہوگا، ن لیگ سے چھٹکارا پانے کے بعد اگلا ٹارگٹ زرداری اور سندھ حکومت ہی ہوگی لیکن فی الحال جب تک ن لیگ سے لڑائی جاری ہے پیپلز پارٹی سے صلح صفائی کا ٹریلر جاری رہے گا، ان کرپٹ لوگوں سے نمٹنا کوئی آسان تھوڑی ہے؟مبارک اس لئے بھی ہو کہ اس بار فتح بغیر کوئی غیر آئینی اقدام کئے حاصل ہوئی ہے، مارشل لاء لگانے سے اندرون اور بیرونِ ملک کئی مسائل پیدا ہوتے تھے مگر اس بار سب کچھ آئین کے دائرے میں ہوا ہے، تاریخ میں پہلی بار ہر معاملہ انتہائی قانونی طریقے، خوبصورتی اور فہم و فراست سے نمٹایا جارہا ہے۔ وفاقی اور پنجاب حکومت اب بھی ن لیگ کے پاس ہے۔

اسی دورِ اقتدار میں ان کے خلاف عدالتی فیصلے آرہے ہیں ، احتساب ہورہا ہے، تفتیش جاری ہے، ہوسکتا ہے کہ کل کو وہ اپنی ہی حکومت کے دور میں گرفتار بھی کرلئے جائیں۔ یہ پہلی بار ہوا ہے کہ حکومت ہونے کے باوجود ن لیگی قیادت، وزیراعظم عباسی اور کابینہ مکمل طو ر پر بےبس ہیں، انتظامی مشینری نواز شریف اور ن لیگ کی لیڈر شپ کا گلا دبارہی ہے اور انتظامیہ کے سربراہ شاہد خاقان عباسی سوائے بیانات کے کچھ کرنہیں پارہے۔ یہی حال پنجاب حکومت کا ہے جب سے نیب نے احد خان چیمہ کو گرفتار کیا ہے پنجاب پر شہباز شریف کی آہنی گرفت کمزور ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے، اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ پنجاب کے اختیارات اور طاقت کا بھرم بیچ چوراہے میں ٹوٹ جائے گا، یوں گزشتہ چھ ماہ سے وفاقی اور پنجاب حکومت میں رہنے کا جو سیاسی فائدہ ن لیگ والے حاصل کررہے تھے وہ نقصان میں بدل جائے گا، ان کے اختیارات کا مذاق اڑے گا اور ہر طرف ان کی بےبسی پر افسوس کا اظہار ہوگا۔فتح یوں بھی مبارک ہو کہ اب غداروں، سازشیوں، بدعنوانوں اور اداروں کے گستاخوں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔ سنہری دور شروع ہوچکا، عوامی خواہشات کے عین مطابق ریاست اب مضبوط اور قابل اعتبار ہاتھوں میں ہے، اب اسے کوئی خطرہ نہیں۔ سیاستدان رخصت ہوئے اب سب چین سے سوئیں ا ور خوشحالی کا انتظار کریں ۔(ش س م)


Top