You are here
Home > منتخب کالم > نصرت جاوید > شریفوں اور زر والوں کی ساری سیاسی چالیں بے کار : رات کے اندھیروں میں کون پی ٹی آئی والوں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتا پھر رہا ہے ؟ متحدہ اپوزیشن کی ناکامی کی اصل وجہ سامنے آگئی

شریفوں اور زر والوں کی ساری سیاسی چالیں بے کار : رات کے اندھیروں میں کون پی ٹی آئی والوں کے گھٹنوں کو ہاتھ لگاتا پھر رہا ہے ؟ متحدہ اپوزیشن کی ناکامی کی اصل وجہ سامنے آگئی

لاہور (ویب ڈیسک) یہ حقیقت مگر عیاں ہے کہ اپنی ’’غلامی‘‘ پر نادم ہوئے افراد مسلم لیگ (نون) اور پیپلز پارٹی کی فیصلہ سازی میں اہمیت کے حامل نہیں۔دونوں ایوانوں میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ (نون) ہے۔اس کی قیادت شہبازشریف کررہے ہیں۔وہ ’’نیویں نیویں‘‘ رہنے کو ترجیح دیتے ہیں۔

نامور کالم نگار نصرت جاوید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔مسلم لیگ کی صفوں میں موجود ’’سنجیدہ اور تجربہ کار‘‘ افراد ان کی حکمتِ عملی کو مناسب قرار دیتے ہیں۔یہ الگ بات ہے کہ ’’نیویں نیویں‘‘ رہنے کے باوجود شہبازشریف اور ان کا خاندان گزشتہ کئی دنوں سے ’’منی لانڈرنگ‘‘ کے الزامات کی زد میں ہیں۔حمزہ شہباز شریف کی بھی قید سے باہر آنے کی کوئی صورت نہیں بن رہی۔راولپنڈی کی لال حویلی سے اٹھے بقراطِ عصر بلکہ متنبہ کررہے ہیں کہ شہباز صاحب کو بھی جلد ہی اپنے فرزند کو قید میں کمپنی دینا ہوگی۔پارٹی قیادت جب خودمصیبت میں گھری ہو تو اس کی ’’بصیرت‘‘ پر تکیہ کرنے والے بھی پریشان ہوجاتے ہیں۔پیپلز پارٹی بھی ایسی ہی کیفیت سے دوچار ہے۔عمران حکومت کے لئے لہذا ’’گلیاں سنجیاں‘‘ ہوچکی ہیں۔ ان گلیوں میں شہزاد اکبر،شہباز گل اور مراد سعید دندناتے پھررہے ہیں۔’’باریک کام‘‘ مگر ڈاکٹر بابر اعوان نے دکھایا۔ اپنے قائد کو قائل کردیا کہ دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلاکر وہ تمام قوانین منظور کروالئے جائیں جو اپوزیشن سینٹ سے نامنظور کرتی رہی ہے۔ بدھ کی شام یہ مرحلہ بخیروخوبی اپنے انجام کو پہنچا۔ سینٹ میں اپوزیشن اراکین اب فقط ’’تقریر‘‘ ہی کیاکریں گے۔ ’’اکثریت‘‘ کے گماں میں اترانے کی گنجائش باقی نہیں رہی۔محض گنتی کی منطق کو نگاہ میں رکھیں تو حزب مخالف کی جماعتوں کو پارلیمان کے مشترکہ اجلاس میں چھ افراد کی اکثریت میسر ہے۔بدھ کی شام مگر ایک مرحلے پر گنتی ہوئی تو حکومت کو دس افراد کی برتری ملی۔اپوزیشن کی صفوں سے ایک دو نہیں بلکہ 36اراکین ایوان میں موجود نہیں تھے۔غیر حاضر اراکین کی شناخت ہرگز کوئی معمہ نہیں ہے۔کسی بھی ایوان کا اجلاس ہوتا ہے تو اس میں موجود اراکین کے نام ایک رجسٹر میں باقاعدہ درج ہوتے ہیں۔ان سے رابطہ کرکے معلوم کیا جاسکتا ہے کہ وہ ایک ’’تاریخی‘‘ موقعہ پر دائیں بائیں کیوں ہوگئے۔ بدھ کی شام سینٹ کے چیئرمین کی طرح پولنگ ووٹ کی تنہائی میں ’’بے وفائی‘‘ نہیں ہوئی۔برسرعام اور ہر حوالے سے دانستہ غیرحاضری کا ارتکاب ہوا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے قائدین میں لیکن یہ جرأت ہی موجود نہیں کہ غائب ہوئے لوگوں سے غیر حاضری کی وجوہات پوچھیں۔ فرض کریں میں ان میں شامل ہوتا تو آصف علی زرداری صاحب اور شہبازشریف صاحب کو عاجزی سے بیان کردیتا کہ صاحب اگر آپ یا آپ کے اعتماد والے مصاحبین رات کی تنہائی میں ’’ان‘‘ سے ملاقاتیں کرسکتے ہیں تو میں بدنصیب بھی کوئی ’’جگا‘‘نہیں ہوں جو ’’انقلابی اور اصولی‘‘ نظر آنے کے جنون میں خود کو نیب کی نگاہ میں لائوں۔ وہ مجھے گرفتار کرلے تو میری ضمانت بھی ممکن نظر نہ آئے”Deal”کی صلاحیتوں پر آپ ہی کا اجارہ نہیں۔


Top