عمران خان کے دور میں ہونے والے ممی ڈیڈی احتساب کا یہ حال ہے کہ ۔۔۔۔ ارشاد بھٹی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری ڈرامے کے پول کھول کر رکھ دیے

لاہور (ویب ڈیسک) کیا کریں، ایک طرف حکومت، اپوزیشن غداری میچ جاری جبکہ دوسری طرف مہنگائی نے عوام کی مت مار ی،گندم 24سو روپے فی من، چینی 115روپے فی کلو،کوکنگ آئل 3سو روپے فی کلو، ادرک 8سو روپے فی کلو، آلو 67فیصد مہنگے، ٹماٹر 52فیصد مہنگے، دالیں 40فیصد مہنگی، سبزیاں 60فیصد مہنگی، انڈے 40فیصد مہنگے،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بجلی، گیس کی قیمتیں آسمان پر۔ کیا کریں، وزیراعظم نے حسبِ معمول، حسبِ عادت غداری ایف آئی آر سے بھی لاعلمی کا اظہار کر دیا،فرمایا، میں تو اپنی سالگرہ کا کیک کاٹ رہا تھا کہ اس ایف آئی آر کا پتا چلا، کیا کریں،منگل کو کابینہ اجلاس میں جہاں شاہ محمود قریشی، شفقت محمود، فواد چوہدری، شیریں مزاری، علی محمد، ندیم افضل چن نے غداری ایف آئی آر کی مذمت کی وہاں شیخ رشیداور فروغ نسیم بولے،اب جب ایف آئی آر ہوگئی،ڈٹ جائیں۔ کیا کریں، ایک طرف حکومتی پالیسیوں کا حال یہ، 11ماہ پہلے حکومت گندم، چینی ایکسپورٹ کررہی تھی، 11ماہ بعد اب حکومت گندم، چینی امپورٹ کررہی جبکہ دوسری طرف سیاست کا یہ حال، اپوزیشن ہم خیال تاجروں، سرمایہ کاروں نے بے حساب گندم، چینی مارکیٹ سے اٹھا کر سندھ گوداموں میںا سٹور کر دی، اب اٹھارہویں ترمیم کی برکت سے کسی میں اتنی جرأت کہاں کہ وہ ان گوداموں سے گندم، چینی واگزار کر اسکے۔کیاکریں، لُٹ مار کا یہ عالم کہ کروڑ، ارب پتی پاپڑ فروشوں، پھیری والوں، چپڑاسیوں، کلرکوں والا ٹی ٹی اسکینڈل ابھی تک انڈے، بچے دے رہا، سلمان شہباز کے درجن بھر بے نامی اکاؤنٹس مزید نکل آئے جبکہ شہباز خاندان کے اربوں کے ایک دوسرے کو تحفے الگ، گوجرانوالہ کا کباڑیہ اظہرمغل سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں ایک لاکھ ڈالر دبئی سے جمع کروائے، اس سے پوچھا گیا تو بولا،میں غریب کباڑیہ، کبھی دبئی گیا ہی نہیں، میری اوقات کہاں ایک لاکھ ڈالر اکاؤنٹ میں جمع کراؤں،

پرویز پھلپوٹو دبئی سے 45ہزار 450ڈالر سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں جمع کروائے، نیب تحقیق ہوئی، پتا چلا پرویز پھلپوٹوتو سندھ کے قصبے گوٹھ گجو کا بجری فروش، اس کا کہنا میں سلمان شہباز کو جانتا ہوں نہ اتنی رقم میرے پاس، مطلب دونوں غریبوں کے شناختی کارڈ استعمال ہوگئے، کیا کریں، ممی ڈیڈی احتساب کا یہ حال، ابھی دودن پہلے شہباز شریف نے احتساب عدالت کے جج سے شکایت کی ’’میرا کھانا میز پر رکھا جاتا تھا، دودن زمین پر رکھاگیا،میں بیس پچیس سال سے کمر درد کا مریض، کھانا اس لئے زمین پر رکھا گیا تا کہ مجھے کھانا اٹھانے کیلئے جھکنا پڑے اور مجھے کمر درد ہو،پھر نماز پڑھنے کیلئے کرسی قبلہ رخ کرنے کیلئے ایک اہلکار میری مدد کرتا تھا لیکن یکم اور دو اکتوبر کو اہلکار میری مدد کرنے سے انکاری ہوگیا، گو کہ میں نے دونوں شکایتیں ڈی جی نیب سے کہیں، جنہوں نے نیب اہلکاروں کو ایسی حرکت کرنے سے روک دیاہے، لیکن میں بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر کمر تکلیف کی وجہ سے مجھے کچھ ہوا تو میں ایف آئی آر عمران خان اور شہزاد اکبر کیخلاف درج کراؤںگا‘‘۔یہ سننے کے بعداحتساب جج جوادالحسن صاحب نے کہا، نیب والوں کو پتا ہونا چاہئے کہ ملزم سابق وزیراعلیٰ، کوئی غیر انسانی سلوک برداشت نہیں کیا جائے گا، آئندہ ایسی شکایت نہ ہو، انہیں وقار کے ساتھ کھانا دیا جائے، نیب پراسیکیوٹر بولا’’سر ہم نے تو انہیں قیدخانے میں نہیں بلکہ علیحدہ کمرے میں رکھا ہوا‘‘،یہاں سعد رفیق یاد آگئے، جنہوں نے ایک پیشی پر گلہ کیا، مجھے ناشتے میں کچا انڈااور ٹھنڈے سلائس دیئے گئے،

ایک پیشی پر سعد رفیق نے کہا، آج مجھے اور خواجہ سلمان رفیق کو 60سال پرانی گاڑی میں لایاگیا ہے، ایک گھنٹے جھٹکے کھا کھا کرہم عدالت پہنچے ہیں، حالانکہ سب کو پتا ہے، میری ٹانگ میں درد، اب آپ خود اندازہ لگا لیں، یہ ہے ظالم، کالے قوانین والا نیب، یہ ہے انتقامی احتساب، اسی ملک میں عام قیدی قید خانوں ، حوالاتوں میں رُل رہا، ایک ایک بیرک میں بیسوؤں قیدی، اندر کھانا، اندرباتھ روم، قدم قدم پر بے عزتی، گالیاں، چھتر، یقین مانئے،پاکستان میں تو کروڑوں آزاد رُل رہے، وقار نہ کھانا،یہ کس عدالت جائیں، کس سے شکایت کریں؟کیا کریں، کل موضوع کراچی بارشیں، پھر موٹروے پر ریپ ہوا تو سب کراچی کو بھول کر اس طرف لگ گئے، پھر نواز شریف نے تقریر فرمائی، سب موٹروے کیس بھول کر اس طرف لگ گئے، اب غداری میچ، کوئی اگلا موضوع ہتھے چڑھے گا تو غداری میچ مک جائے گا، مطلب اگے دوڑ، پیچھے چوڑ، کیاکریں، خیر سے وقار مسعود بحیثیت وزیر مملکت تبدیلی سرکار میں شامل ہوگئے، پرویز مشرف، آصف زرداری، نوازشریف حکومتیں بھگتا کر ریٹائر ہوئے وقار مسعود پھر سے باروزگار ہوئے،خیر سے عمران خان ماضی میں جن معاشی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بناتے تھے، جن مہنگے قرضوں کا باربار ذکر کیا کرتے تھے، وقار مسعود ان سب کے مرکزی کردار تھے، وہ 28جون2013کو ایک ہی دن بنا آڈٹ، بناکسی سے پوچھے، آئی پی پیز کو 480ارب کی ادائیگیاں، جس میں ان کا 37ارب جرمانہ دے دینااورسرکاری50ارب جرمانہ معاف کردینااور 8.25 کی بلند ترین شرح سودپر 5سو ملین یورو قرضہ لینا، وقار مسعود اسحق ڈار کے دست راست تھے، مگر کپتان تو کپتان، جب جی چاہا برا کہہ دیا، جب جی چاہا اچھا کہہ ڈالا، جب جی چاہا چھوڑدیا، جب جی چاہا گلے لگا لیا، کیا کریں، حکومتی دعویٰ تھا کہ ہماری کپاس 15ملین بیلز ہوگی، اب پتا چلا ساڑھے آٹھ ملین بیلز ہوئی مطلب تقربیاً6ارب ڈالر کا نقصان۔کیا کریں،پچھلے دنوں ایک خبر نظر سے گزری کہ ایک لاکھ 50ہزار پاونڈ سالانہ تنخواہ والے برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اپنی تنخواہ کٹوتی پر اس لئے پریشان کہ اب وہ اپنے نومولود بیٹے کیلئے آیا نہیں رکھ سکیں گے، جب سے یہ خبر پڑھی تب سے سوچ رہا، ہمارے نصیب کیوں پھوٹے ہوئے، ہمیں کیوں بنارسی ٹھگ مل رہے، ہمارے تو ایک ایک کوڈو کے بیسوؤں محافظ، ہمارے تو ہر کوڈو کے بچے کے اپنے ملازم، ہمارا تو ہر گونگلو نوکروں، چاکروں میں گھرا ہوا، بورس بھائی آپ کہاں پریشان بیٹھے، یہاں آئیں، چندسال لگائیں اور پھر ساری عمر برطانیہ جاکر کسی ایون فیلڈ میں بچے کی آیا کیا آیا کی بھی آیائیں رکھیں اور انجوائے کریں۔