جب شہباز شریف وزیراعلیٰ تھے تو میں آئے روز انکے دفتر فیکس اور فون کرتا ، ملنے کا وقت مانگتا مگر ۔۔۔۔۔ عثمان بزدار نے اپنے ماضی اور وزارت اعلیٰ کے پہلے روز کا حیران کن واقعہ ارشاد بھٹی کو بتا دیا ، آٌپ بھی جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) وقفے وقفے سے برستی بارش ،بھیگی بھیگی سہ پہر، اسلام آباد،پنجاب ہاؤس، وزیراعلیٰ عثمان بزدار میرے سامنے بیٹھے، رسمی علیک سلیک ہوئی ،میرا پہلا سوال، یہ لائسنس کا کیا معاملہ ،بولے ، سب جھوٹ ، مجھے علم نہ میرا کام ،جو کیا ڈی جی ایکسائز نے کیا، میں نے بات کاٹی،

مگر ڈی جی ایکسائز تو وعدہ معاف گواہ بن چکا۔نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔اس کا کہنا میں نے تو جوکچھ کیا وزیراعلیٰ کے حکم پر کیا، کہنے لگے ، میرا کوئی تحریری حکم نامہ، کوئی ثبوت کہ یہ سب میں نے کروایا، میں نے کہا، سنا جارہا، لائسنس جاری کرنے کے عوض آپ کے عزیز نے 5کروڑ رشوت لی ،مسکرا کرکہا، رشوت کا کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں ،میں نے پوچھا ،کیا لاہور ،تونسہ ٹھیکے گھپلوں والی بات بھی جھوٹی، بولے، بالکل جھوٹی۔کوئی ایک گھپلا ثابت کردیں، میں نے کہا، ٹھیکیدار تنویر کون ہے جس کو ہر ٹھیکہ مل رہا ،کہنے لگے، کون تنویر، میں نہیں جانتا، میں نے کہا،آپ ٹھیکیدار تنویر کو نہیں جانتے ،بولے ،نہیں جانتا،کہا، تونسہ شریف میں دو ٹھیکیداروں کی کہانیاں زبان زدعام ،یہ بھی سناجارہا،آپ نے اپنے بھائیوں ،عزیزوں ،فرنٹ مینوں کے نام پر کافی زمینیں خریدلیں ، بولے ، میں نے بھی یہی سنا ہے، کیس نیب میں ،کچھ ہواتو سامنے آجائے گا، میں نے کہا۔اتنی کہانیاں ،اتنے الزامات ،بات اثاثوں تک پہنچ چکی کیوں، کہنے لگے، ساؤتھ پنجاب کا ایک غریب شخص وزیراعلیٰ بن گیا، ایلیٹ کلاس ،وڈیروں کو یہ ہضم نہیں ہورہا، بس اتنی سی بات ہے۔میرا اگلا سوال تھا ،پنجاب میں گورننس ،پرفارمنس کا اتنا برا حال کیوں، کہا،دوسالوں میں بہت کچھ کیاہے،عنقریب سب کارکردگی سامنے لائیں گے، میں نے کہا، مصنوعی مہنگائی ،مسلسل بڑھتے جرائم ،ٹوٹی پھوٹی سڑکیں ،ہر محکمے میں بدعنوانی کی کہانیاں،آٹا،گندم ،چینی بحران ،یہ ہے آپ کی کارکردگی، بولے، گیارہ ساڑھے گیارہ کروڑ کا صوبہ،

مسائل ،مصائب کا انبار، بہت کچھ کیا، بہت کچھ کرنا باقی، میں نے بات کاٹ کر کہا، کیا کیا ہے چلو یہی بتادیں،بولے،ہفتہ دس دن رک جائیں۔ہم سب بتانے والے، میں نے کہا، یہ کیسی کارکردگی جونظر نہیں آرہی، بولے،عمران خان اکثر کہتے ہیں کہ عثمان تم پکے مسلمان ہو،نیکی کردریا میں ڈال ، یعنی کسی کو کچھ بتاتے ہی نہیں، میں نے کہا، عمران خان آپ پر اتنا اعتمادکیوں کرتے ہیں، بولے، یہ ان کی مہربانی ہے ،میں نے کہا، اس اعتما دکی وجہ کوئی روحانی تعلق تو نہیں ،بولے، روحانیت کی ایک پوری دنیا، روحانی لوگوں سے ملتاہوں، درباروں، درگاہوں پرجاتاہوں، دعائیں لیتا ہوں۔میں نے پوچھا، کبھی سوچاتھاوزیراعلیٰ بن جائیں گے، کہا،بالکل نہیں، پوچھا، وزیراعلیٰ بن کر پہلے دن دفتر گئے ،کیا احساسات تھے،بولے،اللہ کا شکر اداکررہا تھااور ہاں میں 5سال ہر ماہ شہباز شریف کو فیکس کرتا ،ملنے کی درخواستیں کرتا،مگروہ 5سال مجھے نہیں ملے، سوچ رہا تھا، اب اللہ نے مجھے وزیراعلیٰ بنادیا۔کیا یہ سچ ہے کہ آپ نے کراچی نہیں دیکھا، قہقہہ مارکر بولے، یہ ہوائی کہانی کہ میں نے کراچی نہیں دیکھا یا مجھے لاہور کا کچھ پتا نہیں ،میں کراچی جاچکا، مجھے لاہور کی ایک ایک سڑک کا علم ، بلکہ میں 2001میں بحیثیت اسٹیٹ گیسٹ امریکہ جاچکا،پوچھا، یہ سچ کہ آپ کو موبائل فون کے بارے میں کچھ زیادہ پتا نہیں، کہا،ہاں یہ سچ ،کال کرنا ،کال سننا یا کبھی کبھار وٹس ایپ میسج بس، پوچھا،یہ سچ کہ آجکل سوئمنگ سیکھی جارہی ، کہا،ہاں ابھی سیکھ ہی رہا ہوں، ٹیوب کے ساتھ سوئمنگ کرکے مزاآتا ہے،انجوائے کرتاہوں،