شریف اور زر والے استاد گرامی حسن نثار کی ایک قول کی منہ بولتی تصویر بنے ہوئے ہیں ۔۔۔ ارشاد بھٹی کی ایک انمول تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) دل سے دعا، اللہ نواز شریف، زردرای صاحب کو صحت عطا فرمائے، صحت، بیماری پر نو ایسی ویسی بات، نو ٹھٹھہ، مذاق، ہاں مجھے گلہ اپنے نظام سے، یہ کیوں، کوئی بڑا ملزم ہو یا مجرم، سب کچھ دسترس میں،زرداری صاحب ملزم، ہر لمحہ بلڈ پریشر، شوگر معائنے، میڈیکل بورڈ،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ فزیو تھراپیاں، ہر قسم کی دوائیاں، گھر کے کھانے، چہل قدمیاں، سب کچھ پہنچ میں، پاکستان کا کوئی عام ملزم، جسے اس سے آدھی سہولتیں بھی مل رہی ہوں، نواز شریف مجرم، 9میڈیکل بورڈ بن چکے، دورانِ اسیری 5اسپتالوں میں آجا چکے، 7میڈیکل رپورٹیں بن چکیں،جیل ہو یا نیب کا وی آئی پی ڈے کئیر سینٹر، ڈاکٹر، نرس، ایمبولینس 24گھنٹے کیلئے موجود، گھر کے کھانے، ٹی وی، فریج، مشقتی، ہر سہولت میسر، ایک مجرم کو یہ سہولتیں، یہ سہولتیں تو 95فیصد عوام کے نصیب میں نہیں، اچھا یہ چھوڑیں، دنیا میں کہیں ایسا ہوا کہ ملزم جیل سے سیدھا پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے، جیل سے نکل کر سیدھا منسٹر کالونی بنگلے میں آجائے، مطلب وہ شہباز شریف جن پر پبلک منی خورد برد الزامات، اُنہیں پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بنادیا گیا۔باقی چھوڑیں، چوہدری شوگر ملز کیس، نواز شریف کی 11روزہ نیب حراست، نیب لاہور دفتر میں میاں صاحب کا حراست خانہ، وسیع و عریض کمرہ اٹیچ باتھ، ڈائننگ، ڈرائنگ رومز، لان، فریج، ٹی وی، کھانے پینے، سونے جاگنے، چلنے پھرنے کے ٹائم ٹیبل، نواز شریف جیسے ہی کوٹ لکھپت جیل سے اس وی آئی پی حراست خانے پہنچیں، ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی پہنچ جائے، ایک گھنٹے کا چیک اپ، کھانا پینا، دوائی سب کچھ طے ہو،19اکتوبر کو ڈاکٹر عدنان دوسری مرتبہ آئے، 40منٹ ساتھ رہے، معائنہ ہوا، پھر سے دوائیاں، خوراکیں ڈسکس ہوں، سوموار 21اکتوبر کو ڈاکٹر عدنان تیسری مرتبہ آئے، اس بار شریف میڈیکل کمپلیکس سے ایکسرے مشین، ای سی جی مشین، 3اسسٹنٹ بھی ساتھ،

میاں صاحب کا دو ڈھائی گھنٹے کا تفصیلی معائنہ، خون، پیشاپ کے نمونے لئے گئے، شام کو ٹیسٹ رپورٹیں آئیں، خون میں پلیٹ لیٹس کی کمی، ڈاکٹر عدنان ٹویٹ فرمائیں،لیگی سیاستدانوں کے ’زمین پھاڑو‘ بیانات شروع، ڈھائی تین درجن احتجاجی نیب دفتر کے باہر آپہنچیں، میڈیا سنسنی خیزی، نیب، ڈاکٹر عدنان سے پوچھے، حضور کیا حکم، وہ کہیں، میاں صاحب کو اسپتال لے جانا ضروری، نیب نواز شریف سے کہیں، قبلہ اسپتال چلیں، جواب ملے، میں یہاں ٹھیک، مجھے نہیں جانا اسپتال، اتنے میں شہباز شریف کا نیب حکام سے رابطہ ہو، انہیں درخواست کی جائے، آپ آئیں، میاں صاحب کو اسپتال جانے پر راضی کریں، نواز شریف کو پتا چلے شہباز شریف آرہے، بولے، نہیں ملنا مجھے شہباز سے، میں سونے جارہا، بڑی مشکلوں سے شہباز شریف سے ملنے پر راضی کیا جائے اور پھر بڑی مشکلوں سے شہباز شریف انہیں اسپتال جانے پر راضی کریں۔اب 11روزہ نیب حراست میں، 3بار اپنے ڈاکٹر کے معائنے، دوبار شہباز شریف کی ملاقات، ایک دفعہ نواسوں سمیت پورے خاندان کا ملنا، دو ڈاکٹروں، ایمبولینس کا 24گھنٹے موجود رہنا، دن میں چار چار مرتبہ گھر سے من پسند چیزیں منگوانا، یہ سب چھوڑ دیں، کبھی سنا، نیب کسی مجرم کو منا رہا ہو کہ حضور اسپتال چلیں، آپ کو یاد ہی ہوگا ملزم میاں جاوید کی ہتھکڑیوں میں لاش، ہارٹ اٹیک ہوا، جب تک کاغذی کارروائی پوری ہوئی، تب تک سانس پورے ہو چکے، وہ ضعیف بوڑھے استادوں کو لگی ہتھکڑیاں اور سنیے،میاں صاحب ذرا ذرا سی بات پر روٹھ جائیں، نیب افسر منا منا تھک جائیں، ذرا سی بات طبیعت کیخلاف ہوجائے

میاں صاحب ناراض، کسی سے ملوں گا نہ کھانا کھاؤں گا، ظاہر ہے کھانا نہیں کھائیں گے تو دوائیاں کیسے کھائیں گے،بس پھر کیا، نیب کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں، ترلے، منتیں شروع، یہ بھی سنیں، میاں صاحب ڈاکٹر عدنان کے علاوہ کسی سے بلڈ پریشر بھی چیک نہ کروائیں، ان کی خواہش میرا معائنہ ڈاکٹر عدنان کرے، ہر ٹیسٹ شریف میڈیکل کمپلیکس سے ہو، اب آپ ہی بتائیں، کیا اس ملک کی 90جیلوں میں صرف نواز شریف، زرداری صاحب ہی انسان، باقی سب جانور قید، ان کی یہ آؤبھگت کیوں، باقیوں کو کھانسی کا لال شربت یا سردرد کی ایک گولی کیلئے کیوں ہفتہ ہفتہ تڑپنا پڑے۔اب آجائیے تصویر کے دوسرے رُخ کی طرف، اسلام آباد کے پہنچے ہوئے ’بڈھے پرندے‘ بتا، سنا رہے کہ نواز شریف سے جیل میں ایک اہم ملاقات ہو چکی، انہیں کوٹ لکھپت جیل سے نیب دفتر اس لئے لایا گیا کہ جیل میں رازداری مشکل، بات باہر نکلنے کا خطرہ، نیب دفتر شہر سے ہٹ کر، آنے جانے کے کئی راستے، شام کے بعد سب کچھ بڑی رازداری سے ہو سکے، ’بڈھے پرندے‘ بتائیں کہ نواز شریف، مریم کو بہت ساری سہولتیں مل چکیں، باقی یہ سب رائی کا پہاڑ بنانا باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ہورہا، وفاقی دارلحکومت کے ان پہنچے ہوئے لوگوں کا کہنا زرداری صاحب بھی رابطے میں، واللہ اعلم بالصواب۔اب صورتحال یہ، ایک طرف نواز شریف کو بیماریوں سے زیادہ ڈپریشن نے گھیرا ہوا، دل کے مریض نواز شریف کا ایک مسئلہ ان کی خوش خوراکی، ہر وقت کھائیں، ہر شے کھائیں، پرہیز سرے سے ہی نہیں، ابھی گزری گرمیوں میں ایک دن ڈاکٹر سے کہنے لگے’’پلیز آم کھانے سے منع نہ کرنا، آموں کا سیزن گزر لینے دو، بعد میں پرہیز سخت کر لیں گے‘‘ دوسری طرف زرداری صاحب بیماریوں کی وجہ سے ڈپریس، پچھلے ہفتے تو طبیعت اتنی خراب، پی پی سیاستدانوں نے اہم صحافیوں، ٹی وی اینکروں کو وٹس ایپ کالیں کرکے کہا کہ زرداری صاحب کی صحت پر بات کریں،وہ بہت بیمار، زرداری صاحب جن دنوں نیب اسلام آباد کی حراست میں تھے، تب بتایا گیا، ہر وقت مساج چیئر پر بیٹھے رہنے والے زرداری صاحب کی صحت کے حوالے سے خطرناک چیز ان کا بلڈ پریشر اور شوگر، لمحہ بھر میں بلڈ پریشر آسمان پر، لمحہ بھر میں زمین پر، اسی طرح لمحہ بھر میں شوگر آسمان پر لمحہ بھر میں زمین پر۔یقین مانیے، جب بھی نواز شریف اینڈ فیملی، زرداری صاحب اینڈ کمپنی کا سوچوں، پہلا خیال یہی، کیوں اتنا اکٹھا کر لیا، بڑھاپے میں حساب دینا مشکل، اتنی دولت، جائیدادیں کس کام کی کہ اب گلے کا پھندا بنی ہوئی، اتنا کچھ، کیا نوٹ کھانے تھے،پھر سوچتے سوچتے جب یہ ارشاد باری تعالیٰ یاد آئے ’’اولاد اور مال آزمائش‘‘ تب یقین ہو جائے، استادِ گرامی حسن نثار کے یہ 24قیراط کھوٹے، یہ بنارسی ٹھگ اسی آزمائش سے دوچار۔(ش س م)