رشتے ناطے انسان کو پاگل بھی کر دیتے ہیں ۔۔۔۔ ایسے ہی ایک شخص کی حیران کن کہانی ارشاد بھٹی کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) اب کل کیا ہوگا، کل کیا ہوجائے، یہ علیحدہ بات لیکن یقین مانیے، اس گھڑی تک آزادی مارچ، دھرنے، لاک ڈاؤن، حکومت، اپوزیشن، عمران خان، مولانا صاحب، نواز شریف، شہباز شریف، بلاول، زرداری صاحب، اے پی سی، رہبر کمیٹی، پی پی، (ن)لیگ،جمعیت علمائے اسلام، بھانت بھانت بیان بازیاں، متضادی تقریریں،

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ لمحہ بہ لمحہ بدلتے مؤقف، اپنی حالت تو اس پاگل جیسی جس سے جب ڈاکٹر پوچھ بیٹھا، تمہاری یہ حالت کیسے ہوئی، لمحہ بھر سوچ کر پاگل بولا ’’ڈاکٹر صاحب مجھے تو رشتوں نے پاگل کردیا‘‘،ڈاکٹر نے پوچھا، وہ کیسے؟ پاگل نے کہا ڈاکٹر صاحب میں نے ایک بیوہ عورت سے شادی کی، اس عورت کی ایک جوان بیٹی تھی، کچھ عرصے بعد میرے والد نے میری اس سوتیلی بیٹی کے ساتھ شادی کر لی، اب میرا والد، میرا باپ بھی اور میری سوتیلی بیٹی سے شادی کے بعد میرا داماد بھی،جبکہ میں اپنے والد کا بیٹا بھی، اپنے والد کا سسر بھی، ہم ایک دوسرے کے سمدھی بھی، میری بیوی میرے والد کی بہو بھی، ساس بھی، سمدھن بھی، میری بیوی کی بیٹی میرے والد کی بیوی بھی، پوتی بھی، میری والدہ بھی، میں اپنی سوتیلی بیٹی کا والد بھی، بیٹا بھی، میری سوتیلی بیٹی میری بیوی کی بیٹی بھی، میری بیوی کی ساس بھی، ایک سال بعد میرے اور میرے والد کے ہاں ایک ایک بچہ پیدا ہوا، میرا بیٹا اب میرے والد کا پوتا بھی، سالا بھی، اسی طرح میرا بیٹا میری ماں کا پوتا بھی، بھائی بھی، دوسری طرف میرے والد کا بیٹا میرا بھائی بھی، میرا نواسہ بھی، میرے والد کا بیٹا میری بیوی کا نواسہ بھی، میری بیوی کا دیور بھی۔۔۔ اور۔۔ اور۔۔۔ پاگل ابھی یہیں پہنچا تھا کہ ڈاکٹر کی ہمت جواب دے گئی، چیخ کرکہا، چپ۔۔۔چپ ہو جاؤ ورنہ میں بھی پاگل ہو جاؤں گا۔ یقین مانیے، ان دنوں اپنے سیاستدانوں کی آپس کی تہہ در تہہ رشتے داریوں نے اپنا حال بھی اس بھلے مانس پاگل جیسا کر دیا۔(ش س م)