کہاں سے آئے یہ جھمکے، کس نے دیئے یہ جھمکے، کون لایا یہ جھمکے والے علاؤالدین مرحوم کی قبر پر ان دنوں کیا منظر دیکھنے میں آتا ہے ؟ ارشاد بھٹی کی ایک انوکھی اور سبق آموز تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) یہ وقت کسی کا نہ ہوا، ساحر لدھیانوی، کبھی کبھی میرے دل میں خیال آتا ہے، میں پل دوپل کا شاعر ہوں، پل دو پل میری کہانی ہے، ابھی نہ جاؤ چھوڑ کر کہ دل ابھی بھرا نہیں جیسی شاعری کا خالق عبدالحی المعروف ساحر لدھیانوی، امرتا پریتم کے عشق میں

نامور کالم نگار ارشاد بھٹی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کالج سے نکالا گیا، لاہور آیا، ترقی پسند نظریات کی بدولت وارنٹ جاری ہوئے، ہندوستان چلا گیا : یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا ،۔۔ یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا ۔۔ یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا ۔۔ یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے ۔۔ انقلابی، رومانوی ساحر لدھیانوی، وزیراعظم نہرو جس کا پرستار، بھارتی فلم انڈسٹری ہیروئنز دیوانی، ایک دنیا چاہنے والی : تیرا ملنا خوشی کی بات سہی ۔۔ تجھ سے مل کر اداس رہتا ہوں ۔۔ شاعر، نغمہ نگار، ساحر لدھیانوی، 59سال کی عمرمیں ہارٹ اٹیک ہوا، وفات پائی مگر آج بھی زندہ، پتا ہے آج ساحر لدھیانوی کیوں یاد آرہا، وجہ یہ خبر، ممبئی کی فلم ہیری ٹیج فاؤنڈیشن کو کباڑ خانے سے پرانے دیمک زدہ اخباروں، رسالوں کے ڈھیر سے ساحر لدھیانوی کے قیمتی خط، ڈائریاں، شاعری اور بلیک اینڈ وائٹ تصویریں مل گئیں، فاؤنڈیشن نے یہ سب 3ہزار روپے میں خرید لیا، ساحر لدھیانوی کی ڈائریاں، اپنے ہاتھ سے لکھی ذاتی باتیں، گانے کی ریکارڈنگ کہاں، شام کو کون ملنے آرہا، کس سے ملنے جانا، اپنے ہاتھ سے لکھی نظمیں، تب کے معروف موسیقار روی، انکے شاعر دوست ہربنس کے انگریزی، اردومیں لکھے خط، ساحرکی بہنوں، دوستوں کی پنجاب والے گھر کی تصویریں، فلم ہیری ٹیج کے بانی شوندرا سنگھ دنگا پور کہہ رہے، ماہرین نظموں کی جانچ پڑتال کر رہے، پتا چل سکے کہ کون سی نظمیں غیر مطبوعہ، ہمیں جہاں یہ خوشی اتنی نایاب چیزیں ہاتھ لگیں، وہاں یہ دکھ بھی اتنی نایاب چیزیں کباڑ خانے میں۔

یہ وقت کسی کا نہ ہوا، یہ خبر باربار پڑھی، ہر بار 3لفظی کہانی، ساحرلدھیانوی، کباڑ خانہ، 3ہزار، ناقابلِ یقین، وہ شاعر، 50ساٹھ سال پہلے جسکا ایک ایک لفظ 3ہزارکا، اس کا نایاب ریکارڈکباڑ خانے میں، قیمت 3ہزار، میں جب فٹ پاتھوں، سستے بازاروں میں زمین پر پڑی کتابیں دیکھوں، سوچوں، اگر ان بڑے لکھاریوں کو یہ معلوم ہوتا کہ انکے خون پسینے کا مقدر فٹ پاتھ، سستے بازار تو کیا وہ یہ سب لکھتے، شائع کرواتے، یہ وقت کسی کا نہ ہوا، 95 سالہ دلیپ کمار کو دیکھ لیں، وہ بال جو کبھی فیشن تھے، وہ بال غائب، وہ چہرہ جس کے ایک ایک تاثر پہ لاکھوں دل دھڑک دھڑک جاتے، وہ چہرہ ہر تاثر سے عاری، وہ آنکھیں جس میں مدھو بالا تک ڈوب گئی، وہ آنکھیں بجھی راکھ، چمچوں سے منہ میں نرم غذائیں ڈالتی، بچوں کی طرح ہونٹوں سے بہتی رالیں صاف کرتی سائرہ بانو، وہ سائرہ بانو جس نے بحیثیت بیوی، محبت، وفا، خدمت کا وہ معیار قائم کر دیا، رشک آئے، ایسا تو فلموں میں بھی نہ ہو۔ یہ وقت کسی کا نہ ہوا، فردوس مارکیٹ لاہو رکے نواحی قبرستان میں عوامی اداکار علاؤ الدین کی قبر، اب وہاں کوئی نہیں آتا، کہاں سے آئے یہ جھمکے، کس نے دیئے یہ جھمکے، کون لایا یہ جھمکے والا علاؤالدین بھلا دیا گیا، اسی قبرستان کے ایک کونے میں وحید مراد لیٹا ہوا، سال بھر میں کوئی آجائے تو غنیمت، یہ وہی وحید مراد جو پاکستانی فلم انڈسٹری کا سپراسٹار تھا، چاکلیٹی ہیرو، بالوں کا اسٹائل، بولنے کا انداز، رومانوی مکالمے بازی، گانوں کی عکس بندی، سب سپر ہٹ،

مگرآج وحیدمراد کس کویاد، یہ وقت کسی کا نہ ہوا، کہاں گئے، سنتوش، درپن، کدھر گئے منورظریف، ننھا، اکمل، مظہر شاہ، اقبال حسن، اسلم پرویز، آغاطالش، یوسف خان، الیاس کشمیری، کہاں ہیں نور جہاں، صبیحہ خانم، فردوس، حسنہ، نسیم بیگم، نیر سلطانہ، رانی، روزینہ، سلونی، یہ وقت کسی کا نہ ہوا، قربِ قیامت کی نشانیاں، آج ہمایوں قریشی، افضال احمد مفلوج زندگیاں گزار ہے، روحی بانوپاگل ہو کر مرچکی، رنگیلا، ببو برال جیسے حمزہ شہباز کے چیکوں کا انتظار کرتے کرتے قبروں میں اتر گئے، ناہید اختر کو پیسوں کیلئے شہباز شریف کی چوکھٹ کھٹکھٹاناپڑی، وہ تصور خانم جو گانا گاتے ہوئے ذرا سا اپنے ناک کو آڑھا ترچھا کرتیں جسموں میں کرنٹ دوڑ جاتے، اس تصور خانم کو پچھلے سال وزیراطلاعات مریم اور نگزیب کے پیچھے بھاگتے دیکھا، ابھی چند دن پہلے ایک ویڈیوکلپ نظر سے گزرا، آنکھیں بھیگ گئیں، فلم اسٹار علی اعجاز ہچکیوں میں بتا رہے، جب برا وقت آیا، پاس کچھ نہ رہا، ایک دن سڑک پر رکشے کو ہاتھ دیا، رکشہ نہ رکا، ساتھ دولڑکے گزر رہے تھے، ایک بولا ’’وہ دیکھو علی اعجازفلموں والا‘‘، دوسرا بولا ’’ہاں، رکشے کو روک رہا تھا، نہیں رکا، پتا نہیں ان اداکاروں کی اخیر اتنی خراب کیوں‘‘، علی اعجاز کہنے لگے ’’یہ سننا تھا کہ میں منہ دوسری طرف کر کے وہیں کھڑا رونے لگ گیا‘‘۔ یہ وقت کسی کا نہ ہوا، ساغر صدیقی، ناصر کاظمی، استاد دامن، حبیب جالب ہوا کرتے تھے، خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ایک دن حکومت ِ وقت نے سرکاری گھر خا لی کرانے کیلئے احمد فراز کا سامان اُٹھا کر باہر سڑک پر پھینک دیا، ابھی کل ہی ’دل دل پاکستان ‘کے خالق نثار ناسک، ڈاکٹر انور سجاد کسمپرسی کے عالم میں مرے اور میں سب کچھ بھول سکتا ہوں مگر یہ منظر نہیں، سردیوں کی رات، اسلام آباد کے فائیو اسٹار ہوٹل کاتاریک کونہ، بہت بڑا فنکار، بیٹی بیمار، ہاتھ باندھ کر ایک لاکھ کا سوال، میں کئی مہینے دکھی رہا، یہ وقت کسی کا نہ ہوا، ذرا سوچئے، ہندی فلم انڈسٹری کا دوسرا فلم فیئر ایوارڈ جیتنے والا، پدماشری ایوارڈ یافتہ، ساحرلدھیانوی اور ممبئی کے نواحی علاقے جوہوکا کباڑ خانہ، نایاب ریکارڑ، قیمت 3ہزارمیں، یہ وقت کسی کا نہ ہوا، ساحر لدھیانوی کے ہی شعر:کس لیے جیتے ہیں ہم کس کے لیے جیتے ہیں ۔۔ بار ہا ایسے سوالات پہ رونا آیا ۔۔ کون روتا ہے کسی اور کی خاطر اے دوست ۔۔ سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا۔(ش س م)