ملا جی : جب نواز شریف قادیانیوں کو بھائی بہنیں اور بھگوان اور خدا کو ایک جیسا کہہ رہا تھا تب آپ کیوں خاموش تھے ؟ مظہر برلاس کے مولانا فضل الرحمٰن سے 7 ایسے سوالات پوچھ لیے جن میں ایک کا جواب بھی انکے پاس نہ ہو گا

لاہور (ویب ڈیسک) عمران حکومت گرانے کے خواب دیکھنے والے مولانا فضل الرحمٰن کے خیالات اور مقاصد کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے روزنامہ جنگ کے کالم نگار مظہر عباس لکھتے ہیں ۔۔۔ میں مولانا فضل الرحمٰن صاحب سے چند سوالات پوچھنا چاہوں گا ۔ مولانا صاحب! بتانا پسند فرمائیں گے کہ وہ ایسی

جماعت کا صد سالہ جشن کیوں مناتے ہیں؟ مولانا صاحب سے چند سوال کچھ اور پاکستانیوں نے کئے ہیں:(1) باجوڑ مدرسے اور لال مسجد میں شہادتیں ہوئیں، آپ خاموش رہے۔(2) جب ایک سفارت خانے کو سینکڑوں کنال اراضی دی جا رہی تھی اور جب آپ کی محبوب حکومتیں سینکڑوں امریکیوں کو دھڑا دھڑ ویزے جاری کر رہی تھیں، کیوں خاموش رہے؟(3) عافیہ صدیقی کی حوالگی، ممتاز قادری کی گرفتاری اور پھانسی پر چپ رہے، کیوں؟(4) جب نواز شریف نے قادیانیوں کو بھائی بہنیں کہا، میڈیا کے روبرو خدا اور بھگوان کو ایک ہی کہا، کیوں چپ رہے؟(5) کارگل پر غلط فیصلے پر کیوں خاموش رہے؟(6) جب پرویز رشید نے مدرسوں کو جہالت کی فیکٹریاں کہا، جب ختم نبوتؐ کی ترمیم کو نواز دور میں چھیڑا گیا، آپ کیوں نہ نکلے؟(7) دس برس کشمیر کمیٹی کے چیئرمین رہے اور کشمیر کا تذکرہ نہ کر سکے، کیوں؟آخر میں وصی شاہ کا شعر وضاحت کیلئے کافی ہے کہ۔۔۔یہ تو چلتی نظر نہیں آتی۔۔اس محبت میں جان ہے ہی نہیں۔ (ش س م)