ملک وقوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کا ایک ہی طریقہ : وہی جو پانامہ میں سزا یافتہ ہونے پر چین کی عدالت نے 2007 میں اپنے ایک شہری پر لاگو کیا ۔۔۔۔ چند روز قبل چین کا دورہ کرنے والے کالم نگار مظہر برلاس کی خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) یکم اکتوبر 1949ء کو بیجنگ میں عوامی جمہوریہ چین کی بنیاد رکھنے والے مائوزے تنگ ہمارے قومی شاعر علامہ اقبالؒکی طرح ایک شاعر، فلاسفر، سیاست دان اور مصنف تھے ، مائو میں انقلابی جذبہ بہت تھا، انہوں نے خانہ جنگی میں چینی کمیونسٹ پارٹی کی قیادت کرتے ہوئے کامیابی حاصل کی، مائو نے چینیوں کو

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔ بتایا کہ تم ایک قوم ہو، مائو نے اپنی قوم کو ایسا سبق پڑھایا کہ چینی آج بھی چینی زبان پر ہی فخر کرتے ہیں۔چینی پاکستانیوں کی بہت قدر کرتے ہیں، شاید اس کی بڑی وجہ یہ ہو کہ پاکستان نے اسے سب سے پہلے تسلیم کیا، پاکستان نے چین اور امریکہ کو قریب لانے میں کردار ادا کیا، پاکستان ہی نے چین کو مسلم دنیا سے متعارف کروایا، چین کو اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل تک پاکستان ہی لے گیا۔چین نے قریباً نصف صدی اپنے دروازے دنیا کیلئے بند رکھے مگر چینی کام میں لگے رہے آج چین کی ترقی سر چڑھ کر بولتی ہے، امریکہ، چین کا مقروض ہے، دنیا چینیوں کی ترقی کو حیرت کی نگاہوں سے دیکھ رہی ہے۔دنیا کو حیرت میں مبتلا کر دینے والا چین اب بھی پاکستان پر فریفتہ ہے، چینی پاکستان کی ابتدائی نیکیاں ابھی تک نہیں بھولے بلکہ مجھے پیپلز پارٹی کے سابق رکن اسمبلی اخوندزادہ چٹان نے بتایا تھا کہ چینی اپنے ابتدائی نصاب میں اپنے بچوں کو بتا دیتے ہیں کہ پاکستان چین کا محسن ہے، یہ شہد سے میٹھی، سمندروں سے گہری اور ہمالیہ سے بلند دوستی چینی نصاب کا حصہ ہے ۔چین کی ترقی میں چین کے انقلابی لیڈروں کی سوچ کا بنیادی کردار ہے، آپ مائو کے بغیر چین کو کیسے دیکھ سکتے ہیں،چو این لائی کے بغیر خارجی کامیابیاں چین کے لئے ممکن نہ تھیں، اسی طرح آپ زائو ژیانگ، لی پینگ، دین جیابائو، لی شیان نیان، ہوجنتائو اور موجودہ صدر شی جن پنگ کو نظرانداز نہیں کر سکتے، ان رہنمائوں نے ایک طرف

چین کی ترقی پر توجہ دی تو دوسری طرف چین کو جنگوں سے بچا کر رکھا ۔چین طاقتور ہے مگر کسی سے لڑنا نہیں چاہتا بلکہ اپنے ساتھ قریبی ملکوں کو ترقی کرتے دیکھنا چاہتا ہے ۔چین میں اگرچہ پارٹی بادشاہت ہے مگر اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ چین میں کوئی کرپٹ آدمی بچ جائے ، میرے نزدیک چینیوں کی ترقی کا راز یہی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے آدمی کی کرپشن برداشت نہیں کرتے، چین کیسے ترقی کر گیا، اس کو سمجھنے کیلئے میں ایک واقعہ آپ کی نذر کر رہا ہوں تاکہ آپ چین کی حالیہ ترقی کے پس پردہ جو اصل بات ہے وہ سمجھ سکیں ،یہ بات آپ نے سمجھ لی تو پھر آپ چین کو بڑے آرام سے سمجھ جائیں گے۔ پانامہ کا نام تو آپ سب پاکستانی بہت اچھی طرح جانتے ہیں، پانامہ میں 2006ء میں تقریباً دو سو لوگوں نے کھانسی کی ایک دوا استعمال کی، اس دوائی کے ا ستعمال کے بعد چالیس افراد مر گئے۔جب 40افراد ہلاک ہوئے تو وہاں کی حکومت نے تحقیقات کیں، پتا چلا یہ دوا چین سے درآمد ہوئی تھی اور یہ مضرصحت تھی ۔پانامہ کی حکومت نے چین کے سفیر کو طلب کیا یہ سارا قصہ بیان کیا، چینی سفیر نے پانامہ حکومت کا احتجاج سنا اور اس سلسلے میں اپنی حکومت کو ای میل کے ذریعے آگاہ کیا۔ چینی حکومت نے تفتیش شروع کی تو ہفتے میں پوری کہانی سامنے آ گئی، معلوم ہوا کہ چین کی فوڈ اینڈ ڈرگ اتھارٹی میں ژینگ ژیانو نام کا ایک ڈائریکٹر تھا، یہ ایک کرپٹ افسر تھا اس نے آٹھ دوا ساز کمپنیوں سے ساڑھے

آٹھ لاکھ ڈالر رشوت لی اور دو درجن ادویات کی منظوری دی ، پانامہ بھیجی جانے والی دوا بھی ان میں شامل تھی۔ ژینگ ژیانو نے یہ تمام کام اپنی ریٹائرمنٹ سے چند دن پہلے کیا تاکہ کسی کو پتا ہی نہ چل سکے کیونکہ ادویات کی تیاری اور انہیں برآمد کرنے میں تو وقت درکار تھا، ژینگ ژیانو سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اس کی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کوئی ’’کٹا‘‘ کھل سکتا ہے ، پولیس نے چھاپہ مارا تو ریٹائرڈ افسر ژینگ ژیانو کو گرفتار کیا، مزید تحقیقات پہ انکشاف ہوا کہ کائوزین زونگ نام کا ایک اور ڈائریکٹر بھی اس مکروہ دھندے میں شامل تھا، وہ بھی غیر معیاری ادویات کی منظوری دیتا رہا، پولیس نے اسے بھی گرفتار کر لیا، یہ ملزمان سالوں یا مہینوں میں نہیں صرف دو ہفتو ں میں مجرم ثابت ہوئے، کیس عدالت میں پیش کیا گیا چینی عدالت نے مئی 2007ء میں ژینگ ژیانواور جولائی 2007ء میں کائو زین زونگ کو سزائے موت دی۔ ژینگ ژیانو نے سزا کے خلاف اپیل کی، ژینگ کا کہنا تھا کہ ’’میں اپنا جرم تسلیم کرتا ہوں مگر میری وجہ سے کوئی چینی باشندہ ہلاک نہیں ہوا، میرے خلاف کوئی چینی مدعی بھی نہیں ہے لہٰذا میرے جرم کے مقابلے میں میری سزا زیادہ ہے، میرے ساتھ رعایت کی جائے، میری سزا کم کر دی جائے ‘‘ کوئی لمبا ٹائم نہیں عدالت نے دو ہفتے میں یہ اپیل نمٹا دی جج نے اپنے فیصلے میں لکھا ’’یہ شخص نہ صرف انسانی جانوں کا قاتل ہے بلکہ اس کی وجہ سے چین پوری دنیا میں بدنام ہوا لہٰذا یہ درندہ رعایت کے قابل نہیں‘‘ اپیل مسترد ہونے کے

بعد ژینگ ژیانو کو دس جولائی 2007ء میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، دوسرے مجرم کائو زین ژونگ نے اپیل نہیں کی تھی اسے بھی چند دنوں کے بعد اگلے جہان روانہ کر دیا گیا۔یہ کیس جتنا عرصہ چلتا رہا چینی میڈیا روزانہ اس حوالے سے خبریں شائع کرتا رہا، یوں پانامہ چین میں خاصا مقبول ہو گیا۔آپ اس کیس کا کمال دیکھئے کہ یہ دونوں افراد اگر پانامہ کے شہری ہوتے تو انہیں سزائے موت نہ ہوتی یہ زیادہ سے زیادہ دس برس جیل جاتے یا ان کی جائیداد ضبط کرلی جاتی لیکن چین نے دس ہزار کلو میٹر دور ایک دوسرے ملک میں ادویات کے استعمال سے مرنے والے لوگوں کے بدلے اپنے دو ریٹائرڈ افسروں کو سزائے موت دے دی، کیوں؟کیونکہ چین سمجھتا ہے کہ یہ لوگ ملک کی بدنامی کا باعث بنے ہیں ۔اب آپ پاکستان کی مثال لیجئے تو آپ کو چین کے ترقی کرنے اور پاکستان کے پیچھے رہ جانے کی سمجھ آ جائے گی۔ہمارے ہاں جعلی ادویات کا کتنا کاروبار ہے مگر کبھی کسی کو سزا ملی، ہمارے ہاں تو کسی کو درختوں کی یاد نہ آ سکی۔سترسالوں بعد عمران خان ایک ایسا وزیر اعظم آیا ہے جو درخت اگانے کی بات کرتا ہے، جو کرپشن کے خلاف ڈٹ کے کھڑا ہے، یاد رکھنا کرپشن ترقی کے راستے روکتی ہے چینیوں نے کرپشن پر موت کی سزا دے کر ترقی کی رکاوٹوں کو دور کیا،کاش ہمارے ہاں بھی ایسا ہو جائے، کاش ہم چین ہی سے سبق سیکھ لیں مگر پھر شعیب بن عزیز کا شعر یاد آ جاتا ہے کہ ۔۔ یہ خودسروقت لے جائے کہانی کو کہاں جانے ۔۔ مصنف کا کسی کردار میں ہونا ضروری ہے۔(ش س م)