نیکی کبھی کبھی وبال جان اور مصیبت بھی بن جاتی ہے ، مگر کیسے ؟ مظہر برلاس نے بکری باز اور چوہے کا ایک سبق آموز واقعہ بیان کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایک دن باز نے دیکھا کہ بکری شیر کے بچے کو دودھ پلارہی ہے،باز نےبکری سے پوچھا کہ آپ ایسا کیوں کررہی ہیں تو بکری نے بتایا کہ دراصل شیرنی مرگئی ہے اس لئے میں اس کے بچے کو دودھ پلا رہی ہوں، نیکی کرنی چاہئے۔ باز نیکی کا یہ درس لے کر

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ نکل گیا، کچھ عرصے بعد اس نے دیکھا کہ سیلاب میں ٹھٹھرا ہوا ایک چوہا جان بچانے کی کوشش کررہا ہے مگر بپھرا ہوا پانی اس کی جان نہیں چھوڑ رہا، باز کو بکری کا دیا ہوا درس یاد آگیا۔ اس نے پنجہ مارا، چوہے کو پانی سے باہر نکالا اور اسے ایک خشک جگہ پر لے گیا، چوہا سردی سے ٹھٹھرا ہوا تھا، باز نے مزید نیکی کرتے ہوئے اس کے گرد اپنے پر پھیلا دئیے۔ اب چوہا پروں کے نیچے تھا، پروں کی گرمائش سے چند منٹوں میں چوہا متحرک ہوگیا، بس اب اس نے باہر نکلنے کے لئے باز کے پر کترنا شروع کردئیے۔ باز کے پر کٹ گئے تو چوہا کہیں نکل گیا، باز نے اڑنا چاہا مگر پروں کے بغیر کیسے اڑ سکتا تھا، بس وہیں پڑا رہا، جب پر دوبارہ اگے تو سیدھا بکری کے پاس پہنچا، اسے اپنی نیکی کا سارا قصہ سنایا، پھر مشکل پیش آنے والاماجرا بھی بیان کردیا۔ باز غصے میں تھا، بکری سے کہنے لگا، تم کہتی تھیں کہ نیکی کرنی چاہئے، یہ نیکی تو مجھے مہنگی پڑگئی۔ بکری نے باز کی بات سنی اور بڑے آرام سے کہنے لگی۔’’تم نے میری آدھی بات سنی تھی،میں نے کہا تھا نیکی کرنی چاہئے مگر نسل دیکھ کر……‘‘ اس کہانی کا چین سے کوئی تعلق نہیں لہٰذا اس کا کوئی غلط مطلب نہ لیا جائے، یہ تو مجھے بس ایسے ہی پاکستان اور افغانستان کا میچ دیکھنے کے بعد یاد آگئی تھی۔ اس کہانی کا میچ کے بعد پیش آنے والے واقعات سے بھی کوئی تعلق نہیں،

اس کہانی کا افغان مہاجرین سے بھی کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی روسی فوجوں کی آمد کے ساتھ ہی ہمارے ملک میں آنے والے لاکھوں انسانوں سے ہے مگر ایک حقیقت ضرور ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کی بہت عزت کرتے ہیں اور ایک حقیقت یہ بھی ہے، ہم باز کی طرح آدھی بات سنتے ہیں اور جو آدھی کام کی ہوتی ہے اسے سنے بغیر ہی دوڑ پڑتے ہیں۔ چین سے متعلق اس دن ہلکا سے ذکر ہوا تھا مگر بات ادھوری رہی تھی، بات پوری ہونی چاہئے۔ ڈاکٹر ظفر محمود سے میرا کوئی تعارف نہیں تھا، مجھے ان سے شعیب بن عزیز نے متعارف کروایا، جب میری اس سیدھے سادے ظفر محمود سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ’’آپ کے بارے میں منصور آفاق ہمیں بہت کچھ بتاچکے ہیں۔‘‘ میں بھی خاموش ہوگیا کہ پتہ نہیں سادگی میں منصور آفاق نے کیا کیا بتایا ہو۔ سفر میں کسی کو سمجھنے کا بہت موقع ملتا ہے، مجھ میں یہ خامی ہے کہ میں سفر میں اردگرد کے حالات، ماحول اور شخصیات کا جائزہ لیتا رہتا ہوں۔ میرا ڈاکٹر ظفر محمود کے بارے میں خیال تھا کہ انہوں نے زندگی میں بہت محنت کی ہے مگر میرا یہ خیال اس وقت درست ثابت ہوا، جب انہوں نے زندگی کے حالات سے آگاہ کیا۔ ان کے والدین کا تعلق چکوال سے تھا لیکن والد کی ملازمت نے پورا ملک پھرا دیا، ظفر محمود کو والد کی ملازمت کے دوران جہانیاں رہنے کا بھی اتفاق ہوا۔ ڈاکٹر ظفر محمود کا ان دنوں پاکستانی سفارت خانے یا کسی حکومتی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں،

ہاں البتہ ایک زمانے میں یہ تعلق ضرور رہا ہے، وہ 2004سے 2009تک شنگھائی میں پاکستان کے پہلے قونصل جنرل تھے۔ اس سے پہلے 1999سے 2002تک وہ بیجنگ میں پاکستانی سفارتخانے میں کمرشل قونصلر تھے۔ 2015سے 2017تک وہ سی پیک کے سپیشل انوائے سے منسلک تھے، یہ کام انہیں بیجنگ میں کرنا پڑتا تھا پھر ایک دن انہوں نے استعفیٰ دیا اور لاہور آکر ’’انڈراسٹینڈنگ چائنہ‘‘ پر کام شروع کردیا۔ ڈاکٹر صاحب بڑی روانی سے چینی زبان بولتے ہیں بلکہ اکثر اوقات تو یہی تاثر ملتا ہے جیسے موصوف پیدا ہی چین میں ہوئے ہوں چونکہ وہ اچانک چوں چاں شروع کردیتے ہیں۔ چین میں ہمارے وفد کے ساتھ دو چینی لڑکیاں بھی تھیں۔ بالکل بھولی بھالی، ان میں سے ایک ایلی چن تھی، ایلی نے ایم اے انگریزی کر رکھا ہے۔ دوسری تو بالکل گڑیا تھی، ایگنس ژائو، مگر ہم دوسری کو لی کہتے تھے۔ اس کے اندر محبت جاگتی تھی، اس پر مادہ پرستی کا غلبہ بالکل بھی نہیں تھا۔ یہ پرانی محبت بھری کہانیوں کا ایک کردار لگتی تھی۔ وفد میں لاہور پریس کلب کے سابق صدر محسن گورایہ بھی تھے، محسن گورایہ سے پرانی یاری ہے۔ پنجابی کا یہ عاشق دلچسپ آدمی ہے، ویسے تو دلچسپی سے خالی میاں سیف الرحمٰن بھی نہیں ہیں، انگریزی اخبار دی نیوز سے وابستہ ہونے کے باوجود اردو کے علاوہ پنجابی کے لاہوری تڑکے کو نہیں بھولتے۔ آصف عفان صرف لکھنے والا نہیں، بولنے والا بھی ہے۔ وہ آپ کو بور نہیں ہونے دیتا، اس کی فنکاریاں جاگتی رہتی ہیں۔ ڈاکٹر صغرا صدف ہماری طرح کی سیدھی سادی دیہاتی ہیں، شاعرہ، ادیبہ تو وہ ہیں ہی مگر انسانیت سے محبت ان کا خاصہ ہے۔ ہمارے قافلے میں ایک خاموش مجاہد بھی تھا، اس کا نام سجاد جہانیہ ہے۔ یہ کم گو انسان سادہ جاٹ ہے، اس کے آبائو اجداد امرتسر سے آئے تھے سو اس کا لہجہ ابھی بھی امبرسری ہے۔ دریائے چناب ہیڈ مرالہ سیالکوٹ اور گجرات میں شور ڈالتا ہے، جھنگ میں پریت سے بہتا ہے اور ملتان جاکر خاموش ہوجاتا ہے۔ سجاد جہانیہ پراسی دریا کا اثر ہے، وفد میں شامل کومل سلیم گھومنے پھرنے کی شوقین ہیں، انہیں شاپنگ سے عشق ہے، ان کا مزاج ساون جیسا ہے، رہے یاسر حبیب خان تو وہ تو اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان کا نام ہے۔ سید محمد مہدی سنجیدہ فکر آدمی ہیں، انہیں اپنے لئے کوئی بہتر سیاسی راستہ چننا چاہئے۔ سلمان ملک نوجوان ہیں مگر اپنی سادگی میں غلطی کرجاتے ہیں۔انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ غلطی کبھی بانجھ نہیں ہوتی، غلطی کا ثمر ضرور ملتا ہے، آپ اسے خمیازہ بھی کہہ سکتے ہیں۔ عامر خان عکاس کرتا ہے۔ چین کیسے آگے نکل گیا؟ یہ پڑھنے کے لئے آپ کو میرا اگلا کالم پڑھنا پڑے گا۔ (ش س م)