ایک زمانے میں ہمارے علاقے میں غربت تھی، بارانی علاقہ ہونے کی وجہ سے فصلیں سے خاص کمائی نہ ہوتی ، پھر ہم نے اس کا ایک حل نکالا ۔۔۔۔۔۔ کچھ روز قبل اپنے نوجوان بیٹے کی وفات کا صدمہ سہنے والے قمر الزمان کائرہ نے بڑے کام کی بات بتا دی

لاہور (ویب ڈیسک) موت کا ایک وقت معین ہے مگر بڑھاپے اور جوانی کی اموات میں صدمہ کی شدت کا فرق ہے۔ جنرل ظہیر الاسلام کی 98سالہ والدہ کا انتقال ہوا ہے، دکھ تو ضرور ہے مگر جواں سال بیٹے کی المناک موت لمحوں کو بدل کر رکھ دیتی ہے۔ اسامہ کی یقین نہ آنے والی

نامور کالم نگار مظہر برلاس اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ موت پر کالم کیا لکھا، دنیا بھر سے فون کالز، ای میلز، خطوط اور سوشل میڈیا پر تبصرے ملے۔ چونکہ اس کالم میں حادثے پر کچھ سطور تحریر کی گئی تھیں اس حوالے سے ایک بیوروکریٹ ڈاکٹر احتشام انور مہار کا خط اہمیت کا حامل ہے، اسی لئے خط کو کالم میں شامل کر رہا ہوں۔ ڈاکٹر صاحب گورنمنٹ کالج لاہور کے فارغ التحصیل ہیں، ان کا خط پیش خدمت ہے۔برلاس صاحب! قمر زمان کائرہ کے بیٹے کی شہادت پر آپ کا فکر انگیز کالم نظر سے گزرا۔ آپ نے بجا طور پر نشاندہی کی ہے کہ ہمارے ہاں نہ تو ٹریفک حادثات کی وجوہات کا تعین کیا جاتا ہے نہ ان کا تدارک۔ نتیجتاً ایسے حادثات میں جاں بحق ہونے والوں کی شرح پاکستان میں شاید دنیا بھر میں سب سے زیادہ ہے۔ میں مظفرگڑھ میں بطور ڈپٹی کمشنر تعینات ہوں اور اس حوالے سے ہم مقدور بھر کوشش کررہےہیں، سوچا آپ کے علم میں لاتا چلوں، شاید آپ کے توسط سے اس کی تفصیلات دوسروں تک بھی پہنچ جائیں اور وہ ہماری طرح بلکہ ہم سے بھی بہتر انداز میں اس معاملے پر کام شروع کر سکیں۔ کچھ عرصہ پہلے ضلعی انتظامیہ مظفرگڑھ نے فیصلہ کیا کہ نئے سال میں ہونے والے ہر مہلک ٹریفک حادثے کی وجوہات کا تعین کیا جائے گا اور پھر سدباب کیا جائے گا تاکہ کم از کم ان وجوہات کی بنیاد پر دوبارہ حادثہ نہ ہو سکے۔ اس حوالے سے ایک کمیٹی بنائی گئی جس میں ضلعی ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ٹریفک پولیس،

ریسکیو1122، متعلقہ تحصیل کے اسسٹنٹ کمشنر، تحصیل پولیس افسر اور ایس ڈی او شاہرات شامل ہیں۔ جب بھی کسی تحصیل میں کوئی سنجیدہ نوعیت کا حادثہ ہوتا ہے، یہ کمیٹی جائے وقوعہ پر اپنی میٹنگ منعقد کرتی ہے، حادثے کی وجوہات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش کرتی ہے، آئندہ اس کے تدارک کے لئے اقدامات کرتی ہے یا ڈپٹی کمشنر کو اپنی سفارشات ارسال کر دیتی ہے چونکہ تمام متعلقہ محکمہ جات کے سربراہان اس کمیٹی کے رکن ہیں، ان کے لئے حادثہ کی وجہ کا تعین کرنا اور اس کے تدارک کے لئے عملی اقدامات کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ اس کے ساتھ ساتھ ایسے حادثات کا ضلع کی سطح پر ڈیٹا بھی مرتب ہوتا ہے جس کا وقتاً فوقتاً جائزہ لیا جاتا ہے ہے تاکہ حادثات کے رجحانات، امکانات اور اسباب کے علاوہ حساس مقامات کی بھی نشاندہی ہو سکے تاکہ جامع اور مربوط انداز میں ان سے نمٹا جا سکے۔ ہمارا وضع کردہ سسٹم کیسے کام کرتا ہے، ایک حالیہ مثال دینا چاہوں گا، تقریباً دو ہفتے قبل زیرتعمیر مظفر گڑھ، ڈیرہ غازی خان روڈ پر ایک ٹرک اور کار کے تصادم کے نتیجہ میں دو اموات ہوئیں۔ کمیٹی کی جائے حادثہ پر میٹنگ ہوئی تو ادراک ہوا کہ سڑک اگرچہ دو رویہ ہے لیکن عین حادثے کے مقام پر ایک گھر والوں نے حکومت سے ملنے والے معاوضے پر اختلاف کے سبب عدالت سے اسٹے آرڈر لے رکھا ہے اور دونوں اطراف سے آنے والی ٹریفک اس مقام پر ایک ہو جاتی ہے جس کے سبب حادثہ ہوا۔

کمیٹی کی نشاندہی پر متعلقہ عدالت میں درخواست دائر کر کے جلد پیشی لگائی گئی اور پھر اس اسٹے آرڈر کو خارج کروا کے دو رویہ ٹریفک کو بحال کیا گیا۔ اس نوعیت کی اور بھی مثالیں ہیں لیکن شاید ہماری اس کاوش کی کامیابی کو جانچنا مشکل ہوگا۔ اس امر سے بے نیاز ہم اپنا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ آپ کے کالم کی وساطت سے دیگر احباب سے بھی گزارش ہے کہ اس طرح کے اقدامات کی صوبائی اور قومی سطح پر ضرورت ہے، شاید اس حوالے سے قانون سازی بھی کرنا پڑے۔ کائرہ صاحب کا احترام تمام سیاسی حلقوں میں کیا جاتا ہے اسی لئے ان کے غم کو سب نے بدرجہ ٔاتم محسوس کیا۔ کیا یہ ممکن ہو سکے گا کہ سب مل کر کوئی انقلابی اقدامات کر سکیں؟ کوئی قانون سازی کر سکیں؟ اسامہ کی شہادت دوسری زندگیاں بچانے کی نوید لے کر آئے گی یا محض رائیگاں جائے گی؟ کیا ہم رو دھو کر اسامہ کی بے وقت شہادت کو بھول جائیں گے اور زندگی آگے بڑھ جائے گی؟ خیر اندیش ۔۔ ڈاکٹر احتشام انور مہار ۔۔ ڈاکٹر احتشام انور مہار آپ کے اقدامات اور تجاویز قابلِ تعریف ہیں، ہماری حکومتوں کو حادثات کی روک تھام کے لئے عملی اقدامات کرنا چاہئیں۔ اسامہ قمر کی شہادت پر ردعمل جاری ہے مگر اس دوران قمر زمان کائرہ نے ایک اور اہم بات کر دی ہے، معاشرے کو اس کی بھی تقلید کرنا چاہئے۔ چند روز پیشتر افطاری کے موقع پر جب کچھ مہمان گلگت بلتستان سے آئے تو کھانے کی میز پر سبزی تھی،

قمر زمان کائرہ کو پتا نہیں کیا سوجھی کہ وہ خود ہی وضاحت کرنے بیٹھ گئے، کہنے لگے ’’ہم سوگ کے دنوں میں گوشت نہیں کھاتے، اس کی بڑی خاص وجہ ہے، ایک زمانے میں ہمارے علاقے میں غربت تھی، بارانی علاقہ ہونے کی وجہ سے کھیتوں سے خاص کمائی نہیں تھی پھر وقت نے انگڑائی لی تو ہمارے علاقے کے لوگ یورپ جانا شروع ہو گئے۔ یوں دولت کی ریل پیل ہونے لگی، لوگوں نے دیہات میں محلات کھڑے کر دیئے۔ اب کیا تھا جب کسی امیر گھرانے میں مرگ ہوتی تو انواع و اقسام کے کھانے پکنا شروع ہوگئے، پھر سوئم، دسویں اور چالیسویں کے کارڈ چھپنا شروع ہو گئے مگر جب کسی غریب کے مرگ ہوتی تو وہ اعلیٰ کھانا فراہم کرنے کے چکر میں قرض کے حصول کے لئے امیر گھرانوں کے چکر لگاتا، بعد میں وہ قرض بھی ادا نہ کر پاتا، پھر ہمارے بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ اب سوگ کے دنوں میں پورے علاقے میں کوئی گوشت نہیں پکائے گا، لوگ باز نہ آئے تو پھر ایک روز بوڑھے بیٹھے، انہوں نے فیصلہ کیا جو گوشت پکائے گا اسے پچاس ہزار جرمانہ ہوگا، دولتمند باز نہ آئے انہوں نے جرمانہ قبول کر لیا۔ پھر ایک دن ہم لوگوں نے سخت فیصلہ کیا کہ جو بھی کھانے میں گوشت پکائے گا ہم اس کا کھانا نہیں کھائیں گے، بائیکاٹ کریں گے، بس اس فیصلے نے دولت مندوں کو لگام دی، اب ہمارے علاقے میں سوگ کے دنوں میں کوئی گوشت پکانے کی جرأت نہیں کرتا۔ سو اسلئے ہم ان دنوں میں گوشت نہیں کھاتے‘‘۔ بقول سرور ارمان؎ ایک ایک ساعت میں زندگی سمونی ہے ۔۔ ایک ایک جذبے میں انقلاب رکھنا ہے۔ (ش س م)