ہر حال میں پاکستان اور غریبوں کا خیر خواہ ۔۔۔ مشرف دور میں جب عمران خان ڈیرہ غازی خان جیل میں قید تھے تو انہیں ضمانت اور رہائی کی بجائے کس چیز کی فکر ستاتی رہتی ؟ ایسی بات جس سے آپ یقیناً لا علم ہونگے

لاہور (ویب ڈیسک) علیم خاں نے مجھ سے کہا تھا : چوہدری خاندان کی عورتیں عجیب ہیں ۔ اپنے زیور تک عطیہ کر دیتی ہیں ۔ جو بات شاید انہیں بھی معلوم نہ تھی کہ یہ روایت بیگم چوہدری ظہور الٰہی سے چلی آتی ہے ، جو یتیم بچیوں کو بیٹیوں کی طرح پالتیں اور بیٹیوں کی طرح رخصت کرتیں ۔

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔سپرنٹنڈنٹ چوہدری اعجاز اصغر سے سرگوشی میں عرض کیا: ایک آدھ قیدی کا جرمانہ یہ ناچیز بھی ادا کر سکتاہے ۔ وہ مسکرائے اور بولے : 80لاکھ کے عوض سب رہا ہو چکے ۔ خان صاحب کے مزید دس لاکھ روپے ہمارے پاس رکھے ہیں ۔معلوم ہوا کہ 800پھل دار پودے بھی پچھلے دنوں گاڑے گئے ہیں۔ انس اور الفت کے ساتھ کسی نے ڈپٹی سپرنٹنڈٹ کا ذکر کیا ۔چھ ماہ تک پورے انہماک اور خلوص سے جو منصوبے میں جتے رہے ۔دانتوں کے ایک معالج کا بھی‘ جو ہر سہ پہر اپنے کلینک سے اٹھ کر کوٹ لکھپت چلے آتے ہیں ۔ رضا کارانہ ۔ پاکستانی معاشرہ عجیب ہے ۔ ایک طرف ایسے کٹھور دل ہیں ‘ ایسی جہالت ، ایسے بے حس اور سفاک لوگ کہ گھن آتی ہے ۔ دوسری طرف ماحول کو فروزاں کرتے اللہ کے عاجز بندے۔ کبھی تو ایسا بھی ہوتا ہے کہ کسی پتھر سے روشنی پھوٹ پڑتی ہے ۔ تین بار وفاقی وزارت کا بوجھ اٹھانے والے رانا نذیر سے ابھی ابھی میں نے بات کی ۔ اگر چند آدمی ، بنیادی طور پر ایک ہی شخص صوبے کی سب سے بڑی جیل سنوار سکتا ہے ‘ مشقت تو خود قیدی ہنر مندوں نے کی اور سامان پہ صرف چھ کروڑ اٹھے تو دوسرے مقامات پر یہ کیوں ممکن نہیں ۔ گوجرانوالہ اور سیالکوٹ کے صنعت کار تویوں کشادہ دل ہیں ۔ کہنے کی دیر تھی کہ جہاندیدہ آدمی کے لہجے میں نوجوانوں کا سا گداز پھوٹا۔کہا: کیوں نہیں ۔ سوچا؛گوجرانوالہ میں ایس اے حمید ہیں ۔ذوالفقار چیمہ ہیں ، نثار چیمہ ہیں ۔ رانا ناصر ہیں ‘عرفان شیخ اور عامر رحمٰن ، ایک دن کھڑے کھڑے جنہوں نے اپنی ایک تہائی دولت لٹا دی تھی ۔ بارہ برس ہوتے ہیں ۔ ڈیرہ غازی خاں جیل میں جنرل مشرف کے قیدی عمران خاں سے ملنے گیا تو انہوں نے بتایا کہ لگ بھگ ایک تہائی قیدی بے قصورہیں ۔ کوئی جن کی مدد نہیں کرتا ، کوئی جن کا حال نہیں پوچھتا۔ کپتان کا اعلان یہ تھا کہ قیدیوں کی زنجیریں کاٹ ڈالیں گے لیکن وہ بھول گئے، سبھی کچھ بھول گئے ۔ اقتدار کی سرمستی میں بادشاہ سب کچھ بھول جایا کرتے ہیں ہم خود بھی زندہ ہیں ۔اپنی زنجیریں خود بھی کاٹ سکتے ہیں ۔(ش س م)