گزشتہ ایک ہفتے سے وزیرا عظم عمران خان کے لب و لہجے میں فرق اور اچانک نرمی کیسے آگئی ؟ کیا انہوں نے شریفوں اور زر والوں کی جان چھوڑ دی ؟ ہارون الرشید نے حیران کن بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) جہاں تک صوبائی حکومت کا تعلق ہے‘ زیادہ پیچیدہ اور زیادہ خطرناک مسائل اسے درپیش ہیں۔ٹریفک قوانین کی پاسداری‘ اس کی ترجیحات میں شامل نہیں۔ کیا یہ ممکن نہیں کہ میڈیا مسئلے پر توجہ دے؟ نیوز بلیٹن کے علاوہ چھوٹی چھوٹی دستاویزی فلمیں بنائی جائیں۔ یاددہانی کرائی جاتی رہے

نامور کالم نگار ہارون الرشید اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ تحریک انصاف سے انقلاب کی جو امید وابستہ تھی‘ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دم توڑتی جاتی ہے۔ وہی ہے‘ صورت حال وہی ہے جو نون لیگ اور پیپلز پارٹی کی حکومتوں میں تھی۔ قاف لیگ کی حکومت میں تھی۔اپنی ذہانت اور کامیابیوں پر ناز کرنے والے جنرل پرویز مشرف کے عہد میں تھی۔ وہی لوگ ہیں‘ زیادہ تر وہی لوگ جو چودھری پرویز الٰہی اور حد سے زیادہ پراعتماد پرویز الٰہی کے دور میں تھے۔بلند بانگ دعووں اور دلفریب وعدوں کے ساتھ کچھ نئے لوگ سیاست میں آئے۔ نئے لوگ ان سے بھی کم تر ثابت ہوئے۔ اوربھی ناکردہ کار۔ اس لئے کہ خواب تو انہوں نے بہت دیکھے اور دکھائے۔ خیالات کی دنیا میں ایک جنت آباد کر دی۔ ارضی حقائق کا ادراک مگر برائے نام۔ کوئی جامع منصوبہ ان کے پاس نہیں۔ سوچا ہی نہیں کبھی بنایا ہی نہیں۔ کاروباری طبقات ‘ سول سروس ‘پولیس اور نچلی عدالتیں اور بھی بگڑ گئیں۔قلم جیبوں میں ڈال لئے۔ کام کرنے سے انکار کر دیا۔ مرض کی نوعیت سمجھنے اور کوئی حل تلاش کرنے کی بجائے‘ ہمارے عالی قدر حکمران خود ترسی کا شکار ہو گئے۔ رونا پیٹنا شروع کیا تو افسر شاہی کو اپنی طاقت کا اندازہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اور زیادہ ڈھٹائی اختیار کر لی۔ پندرہ ماہ گزر جانے کے بعد وزیر اعظم نے ہتھیار ڈال دئیے ۔ ناتجربہ کاری ہے اور غیر عملی رویّے۔ نتیجے میں ناکامی ‘ ہیجان اور وحشت۔پی ٹی آئی کا سب سے

بڑا وعدہ پولیس اصلاحات کا تھا۔ ہو جاتیں تو امن و امان کی صورتحال بہتر ہوتی۔ پٹوار اور نچلی عدالتوں پہ توجہ دی جاتی تو آدھے سے زیادہ مسئلے حل ہو جاتے۔ رونا معیشت کا ہے۔ اقتصادی حالت بہتر ہو جائے تو رفتہ رفتہ سب کچھ سنورنے کا امکان پیدا ہوتا ہے۔ معیشت کیا ہے‘ صنعت کاری۔ صنعت کاری کیا ہے؟ محض جدید طرز کے کارخانے نہیں یعنی سرمایہ کاری ۔سرمایہ کاری کا انحصار امن پہ ہوتا ہے۔ سرمایہ حساس ہوتا ہے‘ بہت حساس۔ ایوب خان کے بعد کوئی ایک حکومت بھی ایسی نہیں آئی‘ جو اس نکتے کا ادراک رکھتی ہو۔ سرمایہ کار خوف کا شکار ہے۔ ہفتے بھر سے وزیر اعظم کے لہجے میں کچھ نرمی آئی ہے۔ ہمہ وقت ورنہ وہ للکارتے اور خوف زدہ کرنے میں لگے رہتے۔سرمایہ سمٹ کر گھریلو تجوریوں میں بند ہو گیا یا سرحدوں کے باہر فرار ہونے لگا۔ اچھے اور برے وقت قوموں پہ آتے ہیں۔ وقت کا جمال یہ ہے کہ بہرحال وہ گزر جاتا ہے۔ بدقسمتی مشکل اور مصیبت میں نہیں ہوتی۔ زوال میں نہیں ہوتی بلکہ ناقص انداز فکر میں۔زوال اور ناکامی فکرو خیال کی پستی اورمایوسی سے پھوٹتی ہے۔ خوش قسمت معاشرے وہ ہوتے ہیں جو تجربات سے سیکھیں۔آدمی اپنی تقدیر خود لکھتا ہے۔ قدرت تو صرف یہ کرتی ہے کہ مواقع ارزاں کرے۔سبق سکھائے اور نہ سیکھنے والوں کے لئے سیکھنے پہ اصرار کے لئے ‘اذیت دیتی رہے۔ اقبالؔ نے کہا تھا: تقدیر کے پابند نباتات و جما دات مومن فقط احکامِ الٰہی کا ہے پابند(ش س م)