چوہدری شجاعت حسین کی کتاب سچ تو یہ ہے میں جو کچھ لکھا ہے وہ سچ ہے یا جھوٹ ۔۔۔؟ ڈاکٹر اجمل نیازی نے بے دھڑک بتا دیا

لاہور (ویب ڈیسک) ایک کتاب لکھی ہے ایک بہادر اور سچے سیاستدان نے جن کا نام ایک دنیا جانتی ہے۔ چودھری شجاعت حسین۔ کتاب کا نام ہے ’’سچ تو یہ ہے،،۔ میں نے کتاب پڑھی ہے اور مجھے معلوم ہو گیا ہے کہ سچ یہی ہے جو چودھری صاحب نے لکھا ہے۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔آگے چل کر بھی کتاب میں سچ ہی سچ ہے۔ پہلے صفچے پر ہمارے سب سے بڑے اور سچے شاعر غالب کا شعر ہے۔صادق ہوں اپنے قول میں غالب خدا گواہ۔۔۔کہتا ہوں سچ کہ جھوٹ کی عادت نہیں مجھے۔۔۔اس کے بعد انتساب بھی ایک بہت بڑا سچ ہے۔چودھری پرویزالٰہی کے نام جو میرے عزیز از جان بھائی ہیں۔ میرے بہترین دوست ہیں اور میرے سیاسی ہمسفر ہیں۔اس کے بعد پیش لفظ میں خدائے بزرگ و برتر کے بعد اپنے تمام دوست احباب اور ساتھیوں کا شکریہ ادا کیا ہے جن کی ترغیب و اصرار نے یادداشتیں قلمبند کرنے پر آمادہ کیا ہے۔ یہ جملہ بہت بامعنی ہے کہ اس میں نہ مبالغہ ہے نہ مغالطہ۔ کوئی داستاں طرازی ہے نہ کوئی انشاء پردازی۔ صرف اور صرف سچ ہے۔ میرا ایمان ہے کہ انسان بے اختیار ہے۔ رف ایک ہستی ہے جو قادر مطلق ہے۔ ہوتا وہی ہے جو منظور خدا ہوتا ہے۔ محمد اصغر عبداللہ کو عزیزم کہہ کر شکریہ ادا کیا ہے۔ حافظ طاہر خلیل، عروج رضا سیامی کے علاوہ ڈاکٹر شائستہ نزہت کا خاص طور پر شکریہ ادا کیا ہے۔ وہ چودھری فیملی کے لیے بہت مخلص اور معاون ہے۔ بہت تعلیم یافتہ اور تہذیب یافتہ بھی ہے۔ ساری فیملی اس پر اعتماد کرتی ہے۔ وہ گھر کے فرد کی طرح ہے۔ وہاں برادرم اقبال چودھری بھی ہیں۔ وہ چودھری فیملی کے ساتھ بڑی محبت اور خلوص کے ساتھ جُڑے ہوئے ہیں۔ کتاب میں بہن محترمہ قیصرہ الٰہی کا ذکر بھی ہے

جو چودھری شجاعت کی بہن ہیں۔ ہماری بھی بہن ہیں۔ وہ چودھری پرویزالٰہی کی اہلیہ محترمہ ہیں۔ وہ لاہور میں بے گھر خاندانوں کو بلامعاوضہ رہائش فراہم کرنے کے لیے الجنت کے نام سے اور نادار خاندانوں کی کفالت کے لیے سبیل کے نام سے فلاحی ادارے چلا رہی ہیں۔چودھری شجاعت سے بے تکلفی نہیں ہے۔ اتنی دوستی بھی نہیں ہے کیونکہ میںسمجھتا ہوں کہ دوستی کے لیے کچھ بے تکلفی ضروری بھی ہے۔ چودھری پرویز الٰہی سے بہت دوستی ہے۔ اتنی زیادہ بے تکلفی اُن سے بھی نہیں مگر دوستی ہے اور بہت ہے۔ انہی کے بیٹوں کے ساتھ دوستی ہے۔ چودھری مونس الٰہی اچھے لگتے ہیں۔ چودھری راسخ الٰہی سے بھی تعارف ہے۔ چودھری شجاعت کے صاحبزادگان سے تعارف کم کم ہے، چودھری شجاعت سے یہ تعلق بہت ہے کہ میری ان کے عظیم والد شہید چودھری ظہور الٰہی سے بہت تعلق تھا میں نے کئی بار بڑے فخر سے لکھا ہے کہ میں ان سے ملنے چودھری ہائوس میںحاضر ہوا اوروہ خود کار ڈرائیو کر کے مجھے چھوڑنے نیو ہوسٹل گورنمنٹ کالج لاہور تشریف لے گئے۔ میرے اصرار کے باوجود مجھے میرے کمرے تک چھوڑنے کے لیے آئے۔ میں ان کی شفقتوں کو کبھی نہیں بھولوں گا۔ وہ بڑے بہادر، سچے اور ڈٹ جانے والے آدمی تھے۔ چودھری شجاعت کی اہم کتاب کا ابتدائی حصہ ان کے بارے میں ہے۔ گھر والوں کے ساتھ ان کی بے تکلفانہ گفتگو بہت پیار و آرزو کی طرح تھی۔چودھری شجاعت نے لکھا ہے کہ میرے والد چودھری ظہور الٰہی پاکستان میں دہشت گردی سے شہید ہونے والے پہلے سیاستدان ہیں۔

میرے والد کو نواب کالا باغ نے پیغام بھجوایا کہ اگر آپ قومی اسمبلی کی سیٹ سے دستبردار ہو جائیں تو صوبائی اسمبلی کی دو سیٹیں آپ کو دے دی جائیں گی اور یہ دھمکی بھی دے دی کہ پیشکش قبول نہ کرنے کی صورت میں آپ کو سو فیصدووٹ بھی مل گئے تو انتخابی نتیجہ آپ کے خلاف ہی آئے گا۔مجھے یاد ہے کہ والد صاحب نے ہم سب گھر والوں کو بلایا کہ حکومت کی طرف سے یہ پیشکش آئی ہے ا ور ساتھ دھمکی بھی دی گئی ہے۔ وہ ہماری پریشانی بھانپ گئے اور کہا کیا صلح کرنے کے بعد گھر آنے تک آپ میں سے کوئی میری زندگی کی ضمانت دے سکتا ہے۔ زندگی ا ور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے لہٰذا میں موت سے ڈر کر الیکشن سے دستبردار نہیں ہوں گا۔ بھٹو کی درخواست پر مرے والد نے پیپلز پارٹی میں شامل ہونے سے انکار کر دیا۔ بھٹو صاحب سے کہا کہ شیخ مجیب الرحمن کو حکومت سازی سے روکنے کا نتیجہ تباہ کن ہو گا۔چودھری شجاعت بہت بے باک اور نڈر آدمی ہیں۔ انہوں نے رچرڈ آرمیٹج سے پوچھا کے آپ نے 2008ء میں ہمیں کیوں ہروایا اس نے جواب دیا کہ آپ کے دو گُڈ فرینڈز نے آپ کو ہروایا۔ جنرل مشرف اور طارق عزیز ۔چودھری شجاعت کی کتاب ’’سچ تو یہ ہے،، کے لیے کتنا سچ آدمی کہہ سکتا ہے۔ یہ کتاب پڑھ کر معلوم ہوا کہ سچ کیا ہوتا ہے۔ سیاست کے دشوار گزار راستوں میں یہ سچ منزلوں سے بھی آگے نکل جاتا ہے

مگر اسے سیاست کی چودھری فیملی نے اپنے سے آگے نہ نکلنے دیا۔’’سچ تو یہ ہے،، ایک خود نوشت ہے چودھری شجاعت کی جنہوں نے سیاست میں کبھی سچائی کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا اور ایک سپاہی کے بیٹے سے منتخب وزیر اعظم کے منصب تک پہنچے۔یہ سرگزشت ہے چودھری پرویز الٰہی کی جنہوں نے بطور وزیر اعلیٰ پنجاب برسوں کے سیاسی اور انتظامی جمود کو توڑا اور اپنے پانچ سالہ دور میں اس کو ہر لحاظ سے ایک مثالی صوبہ بنایا۔یہ تذکرہ ہے چودھری ظہور الٰہی شہید کا جنہوں نے سیاست میں تادم شہادت کلمۂ حق بلند کیا۔ بے انتہا مصائب سہے لیکن کبھی سر نہیں جھکایا۔ ان کی اسیری کے دوران انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ورلڈ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے ان کو ضمیر کاقیدی قرار دیا۔یہ کہانی ہے پاکستان کے ایک ا یسے خاندان کی جس نے سیاست میں کبھی اپنے عزت و وقار پر سمجھوتا نہیں کیا اور ہر طرح کے حالات کا مردانہ وار مقابلہ کیا ہے۔کتاب میں حرف آخر کے طور پر چودھری صاحب نے لکھاہے یہ سلسلۂ واقعات 2008 ء کے عام انتخابات پر اختتام پذیر ہوتاہے لیکن زندگی پیہم رواں ہے اور 2008ء کے بعد بھی حالات و واقعات کا ایک حیرت انگیز سلسلہ ہے۔ بہرحال پاکستان مسلم لیگ نے وہ تمام اندازے غلط ثابت کر دئیے جن میں کہا گیا تھا کہ 2008ء کے الیکشن کے بعد یہ پارٹی اپنا سیاسی وجود برقرار نہیں رکھ سکے گی۔الحمد اللہ پاکستان مسلم لیگ نہ صرف ہر طرح کی مشکلات کے باوجود قائم ہے بلکہ تمام تر سازشوں کے باوجود آگے بڑھ رہی ہے۔(ش س م)