اسد عمر کو اب وزیر یا مشیر بنانے کی پیشکش ہو تو وہ اسے قبول نہ کریں ، مگر کیوں ؟ ڈاکٹر اجمل نیازی کا سابق وزیر خزانہ کو انوکھا مشورہ

لاہور (ویب ڈیسک) عمران خان نے بلاول بھٹو زرداری کے لئے بلاول صاحبہ کا لفظ استعمال کیا تھا جسے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ میرے خیال میں اس کی وضاحت کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ عمران خان شیری رحمان کے لئے شیریں رحمان صاحبہ کا لفظ استعمال کریں۔ وہ سنیٹر بھی ہیں۔ حساب برابر ہو جائے گا۔

نامور کالم نگار ڈاکٹر اجمل نیازی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔مریم نواز قابل خاتون لیڈر ہیں۔ انہوں نے اپنے وزیراعظم والد کی کارکردگی اور اہلیت کو ایک بڑی حقیقت کے طور پر بہت تخلیقی انداز میں بیان کیا ہے جو ایک بھرپور سیاسی اظہار خیال بھی ہے ۔ تم کو ایک شخص یاد آئے گا ۔۔ اس پر ایک سیاسی ورکر نے تبصرہ کیا ہے۔ اب تو 20 کروڑ عوام بھی نوازشریف کی طرح زیر عتاب ہیں مہنگائی وغیرہ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کر دی ہے۔ اس کے لئے مریم نواز کا یہ تجزیہ حسب حال ہے۔ تم کو ایک شخص یاد آئے گا۔۔ شیخ رشید تو طنزیہ انداز میں بولے گا۔ اس نے کہا کہ مریم نواز ابو بچائو سیاست کر رہی ہیں۔ پرویز رشید نے کہا کہ مریم نواز قانونی پیچیدگی دور ہوتے ہی الیکشن لڑیں گی۔ اس میں میری طرف سے اضافہ کر لیں کہ وہ الیکشن لڑیں گی تو کامیاب بھی ہوں گی۔ اسمبلی میں بڑا مزا آئے گا۔ پرویز رشید نے اُسے لیڈر نہیں کہا۔ ورکر لیڈر سے بڑا ہوتا ہے مگر ہمارے ہاں لیڈر کو بڑا سمجھا جاتا ہے۔ پرویز رشید اس حقیقیت کو جانے اور مانتے ہیں کہ وہ پرویز رشید سے بڑی سیاستدان ہیں اور بڑی لیڈر بھی ہیں۔ مستعفی وزیر خزانہ اسد عمر کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کا چیئرمین منتخب کر لیا گیا ہے۔ اپوزیشن کے نوید قمر نے ان کا نام پیش کیا ہے۔ اب انہیں عمران کابینہ میں واپس لیا گیا تو انہیں کون سی وزارت پیش کی جائے گی۔ اسد عمر کو چاہئے کہ وہ تحریک انصاف کی طرف سے کوئی پیشکش قبول نہ کریں۔

آصف زرداری کرپشن کے کسی مقدمے میں پیشی کے لئے آ رہے ہیں۔ ہ تصویر بڑے تسلسل اور باقاعدگی سے شائع ہوتی ہے۔ ہمارے یہاں مقدمے کئی برسوں تک چلتے ہیں۔ یہ تصویر شائع ہوتی رہے گی۔ کہ زرداری صاحب ہر پیشی پر مختلف طریقے سے پیش ہوتے ہیں۔ میں پہلی مرتبہ انگلستان گیا۔ تب میں چھوٹا تھا۔ تقریباً 35 برس پہلے کی بات ہے۔ میری عمر بھی 35 برس ہی تھی۔ میں گلاسگو بھی گیا۔ وہاں ایک پاکستانی نژاد لیڈر چودھری محمد سرور سے ملاقات ہوئی بلکہ ہم ان کے مہمان تھے۔ انہوں نے مہمان نوازی اور دوستداری کے سارے فرق مٹا دیئے تھے۔ ایک پاکستانی نژاد انگلستانی کے کریڈٹ کی انتہا ہے کہ وہ پہلا مسلمان ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوا۔ یہ ان کی سیاست کی کریڈیبلٹی بھی ہے اور ان کی دوستانہ اور بے حد متاثرکن شخصیت کا کمال بھی ہے کہ وہ انگلستان میں بھی بے پناہ مقبول ہیں۔وہ پاکستان میں شریف برادران کے دور حکومت میں گورنر پنجاب ہوئے اور پھر انہوں نے اس بہت بڑے عہدے سے استعفیٰ دیدیا۔ استعفیٰ انہوں نے نظریاتی بنیادوں پر دیا۔ اپنے نظریئے کے ساتھ اتنی سچی وابستگی ہمارے ملک میں کم کم بلکہ بہت ہی کم دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے عمران خان کی تحریک انصاف کو جائن کیا۔ سیاسی طورپر تحریک انصاف کے ساتھ ربط ضبط کی یہ واحد مثال ہے کہ جب عمران خان کی حکومت بنی تو انہیں پھر گورنر پنجاب بنا دیاگیا۔یہ جو گورنر ہائوس کی اتنی شاندار عمارت ہے‘ یہاں بہت کم آدمی ایسے آئے جنہوں نے اس کی شان کو بڑھایا۔ عبدالرب نشتر‘ امیر محمد خان نواب کالا باغ اور چودھری محمد سرور۔ یہ تمہید اس لئے میں نے باندھی کہ یہ اُم نصرت فائونڈیشن کا بھی اعزاز ہے۔ وہاں چودھری محمد سرور گئے۔ وہاں انہوں نے بہت اعلیٰ تقریر کی۔ ان کی باتوں میں اتنا سوز و گداز تھا کہ یہ گفتگو اس آرزو کی طرح تھی جو تھیلیسیمیا کے بچوں کو خون لگانے کے بعد ان کی چمکتی ہوئی آنکھوں میں دکھائی دیتی ہے۔ اب گورنر ہائوس میں علمی ادبی محفلیں بھی ہوتی ہیں۔ چودھری سرور ان محفلوں میں باقاعدہ شرکت کرتے ہیں۔ پچھلے دنوں پلاک کی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر صغرا صدف نے گورنر ہائوس میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کیا۔ میں اس محفل میں تقریر کرنے والوں میں شامل تھا۔ سب سے بہتر گفتگو چودھری سرور نے کی۔(ش س م)