حکومت پاکستان نے سری لنکا کے ساتھ میجز کے انعقاد پر کتنی رقم اڑا دی ، اور اس رقم سے پاکستان کا کونسا سب سے بڑا کام ہو سکتا تھا ؟ ایاز امیر کا دنگ کر ڈالنے والا انکشاف

لاہور (ویب ڈیسک) نامور پاکستانی کالم نگار ایاز امیر نے اپنے ایک کالم میں اداروں اور حکومت کو آئینہ دکھاتے ہوئے زبردست بات کہی ہے ۔ ایاز امیر لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ دیکھیں تو سہی کہ ہماری حالت کیا ہے۔ یہ کیسی خبریں گردش کر رہی ہیں کہ ہم پاکستان سٹیل ملز کو چین کے حوالے

کرنے کی سوچ رہے ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی شرمناک بات ہو سکتی ہے؟ ایٹمی قوت ہیں، اس میں تو کوئی شک نہیں لیکن ہماری اجتماعی صلاحیتیں ایک سٹیل مل نہیں چلا سکتیں۔ میجر جنرل صبیح قمرالزمان نے یہ مل چلائی اور منافع میں چلائی۔ وہ کیا مریخ سے آئے تھے؟ ہم میں سے نہیں تھے؟ کوئی اور صبیح قمرالزمان نہیں ڈھونڈا جا سکتا؟ اے کیو خان اور ان کی ٹیم نے ایٹم بم بنا لیا تھا۔ ہمارے جیسے ملک کے لئے چھوٹا کارنامہ نہیں تھا۔ باقی چیزیں کیوں نہیں ہوتیں؟ سڑکیں بنانی ہوں تو کسی اور نے آ کے بنانی ہیں۔ انگریزوں کی دی ہوئی ریلوے لائن ہم سے چلی نہیں حالانکہ وہی ریلوے نظام احسن طریقے سے ہندوستان میں چل رہا ہے۔ لیکن اب ہم چاہتے ہیں کہ پشاور تا کراچی چینی ہمیں ایک ہائی سپیڈ ریل نیٹ ورک بنا کے دیں۔ سب ادھار پہ۔ اپنا پیسہ ہے نہیں۔ چینی دوست ہی یہاں آ کے سب کچھ کریں۔ اورنج لائن ٹرین بھی وہی بنائیں، بڑے پاور پلانٹ بھی وہی لگائیں، اور اب جو سوچ ہے اس کے مطابق سٹیل ملز بھی وہی چلائیں۔ کیا خوب سوچ ہے۔ بہتر نہیں کہ پورے ملک کو انہی کے ہاتھوں ٹھیکے پہ دے دیا جائے؟ سارا دردِ سر ہی ختم ہو جائے گا۔جتنی خواری ہم لاہور میں ایک کرکٹ میچ کے لئے اٹھاتے ہیں اتنی سے ایک کیا دس سٹیل ملیں چل جائیں۔ جو چیز ہم کرنا چاہیں وہ ہم کر لیتے ہیں‘ چاہے وہ چیز عقل کی پیکر ہو یا بے وقوفی کی انتہا۔ ہندوستان سے مقابلہ کرنا کوئی چھوٹی بات نہیں لیکن ہم کر رہے ہیں۔ سیاہ چن سے لے کر سمندر تک ہماری اور ہندوستانی افواج آمنے سامنے کھڑی ہیں۔ ایٹمی اور میزائل دوڑ میں ہم ہندوستان سے پیچھے نہیں۔ اگر ہندوستان کے پاس اتنا ایٹمی ذخیرہ ہے کہ وہ پاکستان کو پانچ دفعہ مکمل تباہ کر دے تو ہمارے پاس بھی اتنی صلاحیت ہے کہ ہم ہندوستان کے تمام بڑے شہروں کو ملیامیٹ کر دیں۔ اتنا کچھ ہم کر سکتے ہیں‘ لیکن ایک سٹیل مل نہیں چلا سکتے۔یہ ہیں ہمارے نارمل ہونے کی علامات۔