جناب اگر کشمیر کی آزادی کا آپ کو اتنا ہی یقین تھا تو پھر اس معاہدے پر کیوں دستخط کیے تھے ۔۔۔۔ ایاز امیر نے ایسی بات کہہ ڈالی جو امریکہ میں بیٹھے عمران خان کے بڑا کام آئے گی

لاہور (ویب ڈیسک) آج ہم ہندوستان کی اُن چیزوں میں تحسین کا پہلو تلاش کر رہے ہیں جو پہلے ہماری تنقید کا نشانہ بنتی تھیں۔ انڈین سیکولرازم، انڈین لبرل ازم، بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خاص حیثیت اور جواہر لعل نہرو کے افکار… کون سوچ سکتا تھا کہ ہمیں ان چیزوں میں خیر کا پہلو نظر آئے گا؟

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ شاید اِیسی کیفیت کو ہی حالات اور وقت کا جبر کہتے ہیں۔ حقیقتوں کا اُلٹ جانا، پرانے خیالات کا برباد ہوتا نظر آنا۔سوچنے کا مقام ہے انڈس بیسن دریاؤں کے معاہدے پہ ہم نے دستخط کیوں کیے۔ اگر ہمیں کشمیر کی آزادی کا اتنا ہی یقین تھا تو ہم یہ معاہدہ نہ کرتے۔ انتظار کرتے اُس وقت کا جب کشمیر آزاد ہوتا یا ہمارے ساتھ مل جاتا۔ پھر کیا ضرورت پڑتی دریاؤں کی تقسیم کی۔ لیکن یہ معاہدہ زمینی حقیقتوں کو تسلیم کرتے ہوئے کیا گیا کیونکہ جغرافیے نے بدلنا نہیں تھا‘ اس لیے عافیت اسی میں سمجھی گئی کہ دریاؤں کی منصفانہ تقسیم کی جائے۔ دریاؤں کو بنیاد بنا کے یہ سوچ پورے کشمیر کے مستقبل کے بارے میں کیوں نہ کی گئی؟ عالمی ضمیر کا سوئے رہنا یا جاگنا تو ایک طرف رہا، جب جنگیں بھی بے سود ثابت ہوئیں تو عقل مندی کا تقاضا تھا کہ کشمیر کے کسی مستقل حل کے بارے میں سوچا جاتا۔ لیکن ایسا نہ ہوا اور ہم اپنے جذبات کے اسیر رہے۔ یہ تو اب گزرے وقت کی باتیں ہیں۔ اِن کے اب دہرانے سے کیا فائدہ۔ لیکن فطرتی امر ہے کہ ضائع کیے گئے موقعوں کا کچھ ماتم کیا جائے۔ ہماری تاریخ میں مختلف مراحل پہ بہتر فیصلے کیے جا سکتے تھے۔ لیکن ہماری قیادتوں کی سوچ محدود تھی۔ آج کل صبح کے اُس وقت جب آنکھیں آدھی بند ہوتی ہیں اور آدھی بیدار تو اکثر خیال مولانا ابوالکلام آزاد کی کچھ باتوں کی طرف

جاتا ہے۔ میں تو کہوں گا کہ ہر سو چ رکھنے والے شخص کو اُن کا وہ خطبہ سُننا چاہیے جو انہوں نے 1947ء کے پر ہنگام واقعات کے دوران جامع مسجد دہلی میں دیا کیا تھا۔ یہ تقریر ٹوٹے پھوٹے انداز میں یو ٹیوب پہ موجود ہے۔ اپنے سامعین سے مخاطب ہو کے مولانا آزاد نے چیخ چیخ کے کہا تھا کہ کہاں جا رہے ہو، اپنی ہزار سالہ سلطنت کی نشانیوں کو کیوں چھوڑ کے جا رہے ہو؟ تب پورے ہندوستان کی آبادی چالیس کروڑ تھی‘ جن میں مسلمان دس کروڑ تھے، یعنی چار میں سے ایک۔ مولانا نے کہا: اتنی بڑی تعداد کب اقلیت ہو سکتی ہے۔ اپنے آپ پہ کچھ بھروسہ کرو نہیں تو تمہاری مجموعی طاقت تقسیم ہو جائے گی۔ لیکن تب تاریخ کا ایک اپنا دھارا تھا اور مولانا آزاد اُس سے ہم آہنگ نہ تھے۔ اُن کی باتیں بے معنی اور بے وقعت لگتی تھیں۔ تاریخ کا طالب علم البتہ اُن باتوں پہ غور تو کر سکتا ہے۔ اس وقت نہیں لیکن ایک بعد کے انٹرویو میں مولانا نے یہ بھی کہا کہ زیادہ دیر بنگالی پاکستان کا حصہ نہیں رہیں گے۔ ہم جیسے لوگ حال کو پڑھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔ چند قدرت کے نوازے لو گ مستقبل کو پڑھ سکتے ہیں۔ مولانا شاید ایسے لوگوں میں تھے۔ بہرحال جو ہونا تھا ہو گیا۔ لیکن جو وقت کے تقاضے ہیں‘ وہ تو ہم پورے کریں۔ ہندوستان اگر آج سیکولر سوچ چھوڑ کر انتہا پسندی کی طرف مائل ہو رہا ہے تو ہمارے لیے یہ پیغام نہیں کہ ہم دوسری طرف چلیں اور ایک بہتر معاشرہ بنانے کی کوشش کریں؟ یعنی ہندووانہ انتہا پسندی کا ہمارے لیے کچھ پیغام ہونا چاہیے کہ رجعت کی سوچوں کو ہم پیچھے چھوڑیں اور آگے کی طرف دیکھیں۔ کیا ہم یہ کر سکتے ہیں؟ کیا کوئی ایسے ہمارے لیڈر ہیں جو اِس قسم کی سوچ رکھتے ہوں؟ دنیا کو چھوڑیں، ہمارے علاقے اور پڑوس میں ڈرامائی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں۔ افغانستان کی صورتحال، ایرانیوں اور سعودیوں کا جھگڑا، سعودی عرب کی تیل کی تنصیبات پہ حالیہ حملہ اور امریکہ کی گومگو کی کیفیت ۔ یہ سب نئے حالات کی علامتیں ہیں۔ نریندر مودی ہمیں ایک موقع فراہم کر رہے ہیں کہ ہم اپنے آپ کو نئے سرے سے ایجاد کریں۔ یہ ایک تاریخی چیلنج ہے۔ ہم اس پہ پورا اتر سکتے ہیں؟(ش س م)