خان صاحب کسی پر فتح کیسے پائی جاتی ہے ، اس حوالے سے عظیم جرمن دانشور بسمارک نے ایک جملہ کہا تھا ، اگر آپ بھی بھارت کو نتھ ڈالنا چاہتے ہیں تو ۔۔۔۔۔ ایاز امیر نے شاندار مشورہ دے دیا

لاہور (ویب ڈیسک) اٹل حقیقت تلوار یا بندوق کی ہوتی ہے۔ لیکن اس کا استعمال سوچ سمجھ سے ہونا چاہیے۔ پہلے سوچ بچار پھر تلوار کااستعمال۔ دنیا میں عظیم فاتحوں نے ہمیشہ ایسے ہی کیا۔ جوکہتے ہیں کہ جنگ سے کچھ حاصل نہیں ہوتا‘ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں۔ دنیا کا نقشہ امن کی قراردادوں سے

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ نہیں بلکہ جنگوں سے بنا ہے۔ اسی حقیقت کا اظہار جرمنی کے عظیم مدّبر بسمارک نے کیا تھا‘ جب 1862ء میں جرمن پارلیمان میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے وہ مشہور الفاظ کہے کہ ہماری تقدیر کے فیصلے جو ہونے چلے ہیں وہ تقاریر اور قراردادوں سے نہیں بلکہ خون اور فولاد سے ہوں گے۔ اُس وقت جرمنی چھبیس سے زائد بکھری ہوئی ریاستوں کا مجموعہ تھا۔ بسمارک نے سوچ سمجھ کے تین جنگیں لڑیں… ڈنمارک، آسٹریا اور آخر میں فرانس کے ساتھ… اور اِن جنگوں کے ذریعے جرمنی کو متحد کیا۔ دو عالمی جنگوں کی تباہیوں سے بسمارک کا جرمنی گزرا لیکن متحدہ جرمنی کا تصور پھر بھی قائم ہے۔ تو پھر بات وہی ہے کہ ہندوستان نے جو کرنا تھا کردیا۔ ہم کیا جواب دے سکتے ہیں؟ ہم نہ جرمنی ہیں نہ ویتنام۔ یہاں نہ کوئی بسمارک ہے نہ کوئی ہوچی مِن۔ لیکن ہندوستان نے ہمیں امتحان میں ڈال دیا ہے۔ ہم اِس کا جواب کیا دیں گے؟ ایک تو شملہ معاہدہ اب پھاڑ دینا چاہیے۔ شملہ معاہدے میں ہم نے اقرار کیا تھا کہ ہمارے معاملات دو طرفہ مذاکرات کے دائرے میں رہیں گے، یعنی ہم کسی بین الاقوامی فورم میں ان معاملات کو نہیں لے جائیں گے۔ شملہ معاہدے کی رو سے اقوام متحدہ کی قراردادیں بے اَثر ہوگئی تھیں۔ شملہ معاہدے کے بعد سترہ سال تک ہم نے کشمیر کی کبھی بات نہ کی۔ وہ تو ایسے لگتاتھا کہ کشمیر کا ذکر ہم نے اپنے حافظے سے نکال دیاہے۔ یہ تو کشمیریوں کی اپنی ہمت ہے کہ 1989ء میں انہوں نے ہندوستانی تسلط کے خلاف بغاوت کرڈالی۔ بعد میں اُس بھڑکنے والی آگ میں ہم نے اپنا حصہ ڈالنے کی کوشش کی لیکن ہماری اِس حرکت سے کشمیریوں کا فائدہ نہیں نقصان ہی ہوا۔ کارگل کی جنگ تو خالصتاً ایک گھاٹے کا سوداتھا۔ ہمارے جوانوں اور افسروں نے بے پناہ بہادری دکھائی لیکن وہی پرانا مسئلہ تھا کہ جنگ شروع کرنے والوں کو یہ سمجھ نہ تھی کہ حاصل کیا کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ نئی صورتحال ہے۔ پاکستان کو کچھ تو کرنا چاہیے۔ شروع اس بات سے ہونا چاہیے کہ معاہدہ شملہ کو تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا جائے۔ اب یہ فضول کی باتیں نہیں ہونی چاہئیں کہ ہم ہندوستان کو امن کی پیشکشیں کرتے رہیں۔ کچھ سبق حزب اللہ سے بھی سیکھ لیں۔ کہاں اسرائیل کی طاقت اور کہاں حزب اللہ کے محدود وسائل۔ لیکن حزب اللہ کبھی ہمت نہیں ہاری۔ (ش س م)