ارے میاں اتنا کھایا ہے تو ذرا ہمت دکھاؤ ۔۔۔۔۔ احتساب پر چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لینے والے شریف خاندان کے لیے ایاز امیر کا خصوصی پیغام

لاہور (ویب ڈیسک) دونوں لیڈران نے اپنے اپنے دورانیۂ اقتدار میں خوب کمایا اورخوب کھایا۔ اتنا زیادہ کہ اس کی نظیر پاکستانی تاریخ میں نہیں ملتی ۔ کھانا پینا یاجسے کرخت الفاظ میں کرپشن کہتے ہیں ہماری قومی زندگی کا ہمیشہ حصہ رہا ہے۔ لیکن کبھی اتنا زیادہ نہیں ۔ تو پھر رونا کیا؟ اِس سے توعادی مجرم

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کہیں بہتر ہوتے ہیں جو اگر اپنے کسی کیے پہ سلاخوں کے پیچھے جائیں تو روتے نہیں ، بس کہتے ہیں کہ جب تک قسمت نے ساتھ دیا ٹھیک رہے قسمت ہار گئی تو ہم بھی ہار گئے۔ ساری گرفتاریوں سے زیادہ انوکھی بات تو سرکاری مرسڈیز بنز کی جاتی امراء سے برآمدگی ہے۔ اندازہ لگائیے کہ کب کے وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہوئے لیکن یہ سرکاری گاڑی قبضے میں رکھی ہوئی تھی ۔ یہ تو کیبنٹ ڈویژن کو زبردستی کرنی پڑی ہے کہ مع حکام اورپولیس کے جاتی امراء جانا پڑا اور کارکو برآمد کیا۔ نہیں تو جاتی امراء والے دبائی بیٹھے تھے ۔ کیبنٹ ڈویژن کے بارہا نوٹسز کے بعد تو شرافت چھوڑئیے تھوڑی عقل بھی ہوتی تو گاڑی خود بخود اسلام آباد پہنچا دیتے اور میڈیا کے اپنے حواریوں سے اس اقدام کی داد بھی لیتے۔ لیکن اِتنی عقل کہاں سے آتی ۔ ہمارے معاشرے میں حکام یا پولیس کسی مال کی برآمدگی کیلئے گھر آئیں تو اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ بھلے مانس تو ایسی مطلوبہ اشیاء خود ہی پہنچا دیتے ہیں جہاں پہنچانی ہوں۔ لیکن یہاں باقاعدہ کارروائی کرنا پڑی اور پھر کالے رنگ کی بُلٹ پروف مرسڈیزگاڑی سرکار کو واپس ملی۔ یہ وہاں کی نفسیات کی ایک جھلک ہے کہ مفت مال ہتھے آئے تو واپس نہیں کرنا چاہے کسی نے جو بھی کرنا ہو کرے ۔لہٰذا جو لوگ دیگر جائیدادوں کے بارے میں حیران ہوتے ہیں اُن کی ایسی کیفیت بلا جواز ہے ۔ یہاں وزارتِ عظمیٰ کے چند سال بعد تک

سرکاری گاڑی واپس نہ کی جارہی تھی۔ انہوں نے دیگر جائیدادوں کے بارے میں کون سا اقرار کرنا تھا۔ بھلا ہو عدالتِ عظمیٰ کے ایک بینچ کا کہ حدیبیہ کیس سے جان چھوٹ گئی نہیں تو اُس کیس میں منی لانڈرنگ کی تمام تفصیلات درج تھیں کہ کیسے فرضی بینک اکاؤنٹ کھولے گئے تھے، کیسے اُن میں بھاری رقوم جمع کی گئیں اور پھر عجیب ٹیڑھے راستے وہ رقوم سفید ہو کے واپس ملک میں آئیں۔ یہ تو اب دس گیارہ ماہ بعد تھوڑی سی جھلک مل رہی ہے کہ یہاں حکومت نام کی کوئی چیز ہے‘ نہیں تو اب تک مذاق ہی چل رہا تھا۔ احتساب نے کیا ہونا تھا احتساب کا مذاق اُڑایا جا رہا تھا۔ اب جا کے پتہ چل رہاہے کہ احتساب کے نام پہ کچھ ہورہاہے۔ یہ کہاں یا کس ملک میں تماشا ہوتاہے کہ کوئی کرپشن کے الزام میں اندر ہو اور ہر ہفتے کھیپ در کھیپ پارٹی لیڈران و ورکر جیل میں اُن کا دیدار کریں؟ گیارہ ماہ بعد حکومت کو اپنی ہوش آرہی ہے اور ایسی مزاحیہ ملاقاتوں پہ پابندی لگائی جارہی ہے۔ یہ جو قومی اسمبلی میں پروڈکشن آرڈر والی بات ہے یہ بھی صریحاً مذاق ہے۔ یہ لوگ جو اندر ہیں یہ کسی تحریک ِآزادی کی وجہ سے اندر ہیں ؟یہ کسی تحریکِ آزادی کے چیمپئن ہیں کہ شور مچایا جا رہا ہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس ہو تو انہیں بھی آنے کی اجازت ہو؟ اس بارے میں وزیراعظم کا مؤقف بالکل درست ہے۔ جو کرپشن کیسز کی وجہ سے اندر ہیں انہیں آرام سے وہیں رہنا چاہیے۔ یہ پروڈکشن آرڈر والی روایت جس نے بھی ڈالی اُس کا اُس وقت جواز ہوگا

لیکن اب نہیں ہے۔ لاکھ تنقید اِس حکومت پہ کریں‘ یہ منتخب حکومت ہے۔ باوجود اس کے کہ منتخب ہونے میں اِدھر اُدھر سے اِسے تھوڑی بہت امداد ملی۔ عمران خان کو چلیں وٹامن کے کچھ انجکشن لگے ہوں گے۔ شریفوں کی تو پوری آبیاری مخصوص گملوں میں ہوئی۔ اِن کی پنیری بنا کے اِنہیں گملوں میں ڈالا گیا اورپھر اِنہیں دھوپ چھاؤں سے بچاتے ہوئے تندرست وتوانا کیا گیا۔ یہ کسی اور پہ کیا پھبتی کَس سکتے ہیں ۔ اِن کیلئے یہ وقت سوچنے کا ہے کہ ان کے ساتھ ہوا کیا اورموجودہ مقام پہ یہ کیسے پہنچے۔ غیر ضروری لڑائیاں نہ لیتے تو شاید یہ دن نہ دیکھنے پڑتے ۔ کہاں ہیں ان کے جنگجو جو دن رات میاں نوازشریف کو جارحیت پہ اُکساتے رہتے تھے؟ مریم نواز کو بھی کچھ پوری طرح حالات کی سمجھ نہ تھی اوراپنے سے زیادہ کام کرنے لگ پڑیں۔ وہ جو ناٹک میڈیا سیل والا تھا اس کی کیا ضرورت تھی؟ آپ کے پاس حکومت ہے، پارلیمنٹ میں اکثریت ہے، ہر پندرہ دن بعد آپ غیرملکی دورے کررہے ہیں۔ لندن کے بغیر آپ کو کہیں چین نہیں آتا۔ یہ صورتحال ہے اورآپ اتنے آرام طلب ہیں تو پھر بلا جواز کی لڑائیوں کی کیا تُک بنتی تھی؟ احتیاط سے چلتے اوراپنے جنگجوؤں کو لگام دیتے ۔ لیڈران جنگجوؤں کو استعمال کرتے ہیں اُن کے ہتھوں استعمال نہیں ہوتے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کو دیکھ لیجیے۔ اُن کے ارد گرد جنگجوؤں کی کمی نہیں۔ نیشنل سکیورٹی ایڈوائزر جان بولٹن اور سیکرٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو مسلسل صدر ٹرمپ کو اُکساتے رہے ہیں کہ ایران پہ حملہ ہونا چاہیے۔

جان بولٹن کا بس چلتا تو اَب تک حملہ ہوگیا ہوتا۔ لیکن ڈونلڈ ٹرمپ اور جو کچھ بھی ہیں بے وقوف نہیں ۔آخری وقت انہوں نے جنگجوؤں کی رائے مستر د کردی اورایران پہ کسی قسم کا حملہ نہ کیا۔ نواز شریف اپنے جنگجوؤں کے ہاتھوں مارے گئے۔ وہ جو اُنہیں اُکساتے تھے کہ ایسا کردیں ویسا کردیں، فلاں ادارے کے خلاف اعلانِ جنگ کردیں۔ اعلانِ جنگ تو ہو گئی لیکن اُس کا نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔آصف علی زرداری زیادہ سمجھدار ہیں۔ اُن کے ساتھ جوہورہاہے وہ تو ہورہاہے لیکن ماسوائے ایک موقع کے اُنہوں نے بلاجواز جارحیت کا راستہ نہیں اپنایا۔ اِن سے بھول اُس موقع پہ ہوئی جب اِنہوں نے للکار کے کہا کہ ہمیں تنگ مت کرو ، تم تین سال کے لئے آتے ہو ہم نے ہمیشہ یہاں رہناہے ۔ کچھ کروگے تو ہم اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دیں گے ۔ بھول ہوئی اور بہت بڑی بھول لیکن اُس کا احساس بھی جلد ہوگیا اور پھر ایسی بھول نہ دہرائی گئی ۔ اَب تو مکمل طورپہ پرانی عادت پہ آچکے ہیں۔ گرفتار بھی ہوئے اورپیشیاں بھی بھگتیں تو چہرے سے مسکراہٹ نہ گئی۔ وہی پرانے آصف علی زرداری کی یاد تازہ ہو گئی۔ایک اور چیز اُن کی قابلِ غور ہے۔ وہ یہ تو کہتے ہیں کہ اُن کے ساتھ سیاست ہورہی ہے اورسیاسی بنیادوں پہ اُن کے خلاف کیس بنتے ہیں لیکن برملا اُنہوں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ وہ بے قصور یا معصوم ہیں ۔ اِس بحث میں پڑتے ہی نہیں۔ بہت کچھ کھایا بہت کچھ اکٹھا کیا،حتیٰ کہ اُن کا شمار اب پاکستان کے امیر ترین اشخاص میں ہوتا ہے ۔

ایسی حیثیت زرداریوں کی کبھی نہ تھی ۔ اُن کے والد گرامی آسودہ حال تھے ، کھاتے پیتوں میں اُ ن کا شمار ہوتاتھا لیکن موجودہ جاہ وجلال اوراتنی بڑی بادشاہت یہ آصف زرداری کا کمال ہے ۔ سماجی حیثیت سے بھٹوز،زرداریوں سے کہیں آگے تھے لیکن آج اثاثہ جات ِ زرداری بھٹوز کی ملکیت سے کہیں آگے ہیں۔ یہ سب کچھ ہوا لیکن اِس نکتے پہ داد دینی پڑتی ہے کہ آصف علی زرداری روتے نہیں۔ رونے کا ریکارڈ تو شریفوں نے قائم کیاہے۔اِس میں کچھ فرق زمینداری بیک گراؤنڈ اور غیر زمیندار ی بیک گراؤنڈ کا بھی ہے ۔ مار دھاڑ والا شخص زمیندار ی بیک گراؤنڈ کا ہو تو اپنی کچھ لاج رکھتاہے ۔ مصیبت میں بھی ہو تو کوشش ہوتی ہے کہ مونچھوں کو تاؤ دئیے رکھے اورکمر میں بل نہ آئے ۔ذوالفقار علی بھٹو کو ہی دیکھ لیجیے ۔ کال کوٹھڑی میں رہے ، سزائے موت ہوگئی لیکن گردن میں خم نہ آیا۔ جھکے نہیں ،کوئی اِدھر اُدھر کی گھٹیا قسم کی درخواست نہیں کی ۔ جب موت کا پروانہ سپرنٹنڈنٹ جیل یار محمددُریانہ نے سُنایا تو چہرے پہ اثر تو ہوا لیکن فوراً اپنے اعصاب پہ قابو پا لیا ۔ کچھ دنوں کی شیو بڑھی ہوئی تھی۔ سپرنٹنڈنٹ جیل سے کہا کہ مجھے شیو کا سامان مہیا کیا جائے، میں ملا کی موت نہیں مرنا چاہتا۔ ایسے موقع پہ ایسے الفاظ ہر کوئی نہیں ادا کرسکتا۔ لیکن تاجر یا صنعتی بیک گراؤنڈ کے لوگوں میں ایسی چیز کم ہی نظر آتی ہے ۔ وہ ناپ تول اور حساب کتاب کے شخص ہوتے ہیں ۔ مصیبت آئے تو کمپرومائز جلد کرلیتے ہیںیا چیختے چلاتے بہت ہیں۔ یہی اب دیکھنے کو مل رہاہے۔ نون لیگیوں کا رونا دھونا بند ہی نہیں ہورہا۔ جب اِتنا کھایا ہو کچھ تو حوصلہ دکھانا چاہیے۔ (ش س م)