پنجاب کے متعدد افسران اپنی بیگمات اور بچوں کے ہمراہ چکوال کے ریسٹ ہاؤسز میں کئی کئی دن ٹھہرتے ہیں ، وہاں انکے قیام و طعام کا خرچہ کون برداشت کرتا ہے ؟ ایاز امیر کے انکشافات

لاہور (ویب ڈیسک) اخبارات اور ٹی وی کو دیکھیں تو گمان گزرتا ہے کہ پاکستان میں سیاستدانوں کے مسائل کے علاوہ اور کوئی مسئلہ نہیں۔ وہی لیڈروں کے کارنامے اوربے تُکی تقاریر۔ ایک دن کی خبریں دوسرے دن سے عموماً مختلف نہیں ہوتیں۔ گاؤں میں دو تین روز رہتا ہوں تو شہروں کی دو نمبری

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ سیاست کسی اور دنیا کی کہانی لگتی ہے۔ یہاں لوگ حصول روزگار کے جتن میں لگے رہتے ہیں اوروہی چھوٹے موٹے مسئلے جن سے دیہات کی زندگی بھری رہتی ہے۔ پاکستان کے شہروں اوردیہات میں بہت فاصلہ ہے۔ یہ فاصلہ سب سے زیادہ نمایاں پاکستانی سیاست میں ہوتاہے۔حکومتیں شہروں کی ہوتی ہیں اورحکومتیں شہری آبادی سے ہی ڈرتی ہیں کہ وہ کہیں کسی وجہ سے بپھر نہ جائے۔ یہی وجہ ہے کہ شہروں میں لوڈ شیڈنگ کم ہوتی ہے اورخسارہ زیادہ تر دیہاتوں کو پورا کرنا پڑتاہے۔ بڑے انڈسٹریوں کے لوگ اور سٹاک مارکیٹ والے حکومتوں پہ اثر انداز ہو سکتے ہیں اور اپنے لیے فائدے بھی لیتے رہتے ہیں۔ دیہی آبادی کا کوئی پرسان حال نہیں۔ ہمارے دوست خالد محمود کھوکھر کا ایک عدد کسان اتحاد ہے۔ وہ کبھی کبھار اپنی ڈیمانڈیں بذریعہ اشتہارات دیتے رہتے ہیں لیکن پتہ نہیں ان کی کوئی سنتا ہے یا نہیں۔دیہات میں سرکار کی موجودگی تین محکموں سے ہوتی ہے: 1۔ محکمہ پولیس 2۔ محکمہ مال اور 3۔ محکمہ تعلیم۔ کاغذی طور پہ پولیس کا فرض ہے جان و مال کا تحفظ کرنا۔ اصل میں پولیس اب ذریعۂ لوٹ مار زیادہ بن چکی ہے اور دیگر اُس کے فرائض کچھ پیچھے کو رہ گئے ہیں۔ دیہی آبادی یا شہروں کی غریب آبادی نہ رہے تو محکمہ پولیس بھوک وافلاس کی شکار ہوجائے۔ پولیس کی زیادہ کمائی غریب ولاچار طبقات سے ہوتی ہے۔ دیہی آبادی کو زیادہ تر لاچار ہی سمجھنا چاہیے۔ یہ تو عام مشاہدہ ہے کہ اصل میں جرم ہوجائے تو پولیس کے ہاتھ پاؤں بڑی مشکل سے چلتے ہیں۔

فضول کی درخواست بازی ہو تو پولیس کی پھرتیاں دیکھنے کے قابل ہوتی ہیں۔ بھیڑیا اپنے شکار پہ اتنا پھرتی سے چھلانگ نہیں لگاتا جتنا کہ پولیس درخواست بازی یا ایسے معاملات میں کودتی ہے۔محکمہ مال کا بھی یہی حال ہے۔ محکمہ مال کا ادنیٰ سے ادنیٰ کاغذ رشوت کے بغیر حرکت میں نہیں آتا۔ پیسے کا کمال ہو گا، ہتھیلیوں کو کھجایا جائے گا تب ہی کچھ ہو سکے گا۔ بڑے سے بڑا پراپرٹی ٹائیکون راز کی یہ بات سمجھتا ہے۔ محکمہ مال کو جیب میں نہ ڈالا ہو تو کوئی پراپرٹی کا کام آگے نہیں چل سکتا۔ ہمارے پراپرٹی کے بڑے دوست جن کا نام ذہن سے ہمیشہ پھسل جاتاہے اُن سے یہ بات پوچھی جاسکتی ہے۔ ضلعی انتظامیہ کا کام بھی پٹواریوں کے سر پہ چلتا ہے۔ کوئی خرچہ کرنا ہو تو تحصیلداروں کو کہاجاتا ہے اوروہ آگے سے پٹواریوں سے اُگرائی کرتے ہیں۔ پٹواری عوام سے اُگرائی کرتے ہیں۔ پاکستان کا اصل نظامِ حکومت یہی ہے۔ جمہوریت اورقانون کی حکمرانی کی باتیں سب کتابی باتیں ہیں۔DMG کے افسران (اب تو اُن کے محکمے کا نام بدل چکا ہے) اپنے آپ کو بہت بڑا سمجھتے ہیں۔ لیکن وہ یا اُن کے خاندان والے کسی ریسٹ ہاؤس میں قیام کریں تو خرچہ پھر متعلقہ علاقے کا محکمہ مال ہی کرتا ہے۔ ضلع چکوال میں چند ایک ریسٹ ہائوسز بڑے اچھے سمجھے جاتے ہیں مثلاً کلرکہار کا ریسٹ ہاؤس یا دھرابی ڈیم کے بالکل اوپر بنا ہوا ریسٹ ہاؤس۔ افسران مع بیگمات کا یہ پسندیدہ مقامات ہیں۔ لیکن قیام ہو تو خرچہ پھر متعلقہ پٹواری کو کرنا پڑتا ہے۔

اصل حقیقت پاکستان کی یہ ہے اورہم لوگ جو چینلوں پہ افلاطون بنے ہوتے ہیں پتہ نہیں کہاں کہاں کی الاپ رہے ہوتے ہیں۔ تھوڑی سی کوئی بات کسی سیاسی لیڈر کے حوالے سے ہو جائے تو ہم چیخ اُٹھتے ہیں کہ جمہوریت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ یہ نکتہ ہم سمجھنے سے قاصر ہیں کہ بڑوں کا پاکستان اورہے اورمفلسوں ،لاچاروں کا اور۔ بڑے اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔ وسائل اور وہ بھی وافر اُن کے ہوتے ہیں۔ مہنگے سے مہنگے وکیل اُن کی دسترس میں رہتے ہیں۔ ہم مڈ ل کلاسیے جو چینلوں پہ بیٹھتے ہیں ہم بڑوں کے لیے کیوں ہلکان ہوتے رہتے ہیں؟ نوازشریف اپنا خود دفاع نہیں کر سکتے؟ خواجہ حارث اُن کیلئے دن رات stand-to نہیں رہتے؟ آصف زرداری کو کسی مڈل کلاسیے کی مدد کی ضرورت ہے؟ وہ ارب پتی نہیں کھرب پتی ہیں۔ سیاست اُن کی اب بھی بھٹو کے نام پہ چلتی ہے۔ لیکن مالی طور پہ وہ بھٹو کو کہیں پیچھے چھوڑ چکے ہیں ۔بھٹو فقط زمیندار یا وڈیرہ تھے۔ لاڑکانہ میں کوٹھی تھی اور کلفٹن میں دو متصل کوٹھیاں۔ گاؤں میں گھر بس ویسا ہی تھا۔ زرداری کے کمال دیکھیے کہ مالی لحاظ سے اس ملک کو چھوڑئیے بیشتر برّاعظموں میں اُن کی جائیدادیں پھیلی ہوئی ہیں۔ لیکن ہم جیسے پتہ نہیں کن فضول باتوں میں پڑے رہتے ہیں۔ قانون کی حکمرانی کی ایسی باتیں کرتے ہیں جیسے اس کا فلسفہ ہم نے مرتب کیا ہو۔ یہ بات ہمارے مغزوں میں جاتی نہیں کہ قانون کی حکمرانی اور اِس جیسے نظریات ہمیں غیروں سے ملے۔ وہ قانون تو ہمیں دے گئے ہمارا خمیر نہ بدل سکے۔

پاکستان کی آج کی حقیقت یہ ہے کہ ایک طرف پاکستان ہے اوردوسری طرف ہمارا خمیر۔ پاکستان بھی ہمارے خمیر کے سامنے بے بس ہے۔ ہمارے شہروں میں جو میونسپل سروسز کا حال ہے ہم جانتے ہیں۔ ہمارے تین بڑے شہر ہیں: کراچی، لاہور اورراولپنڈی اوران کی صفائی دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت کی صلاحیت سے باہر ہے۔ اسی لیے پنڈی اورلاہور کی صفائی کا ٹھیکہ ایک ترکی کمپنی کو دیاگیاہے اورکراچی کی صفائی ایک چینی کمپنی کے ذمے ہے۔ یہ تو ہماری اصل حالت ہے اورباتیں ہماری چاند ستاروں سے آگے ہیں۔ سوچنے کا مقام البتہ یہ ہے کہ شہر میں پھر بھی کوئی ذریعہ صفائی ہے بیشک واجبی سہی۔ لیکن پاکستان کے تمام دیہی علاقوں میں صفائی کا سرے سے کوئی نظام ہے ہی نہیں۔ گاؤں کا کوڑا کرکٹ کہاں جائے گا اس کا نہ بندوبست نہ اس کے بارے میں کوئی سوچ ہے۔ مشرف کے دور میں تحصیل انتظامیہ بنا دی گئیں لیکن وہ گئے تو اُن کا نظام بھی گیا۔ آج صورتحال یہ ہے کہ پورے دیہی پاکستان میں کوئی میونسپل نظام نہیں۔ صفائی اورکوڑا کرکٹ تو ایک طرف رہا، کوئی پوچھنے یا بتانے والا نہیں کہ دیہات میں تعمیرات کے حوالے سے کوئی نقشہ جات ہونے چاہئیں یا نہیں۔ کوئی پوچھنے والا نہیں کہ گاؤں کا گندا پانی کس طرف جائے۔ صفائی نہیں ہوسکتی تو گندگی کے پھیلاؤ میں تو کمی ہونی چاہیے۔ گندگی اُٹھا نہیں سکتے تو پلاسٹک شاپروں پہ پابندی لگا دیں لیکن وہ بھی نہیں۔ نزدیک کی دکان سے ماچس کی ڈبیا خریدنے جائیں تو دکاندار اس ایک ڈبیا کو بھی پلاسٹک کے شاپر میں ڈال دیتاہے۔ کوئی ملک میں درس دینے والا نہیں کہ ایسا نہیں کرنا چاہیے۔

چین ویسے ہی ترقی نہیں کرگیا۔ وہاں کی کمیونسٹ پارٹی کی تنظیمیں اورجڑیں پوری دیہی آبادی میں پھیلی ہوئی تھیں۔ اوپر سے کمیونسٹ پارٹی کا حکم ہوتا، اس حکم کو بجا لانے کیلئے تمام دیہات میں پارٹی کے عہدیدار ہوتے۔ ایسے عہدیدار جنہوں نے لانگ مارچ اورقومی آزادی کی جنگ میں حصہ لیا ہوتا۔ ان کاوشوں کی وجہ سے چین کی شکل بدلی۔ ہمارے ہاں ایسی کوئی کاوش نہیں۔ وہی پٹواری اوروہی تھانیدار۔ سیاسی پارٹیوں کا دیہاتوں اور زمین پہ وجود ہی نہیں۔ باتیں ہم پتہ نہیں کس انقلاب کی کرتے ہیں۔نظامِ تعلیم کا اوپر ذکر ہوا کہ وہ بھی سرکار کی موجودگی کی ایک نشانی ہے۔ لیکن پاکستان میں پھر وہی تفریق ہے کہ شہروں کے سکول بہتر اوردیہات کے پسماندہ۔ یہ فرق دور کرنے کیلئے باتیں بہت‘ لیکن کچھ کرنے کو کوئی تیار نہیں۔ تیار ہونا تو دور کی بات ہے، معمولی سوچ بھی اس حوالے سے کہیں نہیں ملتی۔ٹی وی تو ہم دیکھتے نہیں اوراچھا ہی کرتے ہیں۔ اخباروں کا پلندہ آتاہے جسے سرسری نظر کے بعد پرے دھکیلنے کو جی چاہتاہے۔ مسائل کچھ اور ہیںاورسیاسی گفتگو اورموضوعات کے گرد گھومتی ہے۔ دیہات سے نکلیں اور شہروں کی طرف جائیں تو لگتاہے کہ اس ملک میں دو ہی کاروبار ہیں: شادی ہال بنانا یا ہاؤسنگ سوسائٹیوں کے نام پہ عوام کو لوٹنا۔ لگتا ہے پوری قوم انہی دو مشاغل میں لگی ہوئی ہے حالانکہ چند دن دیہات میں رہیں تو پتہ چلتا ہے کہ وہاں کی حقیقتیں کچھ اور ہیں۔ لیکن ان حقیقتوں کو سمجھے گا کون؟ ان کی طرف دھیان کون دے گا؟ دیہی آبادی کے پاس ووٹ ہیں لیکن سیاسی طاقت نہیں۔ شہروں کے پوش علاقوں میں ووٹ نسبتاً کم ڈالے جاتے ہیں لیکن طاقت کے مراکز وہی پوش علاقے ہیں۔(ش س م)