میں تو اس بھول میں تھا کہ عمران خان بڑے فیصلہ کن انسان ہیں آتے ہیں دبنگ فیصلے کریں گے ، مگر نہیں ۔۔۔۔ ایاز امیر بھی عمران خان سے مایوس ہو گئے ، کیا کچھ کہہ ڈالا ؟ جانیے

لاہور (ویب ڈیسک) سیاست کا معیار ایسا گر چکا ہے کہ اُس میں دلچسپی پیدا کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ یہ لیڈر جن سے ہماری جان نہیں چھوٹ رہی اُن کی کہانیاں کتنی دفعہ انسان پڑھ سکتا ہے۔ کس نے کتنا مال بنایا، ڈاکے کہاں ڈالے، جائیدادیں کہاں بنائیں، اس پہ اب کتنا غصہ کیا جا سکتا ہے؟

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ احتساب تو ایسا لفظ ہے جس کو سنتے سنتے کان پک چکے ہیں۔ ضیاء الحق کے زمانے سے احتساب کا سنتے آ رہے ہیں۔ یہ ہمیں معلوم ہے کہ ہونا ہوانا کچھ نہیں۔ جو تگڑے اور مالدار لوگ ہیں وہ ایسے ہی رہیں گے۔ اُن کی جائیدادیں ضبط ہونے نہیں جا رہیں۔ بڑے بنگلے اور زمینیں ویسے ہی رہیں گی تو پھر چیخنے چلانے کا فائدہ کیا؟ بخار ہوتا ہے تو اورچیزوں کی وجہ سے۔ یہ پلاسٹک کے شاپروں کی لعنت کے بارے میں ہماری مملکت میں کوئی کیوں نہیں سوچتا؟ یہ لعنت تباہی کا موجب ہے، اس پہ مکمل اور فوری پابندی میں کیا امر مانع ہے؟ میں تو اس بھول میں تھا کہ عمران خان بڑے فیصلہ کن انسان ہیں۔ آتے ہی بڑے بڑے فیصلے کریں گے اور کم از کم پہلے ہلے میں ہی اس لعنت پہ پابندی عائد ہو جائے گی۔ لیکن نہیں، وہی فضول باتیں کہ پہلے پابندی اسلام آباد میں لگے گی اور پھر دیکھا جائے گا۔ پلاسٹک کے شاپروں کی وجہ سے ہولناک گندگی اور تباہی آنکھوں کے سامنے ہے‘ لیکن دنیائے اسلام کی واحد ایٹمی قوت اس لعنت کے سامنے بے بس ہے۔ پچھلے ہفتے ڈرائیور بیمار تھا۔ لاہور سے گاڑی خود چلانا پڑی۔ رات کا وقت تھا اور جونہی لاہور سے چکوال کی طرف موٹر وے پہ نکلے تو ٹھوکر نیاز بیگ سے لے کر کلر کہار تک ہر آنے والی گاڑی فل لائٹیں مار رہی تھی۔ موٹر وے پہ فل لائٹوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہوتی‘

لیکن کیا کہا جائے‘ اس ملک اور اس کے پڑھے لکھے لوگوں کا کہ معمولی سی عقل کی بات دماغوں میں نہیں آتی۔ اب بتائیے کہ کون سا آئی ایم ایف کا درس ہے‘ جو پاکستانیوں کو سمجھانے میں مددگار ثابت ہو گا کہ ایسی حرکتیں فضول بھی ہیں‘ اور خطرناک بھی؟ ایسے موضوعات کے حوالے سے قوم کی تدریس کون کرے گا؟ کون قوم کے پڑھے لکھے ان پڑھوں کو بتائے گا کہ جب سڑک پہ گاڑی میں جا رہے ہوں اور منہ میں آلو کے چپس یا دوسری ایسی فضول اشیا کے پھکے مار رہے ہوں‘ تو خالی پیکٹ کو سڑک پہ نہیں پھینکا جاتا؟ کون اس قوم کو درس دے گا کہ کہیں کسی پارک یا سڑک کے کنارے پلاسٹک کی پلیٹیں یا پیکٹس پیچھے نہیں چھوڑے جاتے؟ ایسے رویے ہمارے کلچر کا حصہ بن چکے ہیں۔ یہ کیسے تبدیل ہوں گے؟ دلچسپ امر یہ ہے اپنے آپ کو پڑھے لکھے سمجھنے والے ایسا کرتے ہیں۔ جسے دو وقت کی روٹی کی پڑی ہو اُس نے ایسی عیاشیاں کہاں کرنی ہیں۔ مجھے جاپان جانے کا ایک ہی دفعہ اتفاق ہوا ہے اور وہ بھی آج سے تقریباً تیس سال پہلے۔ میں جاپان کی ترقی سے اتنا مرعوب نہیں ہوا جتنا کہ ان کے عمومی رویوں سے۔ ٹوکیو میں رات ایک بجے کسی چھوٹی سڑک پہ ٹریفک نہ بھی ہوتی تو پیدل چلنے والے سڑک عبور نہ کرتے جب تک کہ سامنے لائٹ سبز نہ ہو جاتی۔ مرد و خواتین مے کدوں سے جھومتے ہوئے نکلتے لیکن مجال ہے کہ لال بتی ہو اور سڑک عبور کریں۔

ہم تو پتہ نہیں کن کن چیزوں پہ اور اپنے ماضی کے کن کن دریچوں پہ نازاں ہیں۔ لیکن جو ہمارا کلچر اور عمومی رویے بن چکے ہیں‘ اُن سے تو پتہ چلتا ہے کہ کسی درس کے ہم قائل نہیں۔ جو ہمارے مسائل ہیں وہ تو ہیں۔ معاشی مسائل ہیں، غربت کے مسائل ہیں۔ لیکن کون سی غربت یا کون سا معاشی بحران ہمیں اس بات سے روکتا ہے کہ اپنی عام زندگی میں ہم تھوڑا بہتا صفائی کا خیال رکھیں؟ ویسے تو ہم کہتے تھکتے نہیں کہ صفائی نصف ایمان ہے لیکن اس تلقین کا اثر ہم پہ واجبی سا بھی نہیں ہے۔ ایک نیا دارالخلافہ بنانے کی ضرورت چنداں نہ تھی لیکن ایوب خان پتہ نہیں کس خیال کے تحت ایک نئے دارالخلافے کی بنیاد رکھ گئے۔ سڑکیں بن گئیں، گھر بھی آباد ہو گئے لیکن اس دارالخلافے میں اب تک گندگی کو تلف کرنے کا نظام نہیں ہے۔ اسلام آباد کی گندگی کبھی ایک جگہ ڈھیر کی جاتی ہے اور وہ جگہ بھر جائے تو کوئی اور ٹھکانہ ڈھونڈا جاتا ہے۔ بتائیے ایسی سوچ کا علاج کیا ہے؟ بے ہنگم طریقے سے اسلام آباد پھیل چکا ہے اور پھیلتا جا رہا ہے‘ حتیٰ کہ اب سچ پوچھیے تو رہنے کے قابل نہیں رہا۔ مغلوں اور انگریزوں کا لاہور دیکھ لیجیے۔ ٹریفک بڑھ چکی ہے لیکن لاہور کا بنیادی نقشہ بہت اچھا اور خوبصورت ہے۔ ایسی خوبصورتی اسلام آباد میں کیوں نہ لائی جا سکی؟بہرحال یہ الگ کہانی ہے۔ فی الحال تو اس تکلیفوں کی ماری قوم کو کچھ بنیادی سبق سکھا دئیے جائیں… کہ بابا آسمانوں نے گاڑی کی توفیق دی ہے تو صحیح استعمال کرنے کا ڈھنگ تو کہیں سے آ جائے۔(ش س م)