ہمارے نومولود وزیراعظم کے دل میں اچانک روحانیت کا درد کیوں کس نے جگا دیا ہے ؟ ایاز امیر کی ایک اچھوتی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) یہ کس نے ہمارے نومولود وزیر اعظم کو سکھایا کہ یہاں روحانیت کی کمی ہے؟ جتنی روحانی عبادت گاہیں ہماری سرزمین پہ موجود ہیں کسی اور ملک میں نہ ملیں گی ۔ کوئی موڑ مڑیں تو کوئی عبادت گاہ یا خانقاہ نظر آئے گی۔ لہٰذا ہماری روحانی تربیت یا نجات کے لئے کسی سامان کی کمی نہیں۔

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔وہ یہاں وافر مقدار میں موجود ہے ۔ مسئلہ ہے تو دنیاوی نجات کا۔ زمین پہ آئے ہیں‘ اُس پہ بوجھ تو نہ بنیں ۔ انسانی وجود و حیات کو کچھ دے کے تو جائیں۔ لیکن ذرا سوچئے تو سہی کہ انسانی وجود میں ہمارا حصہ کیا ہے ۔ چھوٹی بڑی ایجادات جن کی بناء پہ موجودہ دنیا چل رہی ہے اُن میں ہم نے اپنا حصہ کیا ڈالا ہے؟ ہر چیز ہماری مانگے تانگے کی ہے ۔ کوئی ایک چیز ہم بنا نہیں سکتے ۔ مادی انحصار تو دنیائے مغرب پہ ہمارا ہے ہی لیکن فکری انحصار بھی ہم وہیں کرتے ہیں۔ کوئی بڑا منصوبہ تیار کرنا ہو جب تک باہر کے ماہرین آئیں نہیں‘ ہم سے معمولی پیش رفت نہیں ہو سکتی ۔ پہلے گورے آتے تھے اب ہمارا مکمل انحصار چینی دوستوں پہ ہوتا جا رہا ہے۔ سڑکیں بنائیں تو وہ، کوئی اور منصوبہ تشکیل دینا ہو تو اُن کی مدد کے بغیر نا ممکن۔ روحانی ذخائر ہمارے ہیں لیکن ڈھنگ کا مادی کام کرنا ہو تو ہاتھ پھیلانے پڑتے ہیں۔ عمران خان وزیر اعظم تو بن گئے ہیں لیکن وہ ایسا درس دینا شروع کرتے ہیں تو قدرتی طور پہ سوال اُٹھتا ہے کہ وہ کن بھول بھلیوں میں پڑ گئے ہیں؟ مغرب یا جاپان اور اب چین نے ترقی کی ہے تو کسی روحانی سفر کی بدولت نہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی پہ عبورحاصل نہ کیا جائے تو کوئی روحانی جستجو کسی کام نہیں۔ اور یہ عبور نا ممکن ہے جب تک ذہن کے دریچے نہ کھل جائیں اور اُن میں تازہ ہوا نہ آئے۔ ہمارے ذہن نہ صرف بند ہیں بلکہ آئے روز ہم نئی دلیل مہیا کرتے ہیں کہ ہم نے اپنے ذہن بند ہی رکھنے ہیں۔

پہلے ہمارے معاشرے میں ایسی باتوں کی کمی ہے کہ ان میں مزید اضافہ کیا جائے؟ ہندوستان پہ حاکم انگریز تھے اور اگر ہندوستان (جس کا ہم بھی حصہ تھے ) نے ماڈرن زمانے میں قدم رکھا تو وہ اپنی کوششوں سے نہ تھا بلکہ انگریز سامراج کی وجہ سے ۔ انگریز سامراج نے ہندوستان کو دھکیل کے جدید زمانے سے روشناس کرایا۔ ہندوستان میں ماڈرن تعلیم کی بنیاد انگریزوں نے رکھی ۔ سوچ کے نئے انداز اُنہی سے آئے‘ نہیں تو ہمارے ذہن زمانہِ قدیم میں قید تھے۔ تقسیمِ ہند کے بعد ہندوستان نے انگریز کے ورثے کو بہتر بنانے کی کوشش کی۔ اگر نئی سوچ کے تقاضے اُن کے کالجوں اور یونیورسٹیوں میں آ چکے تھے تو اُنہوں نے اُن کو مزید بہتر بنانے کی کوشش کی۔ ہمارا المیہ البتہ یہ رہا کہ تاریخ کے پہیے کو ہم نے پیچھے موڑنے کی کوشش کی ۔ انگریزی ورثے کی اچھی باتیں بجائے بہتر بنانے کے ہم نے برباد کرنا شروع کیں۔ تعلیم کا اچھا بھلا ڈھانچہ انگریز ہمیں دے کے گئے تھے ۔ یقینا اُس ڈھانچے میں کمزوریاں اور نقائص تھے ۔ ہماری کوشش ہونی چاہیے تھی کہ اُن کمزوریوں کو ہم دُور کرتے ۔ لیکن تعلیم کا سر ے سے ہم نے بیڑہ غرق کرنا شروع کر دیا ۔ تقسیم ہند سے پہلے پورے شمالی ہندوستان کا ثقافتی اور تعلیمی مرکز لاہور تھا۔ لاہور کی درس گاہیں ایسی تھیں کہ اُن کی شہرت دنیا بھر میں تھی ۔ آج اُن کی حالت کیا ہے؟ اگر تقسیمِ ہند کے وقت دو ذریعۂ تعلیم تھے یعنی انگلش میڈیم اور اردو میڈیم تو ہماری اولین کوشش ہونی چاہیے تھی کہ یکجا نظا م بنایا جائے اور اِس تفریق کو ختم کیا جائے ۔ ختم کیا کرتے ہم نے ایک تیسرا ذریعہ یعنی مدرسوں والا بنا دیا۔ اور اَب وزیر اعظم روحانی تعلیم کا درس دے رہے ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ جس درس گاہ کی اُنہوں نے موضع سوہاوہ کے قریب بنیاد رکھی اُس نے سارا تعلیمی نظام مزید بگاڑ دینا ہے‘ لیکن نوجوان ذہنوں پہ اَثر مثبت نہیں پڑتا جب حکومت کا سربراہ اِس قسم کی باتیں کرے اور پاکستان کی قومی کنفیوژن میں مزید اضافہ کرے۔پاکستان کا اولین مسئلہ ایک جدید ریاست بنانے کا ہے۔ فرسودہ خیالات کے چنگل کو توڑنے کا ہے نہ کہ پرانی سوچوں میں مزید اضافہ کیا جائے۔(ش س م)