عمران خان نے جانے انجانے میں نریندر مودی کو کیا بڑا فائدہ پہنچا دیا ہے ؟ بھارتی انتخابات کے حوالے سے بڑا سیاسی تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) یہ بات بالکل درست ہے کہ ہندوستان سے مفاہمت ہونی چاہیے۔ یہ ہمارے فائدے کی بات ہے لیکن خواہ مخواہ بچھے جانا‘ یہ کس حکیم نے ہمیں سکھایا ہے؟ فضول کے جہادیوں کو ہمیں روکنا چاہیے۔ وہ دن گئے جب ایسا عمل پالیسی کے طور پہ استعمال ہو سکتا تھا۔

نامور کالم نگار ایاز امیر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔یہ نکتہ ہمارے اداروں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ نام نہاد جہاد کے دن گئے۔ لیکن یہ کیا بات ہوئی کہ ہمارے وزیر اعظم رچرڈ نکسن اور ہنری کسنجر بننے کی کوشش کر رہے ہیں؟ فی الحال ہندوستان کے ساتھ خاطر خواہ بات چیت کی بنیاد موجود نہیں۔ جب حالات بدلیں گے تو بنیاد بھی میسر ہو جائے گی‘ لیکن ایسے بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔ عمران خان کے بیان کا ہندوستان میں بھی وسیع حلقوں کی طرف سے بُرا منایا گیا ہے۔ یہ تو بالکل نادانی ہے کہ ہندوستان میں انتخابات ہو رہے ہوں اور پاکستان کے وزیر اعظم جو بطور کرکٹر ہندوستان میں اچھا خاصا نام رکھتے ہیں‘ نریندر مودی کے حق میں بات کریں۔ چاہے وہ کشمیر کے حوالے سے بات کی گئی ہے‘ مطلب تو اُس کا یہی نکلتا ہے کہ نریندر مودی کا دوبارہ منتخب ہونا کشمیریوں کیلئے ساز گار ثابت ہو سکتا ہے۔ کانگریس والے پاکستان کے یار نہیں ہیں۔ وہ پاکستان کیلئے کوئی نرم گوشہ نہیں رکھتے۔ بہرحال اُن میں اور بی جے پی والوں میں یہ فرق ضرور ہے کہ وہ مسلمانوں اور پاکستان کے حوالے سے اِتنی اندھی مخالفت نہیں رکھتے۔ نریندر مودی کا بس چلے تو وہ تمام مسلمانوں کو ہندوستان سے نکال دیں اور ہندوستانی آئین تبدیل کر کے اُسے یکسر ایک ہندو آئین بنا دیں۔یہ درست ہے کہ ایک کانگریسی حکومت کے تحت ہی مشرقی پاکستان ہم سے علیحدہ ہو کے بنگلہ دیش بن گیا تھا‘ لیکن اُس المیے میں

ہمارا اپنا ہاتھ بھی تھا۔ مسز اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان پہ حملہ ضرور کیا لیکن اُس سے پہلے کے عوامل ہمارے اپنے بنائے ہوئے تھے۔خیر یہ اور بحث ہے۔ کانگریسی حکومتیں آئیں تو کسی نہ کسی حد تک ہندوستان سے مذاکرات ممکن رہے۔ جب سے نریندر مودی آئے ہیں تب سے بات چیت کے امکانات ہی ختم ہو گئے ہیں۔ عمران خان ہیں کہ مسئلہ کشمیر کے حل کی توقع لگائے بیٹھے ہیں۔ کوئی ایک تو شعبہ ہو کہ ہم کہہ سکیں کہ اِن انصاف والوں کی سوچ بہتر ہے۔ لیکن معیشت سے لے کر اِس کشمیر والی بات تک ہر جگہ یہ تاثر اُبھر رہا ہے کہ انہیں پرائمری تعلیم کی اشد ضرورت ہے۔ہندوستانی انتخابات جاری ہیں اور آسمانوں سے ہی معلوم ہو سکتا ہے کہ نتائج کیا ہوں گے۔ رائے عامہ کے سروے کہہ رہے ہیں کہ بی جے پی کا پلڑا بھاری ہے۔ یہ سروے حتمی طور پہ مستند نہیں مانے جا سکتے۔ کتنی دفعہ ہوا کہ بالکل غلط ثابت ہوئے ہیں۔ لیکن اگر اِس بار یہ سروے درست ہوں اور بی جے پی ہی انتخابات میں کامیاب ٹھہرے تو اُسے پلوامہ کے حملہ آوروں کا شکریہ ادا کرنا چاہیے جنہوں نے بہت حد تک اس کامیابی کی بساط بچھائی۔ کچھ شکریہ عمران خان کا بھی بنتا ہے کہ عین دورانِ انتخابات اُنہوں نے اپنا پلڑا نریندر مودی کے حق میں ڈالا۔ ہمارے حالات سُدھریں یا نہ سُدھریں ہم میں کم از کم اتنی صلاحیت تو ہے کہ نریندر مودی کا کچھ بھلا کر دیں۔ (ش س م)