آل پارٹیز کانفرنس: متحدہ اپوزیشن کچھ کر پائے گی یا نہیں ؟ موجودہ سیاسی حالات پر ایک زبردست تبصرہ

لاہور (ویب ڈیسک) پارلیمنٹ میں حالیہ قانون سازی سے بہت آسانی سے یہ بات سمجھ میں آجاتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ وہ اپوزیشن جسے پارلیمنٹ میں 10ووٹوں کی برتری حاصل ہے وہ کیونکر قانون سازی میں 10ووٹوں سے شکست کھا جاتی ہے۔ اخباری خبر کے مطابق اجلاس سے

حکومت کے 16اپوزیشن کے 36ارکان ایوان سے غیرحاضر رہے، نامور کالم نگار اجمل خٹک کثر اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔کھلاڑیوں کا کمال یہ ہے کہ حکومتی ارکان کو بھی اس لئے غائب کرا دیا جاتا ہے تاکہ تاثر یہ جائے کہ اگر اپوزیشن کے ارکان غیرحاضر تھے تو حکومت کے بھی تو تھے، اس سلسلے میں باریک نقطہ کہ کس کے کتنے غائب تھے، عوام کی نظروں میں رہنے کی ضرورت ہے۔ قبل ازیں سینیٹ میں حمایت میں 31جبکہ مخالفت میں 34ووٹ آئے لیکن جب اصل معرکہ آیا تو پارلیمنٹ میں حکومت کے 217کے مقابلے میں 227ووٹ رکھنے والی اپوزیشن کے 190اور حکومت کے 200ووٹ نکل آئے، اس طرح 10ووٹ زیادہ رکھنے والی اپوزیشن کے 10ووٹ کم نکل آئے۔یہ بالکل اسی طرح کی واردات تھی جیسا کہ سینٹ میں عدم اعتماد کی تحریک کے دوران اپوزیشن کے 64ارکان کھڑے ہو گئے لیکن جب خفیہ رائے شماری ہوئی تو 64ارکان 50میں تبدیل ہو چکے تھے۔ یہ ساری ہنرمندی اُن دو بڑی جماعتوں بالخصوص پیپلز پارٹی کا خاصہ ہے جن پر کرپشن کے الزامات ہیں۔ اور انہی الزامات یا حقائق کی وجہ سے ان کے قائدین کی ناک میں وہ نکیل پڑی ہے جو ان کے ذرا اِدھر اُدھر دیکھنے پر کھینچ کر انہیں باآسانی ’’راہ راست‘‘پر لےآتی ہے۔ اب اصل کام کے بعد یہ مصنوعی کام کیلئے پارلیمنٹ سے باہر آتے ہیں سب ملکر وہ بین شروع کردیتے ہیں گویا درحقیقت ان کی مرضی کے خلاف سب کچھ ہوا۔ کون نہیں جانتا کہ چیئرمین سینٹ کے انتخاب پھر اُن کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک سمیت جتنے بھی پارلیمنٹ میں بل اور ترامیم ہوئیں اُن میں سے کوئی بھی اپوزیشن کی مدد کے بغیر ممکن نہ تھی، یہی وہ نظریہ ضرورت ہے جن کیلئے بدنام تو جسٹس منیر ہیں لیکن موجودہ حالات میں اس کے احیا کا سارا کریڈٹ اپوزیشن کو جاتا ہے۔ معروضی صورتحال میں حکومت سے بیزاری کے تمام عوامل موجود ہیں لیکن کیا کیا جائے یہ اپوزیشن ہی ہے، جو اپنی مجبوریوں کے پسینے میں اس قدر شرابور ہے کہ بہت دور سے ان کی اس سے پیدا ’’بدبو‘‘ کو محسوس کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ بارش کے دوران اپوزیشن لیڈر جناب شہباز شریف کراچی آئے تو اُنہیں ایسی عوامی پزیرائی ملی کہ جس سے شاید وہ گھبرا گئے ہوں، کراچی میں یہ بھی خیال ہے کہ اگر مریم نواز صاحبہ کراچی آتی ہیں تو عوام کا جوش دیدنی ہوگا۔ تاہم یہ بھی سچ ہے کہ غیبی مدد کے بغیر موجودہ اپوزیشن کچھ کرنے کی صلاحیت سے عاری ہو چکی ہے۔ ایک زمانہ سے سول بالادستی مخالف قوتوں کی یہ خواہش تھی کہ جمہوریت نواز سیاسی رہنمائوں کو بےدست وپا بنانے کیلئے کرپشن کی راہ پر لگادیا جائے جس میں بڑے بڑے ڈکٹیٹر ناکام ٹھہرے لیکن پھر یہ موجودہ سیاستدان ہی ہیں جنہوں نے اس کا انتظام آپ کیا۔ آج اُن کے پاس پہلے سے زیادہ سیم وزر ہے لیکن وہ جرات مفقود ہو چکی جو سیاسی قیادت کی شان ہوتی ہے۔