قران مجید کی سورت المائدہ کی آیت 33 میں کیا واضح حکم موجود ہے ؟ بڑے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) قرآن کی سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 33 ہمارے غور و فکر اور تدبر کا تقاضا کرتی ہے-اللہ نے ارشاد فرمایا ہے”جو لوگ اللہ اور اسکے رسول سے لڑائی کرتے ہیں اور زمین میں شر کیلئے بھاگ دوڑ کرتے ہیں انکی سزا تو صرف یہ ہے کہ انہیں زندگی سے محروم کردیا جائے

یا سولی دی جائے۔ نامور کالم نگار قیوم نظامی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔ یا انکو ہاتھ اور پاؤں سے مخالف جانب سے محروم کردیا جائے یا انہیں جلاوطن کر دیا جائے یہ دنیا میں ان کیلئے ذلت اور آخرت میں ان کیلئے بہت بڑا عذاب ہے”- اس آیت کی شان نزول یہ ہے کہ ایک قبیلے کے کچھ لوگ مسلمان ہو کر مدینہ آئے انہیں مدینہ کی آب و ہوا راس نہ آئی اور وہ بیمار ہو گئے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مدینہ سے باہر جہاں پر صدقہ کے اونٹ تھے بھیج دیا تا کہ ان کا دودھ پئیں اور اللہ تعالی شفا عطا فرمائے گا – چند روز میں وہ ٹھیک ہو گئے لیکن اسکے بعد انہوں نے اونٹوں کے رکھوالے اور چرواہے کو زندگی سے محروم کر دیا اور اونٹ ہنکا کر لے گئے- اللہ کے نبی نے انکے پیچھے آدمی دوڑائے جو انہیں اونٹوں سمیت پکڑ کر لائے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے نے انکو انکے ہاتھ اور پاؤں مخالف جانب سے محروم کروا دیا انکی آنکھوں میں گرم سلائیاں پھروائیں اور انہیں دھوپ میں پھینک دیا حتیٰ کہ وہ چل بسے – ( بخاری) افسوس پاکستان کے مغرب نواز قرآن سے رہنمائی اور ہدایت لینے کی بجائے مغربی ممالک کی جانب دیکھتے ہیں-سوال یہ ہے کہ پاکستان میں گذشتہ 73 سالوں کے دوران مجرموں کو سخت سزائیں نہیں دی گئیں تو ان کا نتیجہ بھیانک صورت میں نکلا ہے لہٰذا کیوں نہ عبرت ناک سزائیں دے کر بھی انکے سماج پر اثرات کو دیکھ لیا جائے-وحشیانہ جرائم کی سزا عبرت ناک ہی ہونی چاہیے -حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں جرائم کی شرح دنیا کے ممالک سے بہت زیادہ ہے-پاکستان کی تاریخ کا فیصلہ بھی یہ ہے کہ پاکستان میں آئین اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے اور مجرموں کو قرار واقعی عبرتناک سزائیں دی جائیں تاکہ پاکستان میں امن اور سکون قائم ہو سکے اور معصوم بچوں اور عورتوں کو انسان نما درندوں کی وحشت اور بربریت سے بچایا جا سکے-پاکستان کے اٹارنی جنرل خالد جاوید خان نے سپریم کورٹ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ پاکستان کا کریمنل جسٹس سسٹم مظلوموں کے بجائے ملزموں اور ظالموں کی مدد کرتا ہے-سرعام تختہ دار پر چڑھانے میں آئین کا آرٹیکل نمبر 14 رکاوٹ ہے جو شرف انسانیت کی ضمانت دیتا ہے اسکے علاوہ سپریم کورٹ کے کچھ فیصلے بھی سرعام تختہ دار پر لٹکانے کے خلاف جاری کیے جا چکے ہیں- پاکستان کے عوام کو یقین ہے کہ وزیراعظم پاکستان اپنے وعدے کے مطابق قانونی اور آئینی رکاوٹوں کو دور کرنے کیلئے نئی قانون سازی کرینگے۔