ہن کریں گے پیو نال مذاق : شیخ رشید کی بڑھکوں کے جواب میں سنتا سنگھ کے چند دلچسپ لطائف سارا دن آپ کا موڈ خوشگوار رکھیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) میں سمجھتا تھا کہ بچے غیر سیاسی ہوتے ہیں لیکن دیکھ رہا ہوں کہ پاکستان میں ایک خاص عمر کے بعد بابے بھی غیر سیاسی اور غیر سنجیدہ ہو جاتے ہیں۔ چلو بلاول کی تو سمجھ آتی ہے کہ اب تک نیب نے انہیں گرفتار کیا نہ براہ راست ان پر اربوں کھربوں کی

نامور کالم نگار ایثار را نا اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔لوٹ مار کو الزام لگا اس لئے انہیں ہم جغادری سیاستدان نہیں مانتے۔ لہٰذا ان کے منہ سے سچ کا نکلنا اتنا اچنبھے والی بات نہیں، لیکن میں بلاول کی جانب سے سابق وزیراعظم اور بلاول کے انکل خاص نوازشریف کو سکیلٹڈ کہنے پر اتنا حیران نہیں ہوا تھا جتنا سیاست کی آخری آرامگاہ کے مستقل مکین شیخ رشید نے مجھے پریشان کیا۔ انہوں نے تو کھوتا ہی کھوں میں پھینک دیا۔ وہ فرماتے ہیں اصل میں سلیکٹڈ ذوالفقار علی بھٹو تھے۔ اب پاکستانی سیاست پر شیخ رشید سے زیادہ کون اتھارٹی ہو سکتا ہے، ان کا بس نہیں چلتا ورنہ وہ تو نماز بھی ‘پنڈی’ کی جانب رخ کرکے پڑھیں۔ ماشاء اللہ سکیلشن اور الیکشن کا فرق جتنا ہمارے شیخ صاحب جانتے ہیں اتنا تو ہماری پیاری آپا فردوش بھی نہ جانیں۔ جس طرح انہوں نے ضیاء الحق سے لیکر پرویز مشرف تک اور چودھری برادران سے لیکر میاں برادران تک کا سفر وفاداری کی سائیکل پر بیٹھ کر کیا یہ ان کا خاصہ ہے۔ آپ حیران ہونگے کہ شیخ صاحب کی سائیکل کی گدی تک نہ تھی لیکن انہوں نے حالت رکوع میں سائیکل چلائی اور ہمیشہ ضیاء الحق، مشرف، نوازشریف، چودھری شجاعت اور عمران خان کی آنکھوں کا تارا رہے۔ شیخ رشید بچ گئے ورنہ ان کی تصویر تو ”ہزماسٹر وائس“ کی جگہ بھی آسکتی تھی۔ سنتا سنگھ سے ٹیچر نے پوچھا موہن سنگھ مرنے سے پہلے کیا تھے۔ سنتا نے جواب دیا جی وہ زندہ تھا۔ شیخ رشید سے زیادہ کون جانتا ہے کہ کون کون سے موہن کیا تھے۔

ذوالفقار علی بھٹو وہ واحد سیاستدان تھا جس نے اپنی شہادت کے بعد سب سے زیادہ عزت پائی۔ وہ جمہوریت کا استعارہ بنے اور ان کی شہادت نے پاکستان میں سچائی، قربانی اور موقع پرستی بزدلی کے درمیان ایک لکیر بنائی، اب یہ لکیر کبھی ختم نہیں ہوسکتی۔ لوگ ان کی طرح بار بار ڈائس کے مائیک گراسکتے ہیں۔ماؤ کیپ پہن سکتے ہیں۔ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ٹوئٹ ٹوئٹ کھیل سکتے ہیں لیکن بھٹو کی طرح نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔ اس لئے شیخ رشید کی بات پر غصہ نہ ہی کیا جائے تو بہتر ہے۔ ان کی روزی روٹی کا معاملہ ہے۔کبھی ہیرے کبھی پکھراج میں ڈھلنے والے۔۔۔ہم نے پتھر بھی چنے رنگ بدلنے والے۔۔جوتیاں کھانے کا منظر تو ہم بیس سال سے دیکھ ہی رہے تھے لیکن قطر میں سوگنڈے کھانے کا منظر بھی کم خوبصورت نہیں۔ خیر امریکہ بہادر کیلئے یہ مناظر کوئی پہلی بار تو چلے نہیں یہ نشر مکرر کا سلسلہ چلتا ہی رہتا ہے۔ ویت نام کے بعد افغانستان امریکہ کو ہمیشہ یاد رہے گا۔ واقعہ پہلے دہرایا جا چکا ہے لیکن کیونکہ رسم دنیا بھی ہے موقع بھی ہے اور کالم کا دستور بھی۔ تو آپ بھی سن لیں، سنتا سنگھ سائیکل سے اترتے ہوئے نیچے گر پڑا، منظر دیکھ قریب سے گزرتی خواتین ہنسنے لگیں سنتا سنگھ بولا باجی میں ڈگیا نہیں سائیکل توں لتھنا ای اینج آں۔(باجی میں گرا نہیں سائیکل سے اترتا ہی ایسے ہوں) سو قطر میں جو ہوا۔ وہ کوئی نئی بات نہیں۔ امریکہ بہادر نے کمبل سے جان چھڑالی،

لیکن میرا یقین ہے کہ کمبل امریکہ کو کبھی نہیں چھوڑے گا۔ یہاں پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو داد نہ دینا زیادتی ہوگی۔ اس نے جس طرح امریکہ کو افغانستان میں ‘پڑھنے پایا’ وہ ایک عظیم داستان ہے، پاکستانی اداروں پر تنقید اور برا بھلا کہنا چند دانشوروں کا فیشن ہوسکتا ہے، لیکن اگر جمہوریت کا ”ایپی سوڈ“ نکال دیں تو اس میں کوئی شک نہیں ہمارے اداروں نے ہمیشہ کمال دکھایا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ امریکہ کئی ٹریلین ڈالر خرچ کرکے یہاں سے بستی خراب کرا کے پتلی گلی سے نیوا نیوا ہوکے نکلے گا، لیکن یہاں صرف خوش ہونا بنتا نہیں۔ امریکہ کھوتے سے ڈگ چکا اب وہ غصہ کمہار پہ اتارے گا۔ ابھی اس نے افغانستان سے گھر کی طرف دڑ کی لگانی ہے اپنا سامان لے جانا ہے اور پھر جو اس کے ساتھ ہوئی اس پر ٹکور بھی کرنی ہے۔ وہ یہ آگ بجھا کے نہیں جارہا ہے اب اگلا مرحلہ بین الافغانستان مذاکرات ہیں۔ مسلمان دھرتی کا دفاع جس بے جگری سے کرتا ہے آپس میں اقتدار کی لوٹ مار میں اتنا ہی بے دماغی سے لڑتا ہے۔ یہی ٹرننگ پوائنٹ ہے، ابھی ‘ہنددوتا’ کی ناپاک بیماری کا شکار بھارت کے پیٹ میں ”کڑھل“ پڑیں گے۔ امریکہ کے بعد اس نے بھی افغانستان میں رقماں خرچیاں ہیں۔ وہ بھی بندے کا پتر نہیں بنے گا۔ ویسے بھی مودی جب تک ستیاناس بھارت کا سوا ستیاناس نہیں کرے گا اس کی آتما کو شانتی نہیں ملے گی۔ میرا یقین ہے مودی کے نصیب میں شانتی نہیں اسے افغانستان اور پاکستان سے اگر ملے گا تو شانتا ہی ملے گا۔

سنتا سنگھ کو گدھے نے دولتی مار دی جواب میں سنتا سنگھ نے بھی اسے چار پانچ لاتیں ماریں اور بولا ہن کریں گا پیونال مذاق، مجھے نہیں معلوم امریکہ بہادر اور بھارت ہندوتا کو بیس سال امن شانتی کو لاتیں مار کر کچھ سکون ملایا نہیں لیکن وہ یہ یاد رکھیں نفرت آگ تعصب اور بارود بیچ کر امن محبت کے پھول نہیں کھلتے۔ جب بندوقوں کے دہانے بارود اگلیں گے تو فاختائیں امن کے مدھر گیت نہیں گائیں گی۔ چھوڑیں لعنت بھیجیں ہمیں اب وطن کی فکر کرنی ہے۔ مجھے ڈر ہے کہ امریکہ افغانستان میں جو نفرت کی آگ چھوڑ کر جا رہا ہے وہ اتنی جلدی ٹھنڈی نہیں ہوگی۔ یہ بھانبڑ اور بھڑکیں گے۔ قومی قیادت کی ذمہ داری ہے کہ وہ زرا سی بے احتیاطی نہ کریں پہلے سے زیادہ چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔کرونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے پوری دنیا اتنی ہی تیزی سے انکا مقابلہ کرنے میں جت گئی ہے۔ پاکستانی قوم الحمد اللہ بلکہ اناللہ کسی سے پیچھے نہیں ہم نے سب سے پہلے ماسک کی قیمت بڑھا دی ہے۔ ڈاکٹر تو خیر ہم میں ہر دوسرا بندہ ہے۔ فوراً ہی تحقیق سامنے آئی کہ اس کا علاج پیاز میں ہے۔ اللہ کا شکر قوم نے اس تحقیق پر کان دھرا نہ دھیان ورنہ آج پیاز ناپید ہو جاتی۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار کا بیان پڑھ کر لگا ساڈا سی ایم جاگدا اے۔ اب بات یہ کہ ان کا بیان بس بیان نہیں ہونا چاہئے اول تو گھبرانے کی بات نہیں کرونا پاکستان پوری طرح نہیں پہنچا۔ ایک دوکیس آئے وہ بھی نمٹا دیئے گئے، لیکن پھربھی وزیراعلیٰ بزدار کی ذمہ داری ہے کہ وہ ماسک اور کرونا علاج کے حوالے سے کسی چیز کی کمی نہ ہونے دیں۔ میں تو کہوں گا کہ ماسک مہنگے کرنے والوں کو سرکاری خرچ کر ”ووہان“ بھجوا دیا جائے اور ان کے ماسک بھی ان کے ساتھ روانہ کردیئے جائیں۔ کیسے مسلمان ہیں ہم دولت کی حرص میں زبانیں باہر نکالے لوگ، حیرت ہے موت کو سامنے دیکھ کر بھی ہمیں مرنے سے ڈر نہیں لگتا۔ وزیراعلیٰ بزدار سے امید ہے کہ وہ اس بات کویقینی بنائیں گے کہ ماسک مہنگے نہ ہوں۔ ان کی شرافت اور انکساری کو کمزوری نہیں سمجھنا چاہئے۔ اگر کسی کو اس بات پر یقین نہیں تو آپ ماسک کی قیمت بڑھا کر دیکھیں، اگر پنجاب حکومت کرونا تو آپ کے لئے مرونا میں نہ تبدیل کردے تو پھر کہنا!(ش س م)