اگر آپ برطانیہ کی امیگریشن چاہتے ہیں تو بی بی سی کی یہ معلوماتی رپورٹ آپ کے بہت کام آ سکتی ہے

لندن (ویب ڈیسک) برطانیہ کی حکومت نے بریگزیٹ کے بعد بننے والے نئے امیگریشن کے نظام سے متعلق کچھ اہم معلومات کا اعلان کیا ہے۔ جن میں یہ کہا گیا ہے کہ کم ہنر رکھنے والے افراد یا ملازمین کو ویزا نہیں دیا جائے گا اور کمپنیوں کو یورپ سے ’سستی مزدوری‘ پر انحصار کرنے سے ’گریز‘ کیا جائے۔

بی بی سی نے ان نئے اصولوں کے حوالے سے ویزا، ہنر مندی اور کاروبار سے متعلق پوچھے گئے سوالات کے جواب دینے کی کوشش کی ہے۔ایک صارف نے پوچھا ہے کہ برطانیہ میں نئے امیگریشن اصولوں سے غیر ملکی ملازمین پر کیا اثر پڑے گا اور آیا وہ 2021 کے آغاز پر اپنی نوکریاں کھو دیں گے؟پہلے ہی برطانیہ میں یورپی یونین سے تعلق رکھنے والے ورکرز یورپی یونین کی آباد کاری سکیم میں درخواست دیں۔ اگر وہ کامیاب ہو گئی تو وہ 30 جون 2021 کے بعد برطانیہ میں ہی رہ سکیں گے اور اس کے بعد بے روزگار ہونے کی صورت میں وہ بھی دیگر برطانوی شہریوں کو حاصل فوائد لینے کے دعویدار ہوں گے۔آئرلینڈ کے شہریوں کو اس سکیم میں درخواست دینے کی ضرورت نہیں ہے۔ برطانیہ اور آئرلینڈ دونوں ایک مشترکہ ٹریول ایریا کا حصہ ہیں۔ آئرش شہریوں کو برطانوی قانون میں ایک خاص درجہ حاصل ہے جو بطور یورپی یونین کے شہریوں کی حیثیت سے ملنے والے حقوق سے الگ اور تاریخ سے پہلے کا ہے۔یورپی یونین سے باہر کے مزدوروں پر اور ایسے یورپی یونین کے تارکین وطن جو نئے قوانین کی منتقلی کی مخصوص مدت کے بعد پہنچتے ہیں پر مختلف قواعد لاگو ہوتے ہیں۔ ایسے افراد جو ملازمت سے محروم ہو جائیں انھیں اپنے وطن واپس جانا پڑے گا جب تک کہ ان کے پاس غیر معینہ مدت کی چھٹی باقی نہ ہو۔وزارت داخلہ کی جانب سے جاری کردہ ایسے قواعد جن میں ملازمت کھونے کے بعد بھی برطانیہ میں قیام رکھ سکتے ہیں پیچیدہ ہیں لیکن انھیں یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔

اس وقت برطانیہ میں مقیم تمام یورپی یونین کے شہریوں کو 30 جون 2021 تک یورپی یونین کی رہائشی سکیم میں درخواست دینی ہو گی تا کہ ملک میں ہی رہنے کی اجازت دی جا سکے۔ اس سکیم کے کامیاب درخواست دہندگان، جن میں آئس لینڈ، لیچٹنسٹین، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے شہری بھی شامل ہیں کو یا تو نئی آباد کاری یا پہلے سے ہی آباد کا درجہ دیا جائے گا۔اس سے برطانیہ کے یورپی یونین کے نکل جانے کے بعد یورپی یونین کے شہریوں کو صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم کے مواقع تک یکساں رسائی ملے گی۔ کوئی بھی جو ڈیڈ لائن کے ذریعے درخواست دینے میں ناکام ہوجاتا ہے وہ اب قانونی طور پر ملک میں نہیں رہ سکے گا۔دنیا میں کہیں بھی کم ہنر مند افراد پہلے ہی ویزا پر ہوں گے۔ ایک بار جب ان کے ویزا کی معیاد ختم ہو جائے گی تو جو بھی نئے قواعد نافذ ہوں گے ان کے تحت انھیں دوبارہ درخواست دینا ہو گی۔حکومت کا کہنا ہے کہ ہنر مند افراد کی تعریف میں وہ لوگ شامل ہیں جنھیں ملازمت کے لیے اے لیول، سکاٹش ہائرز یا مساواتی تکنیکی تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہ موجودہ تعریف کی توسیع ہے (اس وقت صرف غیر یورپی یونین کے تارکین وطن پر لاگو ہے۔) جن میں صرف گریجوئٹس شامل ہیں۔کچھ طرح کے کھیتوں میں کام کرنے والے مزدور اور وہ لوگ جو بیرے کی نوکری کرتے ہیں وہ نئے ہنر مند افراد کے زمرے میں شامل نہیں ہوں گے، لیکن وہ لوگ جو بڑھئی، پلستر جیسی چیزوں میں قابلیت رکھتے ہیں وہ ہنر مند افراد کے زمرے میں شامل ہوں گے۔اسی طرح ایسے افراد جن کے پاس کوئی تعلیم نہیں ہے لیکن وہ صنعتوں میں ہونے والے کام کے ماہر ہیں ویزا حاصل نہیں کرسکتے ہیں۔حکومت کے بریگزٹ کے بعد کے امیگریشن پلان میں پوائنٹس پر مبنی نظام مرتب کیا گیا ہے۔ اس سکیم کے تحت، بیرون ملک مقیم شہریوں کو برطانیہ میں کام کرنے کے لیے 70 پوائنٹس حاصل کرنا ہوں گے۔مناسب ہنر مند افراد اور اہم مضامین مثلاً سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کرنے والے افراد کو 20 پوائنٹس ملیں گے۔

بہت سارے طریقے ہیں جن سے کاروباری افراد برطانیہ کا ویزا حاصل کرسکتے ہیں تاکہ وہ برطانیہ میں اپنا کاروبار قائم کرسکیں۔مثال کے طور پر اسٹارٹ اپ ویزا یورپی یونین، آئس لینڈ، لیچٹنسٹین، ناروے اور سوئٹزرلینڈ کے باہر سے آنے والے تاجروں کے لیے ہے جن کے پاس نئے، جدید اور ممکنہ کامیاب کاروباری منصوبے ہیں۔ان کی توثیق کسی برطانیہ کے اعلیٰ تعلیمی ادارے یا کسی کاروباری تنظیم کے ذریعہ کی جانی چاہئیے جن میں برطانیہ کے معاون تاجروں کی حمایت کی ہو۔اس ویزے کی معیاد دو برس تک ہوتی ہے، اس میں توسیع نہیں کی جا سکتی ہے لیکن ویزا ہولڈر کسی دوسری قسم کے کاروباری ویزا کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔فی الحال برطانیہ میں مقیم یورپی یونین کے شہریوں کے حقوق اور حیثیت، بشمول طلبا کے 30 جون 2021 تک تبدیل نہیں ہو گی۔ اس وقت برطانیہ میں زیر تعلیم یورپی یونین کے طلبا کو کام کرنے کی اجازت ہے۔اس تاریخ سے آگے کیا ہوتا ہے اس کا انحصار یورپی یونین اور برطانیہ کے مابین مفصل مذاکرات کے نتائج پر ہو گا۔ تاہم یورپی یونین کے ایسے طلبا جو یکم جنوری 2021 کے بعد برطانیہ میں ہی رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں انھیں یورپی یونین آبادکاری سکیم میں درخواست دینے کی ضرورت ہو گی۔یورپی یونین کی آباد کاری سکیم اور پوائنٹس پر مبنی امیگریشن سسٹم کے درمیان ایک فرق ہے جسے حکومت متعارف کروانا چاہتی ہے۔فی الحال برطانیہ میں یورپی یونین کے بسنے والے تمام شہریوں کو اگر وہ 30 جون 2021 کے بعد برطانیہ میں رہنا چاہتے ہیں تو انھیں یورپی یونین آبادکاری سکیم کے لیے اندراج کروانا ہوں گا۔

30 جون 2021 تک اگر کوئی بھی شخص اس سکیم کے لیے درخواست نہیں دے سکتا ہے تو اسے غیر قانونی تارکین وطن بننے کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ اگر ان کی درخواست کامیاب ہوتی ہے تو وہ اس تاریخ کے بعد برطانیہ میں کام کرنے کے قابل ہوں گے ، قطع نظر اس کے کہ ان کے امیگریشن کے نئے نظام میں کتنے پوائنٹس ہوں گے۔پوائنٹس پر مبنی نظام صرف 1 جنوری 2021 کے بعد برطانیہ میں داخلے کے خواہشمند افراد پر ہی لاگو ہو گا۔ایسے برطانوی شہری جو یورپی یونین کے کسی ملک، سوئٹزر لینڈ، آئس لینڈ، لیچنسٹائن یا ناروے میں رہتے ہیں وہ 31 دسمبر 2020 تک وہاں رہائش اور نوکری کر سکتے ہیں۔ ٹرانزیشن یا منتقلی کا مرحلہ 31 تاریخ 2020 کو ختم ہو جائے گا۔لیکن یہ صرف تب لاگو ہو گا جب برطانوی شہری کسی یورپی یونین کے ملک میں رہائش پذیر ہوں گے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ آیا وہ اس کے بعد بھی یورپی یونین کے ممالک میں کام کر سکیں گے۔منتقلی کے مرحلے (ٹرانزیشن پیریئڈ) کے دوران برطانیہ اور یورپی یونین کے درمیان یہ بھی طے ہونا ہے یورپی یونین کے ممالک میں موجود برطانوی کارکنان کی حتمی حیثیت کیا ہو گی۔برطانوی شہریوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خود کو ملک کا رہائشی درج کروائیں اور یہ بتائیں کہ وہ کہاں رہتے ہیں۔پرمانینٹ ریزیڈنس (پی آر) یعنی مستقل رہائش کی درخواست کے لیے یورپی یونین کے مختلف ممالک نے اپنے کچھ اصول تشکیل دیے ہوئے ہیں۔برطانوی حکومت کی ویب سائٹ پر ملکوں کے اعتبار سے ہدایات دی گئی ہیں۔(بشکریہ : بی بی سی)