عالمی عدالت انصاف کی ایک اہم پوسٹ کے لیے امیدواروں کے انٹرویو ہو رہے تھے ، پاکستان کا ایک ایماندار ماہر قانون بھی امیدواروں میں شامل تھا ، مگر انتخاب کرنے والوں نے پاکستانی امیدوار کی ایمانداری کے متعلق کیا جملہ کہہ کر اسے مسترد کردیا ؟ بڑے کام کی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) وفاقی وزیر فواد چودھری بھی یہی دلیل دے رہے تھے کہ اگرچہ پنجاب کے حالات خراب ہیں اور اُس کا ملبہ وفاقی حکومت پر پڑے گا، تاہم حکومت کو کوئی خطرہ نہیں،کیونکہ عمران خان کا متبادل موجود نہیں۔ دراصل ہم کسی نہ کسی ہیرو کی تلاش میں رہتے ہیں

نامور کالم نگار عبدالخالق سرگانہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔کہ وہ غیب سے نازل ہو گا اور ہمارے مسائل حل کر دے گا۔ کوئی کہتا ہے خونی انقلاب کی ضرورت ہے، سروں کی فصل کاٹناپڑے گی، پھر ہمارے مسئلے حل ہوں گے…… یہ ایک جذباتی اپروچ ہے، جس کا عملی زندگی میں اطلاق نہیں ہوتا۔ یہ سب مانتے ہیں کہ ہماری پوری سوسائٹی اخلاقی لحاظ سے بہت پیچھے چلی گئی ہے…… تو پھر ”چوروں اور ڈاکوؤں“ میں سے ہی انتخاب کرنا پڑے گا، کیونکہ فرشتے تو دستیاب نہیں۔ کہتے ہیں کپتان ایماندار ہے، یہ ایمانداری کا نعرہ بھی بیانیہ کا حصہ ہے۔ حقیقت سے یہ کچھ بعید ہے، اگر قوم صرف دیانتدار قیادت کی تلاش میں ہوتی تو اس کے لئے جماعت اسلامی موجود تھی، لیکن انہیں کوئی ووٹ نہیں دیتا ……کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، جماعت کی قیادت پر مالی بددیانتی کا تو کوئی چھینٹا نہیں ……مگر قیادت کے لئے ایمانداری کے ساتھ اور بھی بہت ساری خصوصیات کی ضرورت ہوتی ہے۔ آج پاکستان جیسے ملک پر حکمرانی، جہاں ادارے کمزور ہوں، سوسائٹی زوال پذیر ہو، معیشت تباہ حال ہو،بہت پیچیدہ کام ہے، اس کے لئے وژڈم، تجربے، اچھی ٹیم اور کھلے ذہن کی ضرورت ہے،ایمانداری تو بنیادی بات ہے…… راجہ ظفر الحق نے ایک تقریب میں ایک واقعہ سنایاکہ عالمی عدالت انصاف میں ایک پوسٹ کے لئے پاکستان کے ایک جج بھی امیدوار تھے تو اُن کا دفاع کرتے ہوئے پاکستان کے نمائندے نے جج صاحب کی ایمانداری کا خاص ذکر کیا۔ انتخاب کرنے والے ججوں کے پینل نے سوال کیا کہ

جج صاحب کو کن شعبوں میں مہارت حاصل ہے تو دفاع کرنے والے نے شعبوں کی نشاندہی کی بجائے آ جا کر پھر ایمانداری پر زور دیا۔اس پر پینل کے ارکان نے کہا کہ بھائی دیانتداری کوئی خاص خوبی نہیں، یہ تو بنیادی بات ہے،آپ کچھ اور بتائیں؟ اب ہمارے ہاں عمران خان کے حامی بھی آ جا کر عمران خان کی ایمانداری پر زور دیتے ہیں، آگے کا خانہ شاید خالی ہے۔اب کسی کو پسند ہو یا نہ ہو، بہرحال عمران خان کے آنے سے لوگوں کی توقعات پوری نہیں ہوئیں، لہٰذا میرے خیال میں تو عمران خان کے پاس ایک ہی راستہ ہے کہ وہ Initiativeاپنے پاس رکھیں اور مناسب وقت پر انتخابات کرا دیں۔ جمہوری نظام میں سیاسی ڈیڈ لاک سے پیدا ہونے والی صورتِ حال کے لئے یہی بہترین راستہ ہے، اس میں بھی دو صورتیں ہو سکتی ہیں …… اگر عوام نے انہیں بھاری مینڈیٹ دے دیا تو وہ پورے اعتماد سے اپنے پروگرام پر عمل کر سکیں گے، دوسری صورت میں اُن کا آنریبل ایگزٹ ہو گا، کیونکہ سیاسی نظام میں سیاستدان کے پاس یہی ایک راستہ ہوتا ہے کہ وہ شکست تسلیم کرے اور کہہ دے کہ وہ عوام کا فیصلہ قبول کرتے ہیں، تو ہارنے کے باوجود اُس کا قد بلند ہو جاتا ہے۔ یہ کہنا کہ اُن کا کوئی متبادل نہیں، یہ 22کروڑ لوگوں کی توہین ہے۔کوئی آدمی ناگزیر نہیں ہوتا۔ کہا جاتا ہے کہ ناگزیر لوگوں سے قبرستان بھرے پڑے ہیں۔ جمہوری نظام کو اگر رولز آف دی گیم کے مطابق چلنے دیا جائے تو قیادت خودبخود سامنے آتی رہے گی۔بدقسمتی سے ہم نے اب تک وہ راستہ روکا ہوا ہے۔ ہم نے تو لوکل باڈیز کے انتخابات بھی نہیں کروائے،حالانکہ لوکل باڈیز اور تعلیمی اداروں میں سٹوڈنٹس یونینیں سیاسی قیادت کی نرسری ہیں۔(ش س م)