قران مجید کی آیات سے کرونا وائرس سے شفا : سینئر پاکستانی صحافی کی ایک مدلل تحریر جس پر یقیناً چین والے ٹوٹ پڑیں گے

لاہور (ویب ڈیسک) قارئین کرام! سب سے خطرناک مرض سرطان‘ یعنی کینسر ہے۔ کسی جگہ انسانی خلیات میں خلل پیدا ہوتا ہے۔ وہ کنٹرول سے باہر ہوتا چلا جاتا ہے۔ جسم کا دفاعی نظام جسے ”امیون سسٹم‘‘ کہا جاتا ہے ‘وہ دفاع میں ناکام ہوتا چلا جاتا ہے تو آخر کار انسان مفلوج ہو کر

نامور کالم نگار امیر حمزہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ کورونا وائرس بھی ایسا ہی ایک وائرس یا جراثیم ہے‘ جو انسانی خلیے پر حملہ آور ہوتا ہے۔ دفاعی نظام ناکام ہوتا چلا جاتا ہے اور آخر کار انسان موت کے منہ میں چلا جاتا ہے۔ یاد رہے! انسانی جسم میں کوئی دس کھرب خلیات ہوتے ہیں۔ ہر خلیہ ڈی این اے اور ڈی این میں ”جین‘‘ پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے ترجمان میگزین (The Harvard Gazette) نے یکم فروری 2013ء کو انسانی جینوم کے بارے میں بھی اپنی تحقیق میں چارلس واٹس کے حوالے سے لکھا تھا کہ جین کے ایک حصے میں خالق کا پیغام دریافت ہوا ہے۔ ہمارا خالق ہم سے جینوم کی تحریر کے ذریعے ہم سے باتیں کر رہے ہیں‘اسی طرح یہ تحقیق بھی سامنے آ چکی ہے کہ انسانی ڈی این اے میں الحاد کا عقیدہ اجنبی ہے‘ جبکہ خالق کو ماننے کا عقیدہ فطری ہے۔ ان حقائق کی روشنی میں میڈیکل سائنس کی مزید حقیقت یہ ہے کہ انسانی خلیات آواز کے ذریعے منفی اور مثبت اثرات قبول کرتے ہیں۔ انسان کی اپنی زبان کی آواز اور دوسرے انسانوں کی مثبت آوازیں کانوں کے ذریعے دماغ تک جاتی ہیں۔ دماغی خلیات آوازوں کے اثرات کو سارے جسم کے خلیات تک پہنچاتے ہیں۔ جی ہاں! قارئین کرام! یہاں ذرا سوچئے کہ جب دوائی ہمارے مرض کے مطابق ہوتی ہے ‘تو شفاء مل جاتی ہے‘ بالکل اسی طرح جب دماغی سوچیں انسانی جسم کے دس کھرب خلیات کے مطابق ہوتی ہیں

تو شفاء کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ معروف عالمی سکالر عبدالدائم کحیل اپنی ریسرچ میں واضح کرتے ہیں کہ انسانی خلیات میں سب سے زیادہ شفاء کا اثر قرآن کی آوازوں کا ہوا ہے۔ یہ حقیقت تجربات سے ثابت ہو چکی ہے۔میں کہتا ہوں ایسا کیوں ہو کہ انسانی خلیات میں بھی اللہ کو ماننے کی تحریر ہے اور قرآن جو آسمانی پیغام ہے‘ اس کا تعلق اللہ سے ہے کہ وہ اللہ کا کلام ہے۔ یوں روحانی کلام کا پیغام جب دماغ کے ذریعے مادی خلیات تک جاتا ہے تو ایسی ہم آہنگی پیدا ہو جاتی ہے کہ باہر کے جراثیم کو وہ کورونا وائرس ہو یا کوئی اور اس کے لیے سروائیو کرنا اور موجودگی کو دوام دینا مشکل ہو جاتا ہے‘ لہٰذا شفاء کا عمل شروع ہو جاتا ہے۔ قرآن کو اللہ کا کلام نہ ماننے والے کا المیہ یہ ہے کہ اس کے خلیات میں ایک خالق کی تحریر تو موجود ہے ‘مگر ماحول اور شیطان نے اس کو اللہ کا منکر بنا دیا ہے‘ لہٰذا اس کے اندر ایک کشمکش ہے اس کشمکش یا جنگ میں شفاء کا اثر کم سے کم تر ہو جاتا ہے‘ جبکہ مومن کے لیے کہ مومن کی بھی ایمانی سیڑھیاں ہیں‘ اسی کے مطابق ہی شفاء ملتی ہے۔ اور آخری بات یہ ہے کہ آخری فیصلہ قرآن بھیجنے والے اور ڈی این اے پر تحریر لکھنے والے اللہ ہی کا ہے۔ اس پر ایمان کس درجے کا ہے۔ شفاء کو حاصل کرنے والے کو سوچنا ہوگا۔ تیربہدف شفائیہ سورت کا ذکر اگلے کالم میں! (اِن شاء اللہ)وہ لوگ جو قرآن پر ایمان رکھتے ہیں ‘وہ روحانی ہدایت بھی حاصل کرتے ہیں‘جسمانی شفاء بھی پاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصہ دار بھی بنتے ہیں۔ یاد رہے! میڈیکل کی دنیا میں اس اصول کو تجرباتی بنیادوں پر تسلیم کیا گیا ہے کہ شفاء کے حصول میں آدھا کام دوائی کا ہوتا ہے ‘جبکہ آدھا کام مریض کا اعتقاد اور نظریہ کرتا ہے کہ مجھے شفاء مل جائے گی۔ (ش س م)