بچے کے لیے ماں کے دودھ کی اہمیت اور رضاعی رشتوں کا احترام : ایک آسٹریلوی خاتون سائنسدان کی تحقیق کے نتائج نے پوری دنیا کو حیران کر دیا

لاہور (ویب ڈیسک) قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد گرامی ہے ”تمہارے لئے (تمہاری حقیقی مائوں کے علاوہ) ان مائوں سے بھی نکاح حرام ہے‘ جنہوں نے تمہیں دودھ پلایا۔ اس رضاعت ‘(یعنی دودھ کی رشتہ داری) سے تمہاری بہنیں بن جانے والیوں سے بھی تمہارا شادی کرنا حرام ہے‘‘۔ (النساء:23)

نامور کالم نگار امیر حمزہ اپنے ایک خصوصی کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔قارئین کرام! اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی تفسیر حضرت محمدؐ کریم کی مبارک زبان سے اس وقت سامنے آئی ‘جب حضرت علیؓ نے اللہ کے رسولؐ سے گزارش کی کہ آپؐ ‘اپنے چچا حضرت حمزہؓ کی بیٹی سے شادی کر لیں۔ آپؐ نے اس پر جواب دیا؛ وہ میرے لئے جائز نہیں ‘ کیونکہ دودھ پینے کی رشتہ داری کے حوالے سے وہ میرے بھائی کی بیٹی ہے۔ (بخاری:5100مسلم:3581)حضورؐ نے مزید وضاحت کے ساتھ واضح فرما دیا کہ ”دودھ پینے سے بھی وہ رشتے حرام ہو جاتے ہیں ‘جو (نسب‘ خون یا) پیدائش سے حرام ہو جاتے ہیں‘‘۔ (بخاری:5099) یاد رہے! ابو لہب کی ایک کنیز تھی۔ اس کا نام ثوبیہ تھا۔ حضرت حمزہؓ نے اس کا دودھ پیا تھا۔ حضرت محمدؐ کریم نے بھی حضرت حلیمہ سعدیہ کے علاوہ ثوبیہ کا بھی دودھ پیا تھا۔ یوں رضاعت کے حوالے سے اللہ کے رسولؐ اور آپؐ کے چچا حضرت حمزہ آپس میں بھائی بھی بن گئے۔اب ‘جس طرح سگے باپ کی بہنوں‘ یعنی پھوپھیوں سے نکاح حرام ہے اور سگی ماں کی بہنوں ‘یعنی خالائوں سے نکاح حرام ہے‘ اسی طرح رضاعی باپ کی بہنوں اور رضاعی ماں کی بہنوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ رضاعی ماں باپ کی بیٹیوں سے بھی نکاح حرام ہے۔ جی ہاں! اصول وہی ہے‘ جو حضورؐ نے بیان فرما دیا کہ رضاعت کے رشتے بھی اسی طرح حرام ہیں ‘جس طرح نسب کے رشتے حرام ہیں۔ اوپر والے بھی حرام ہیں ‘نیچے والے بھی حرام ہیں۔ قارئین کرام! میں قدرے وضاحت اس لئے کر رہا ہوں کہ

اب جو جدید میڈیکل ریسرچ بیان کرنے جا رہا ہوں وہ ہوبہو وہی ہے‘ جو قرآن اور حدیث نے بیان فرما دی ہے۔آئیے! اب اس میڈیکل سائنسٹسٹ کو جاننے کی کوشش کرتے ہیں‘ جس نے جدید ریسرچ کی ہے۔ان کا نام فوٹینی کاکولاس (Foteini Kakulas) ہے۔ انہوں نے آرسٹول یونیورسٹی یونان سے بیالوجی میں بی ایس سی کیا۔ مائیکرو بیالوجی میں آنرز کیا‘ پھر وہ آسٹریلیا چلی گئیں۔ وہاں انہوں نے 2006ء سے 2009ء تک مغربی آسٹریلیا یونیورسٹی سے پی ایچ ڈی کر لی‘ پھر اسی یونیورسٹی کے ”ہارٹمان ہیومن لاکٹیشن ریسرچ گروپ‘‘ کے ساتھ وابستگی اختیار کرلی۔ یہاں انہوں نے انسانی دودھ کی فزیالوجی میں ڈاکٹریٹ کی دوسری ڈگری حاصل کر لی۔ دودھ کے خلیات اور چھاتی کینسر میں اب وہ دنیا کی ایک ماہر ترین ڈاکٹر ہیں۔ اس میدان میں عالمی سطح پر ان کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ”انٹرنیشنل سوسائٹی فار ریسرچ ان ہیومن ملک اینڈ لاکٹیشن‘‘ نے انہیں اعلیٰ ترین اعزاز سے نوازا اور ساتھ ہی ان کے ذمہ یہ ریسرچ بھی لگائی کہ انسانی دودھ آنے والی نسلوں میں کیا اثرات چھوڑتا ہے۔ڈاکٹر صاحبہ اب تک مزید ڈگریاں اور عالمی اعزازات حاصل کر چکی ہیں۔ وہ اپنے موضوع پر میڈیکل سائنس میں ٹاپ کی اعلیٰ ترین سائنسدان بنیں۔ آئیے! اب دیکھتے ہیں کہ ان کی جدید ترین ریسرچ کیا کہتی ہے۔ نام نہاد ملحد دانشور جو مقدس رشتوں کی تقدیس اور حرمت ہی کے قائل نہ تھے۔ وہ دودھ کے رشتوں کی حرمت کا مذاق اڑاتے تھے کہ اس کا انسانی فطرت اور نیچر سے کیا تعلق ہے؟

اس کا میڈیکل سائنس سے کیا تعلق ہے؟ قارئین کرام! آج ہم ان کو بتانے چلے ہیں کہ عالمی سطح کا سب سے بڑا سائنسی میگزین ‘جس کا نام ”نیچر‘‘ ہے ‘وہ کس طرح نام نہاد نیچر پرستوں کا سائنسی مذاق اڑا رہا ہے۔سائنس میگزین ” نیچر‘‘ کی تحقیق ملاحظہ ہو:۔ڈاکٹر فوٹینی کہتی ہیں کہ بچہ اپنی حقیقی ماں کا دودھ پیتا ہے تو اس دودھ میں بچے کے حقیقی ماں باپ کا وراثتی سسٹم بھی ہوتا ہے‘ جو بچے میں منتقل ہوتا ہے‘ اسی طرح جب کوئی ماں اپنے حقیقی بچے کے علاوہ کسی دوسرے بجے کو اپنا دودھ پلاتی ہے‘ تو وہ صرف غذا نہیں ہوتی ‘بلکہ وہ بچے کے ڈی این اے میں واقع جین کے وراثتی دھاگے میں اپنے وراثتی سسٹم کو بھی منتقل کر رہی ہوتی ہے‘ پھر یہ سسٹم زندگی بھر کیلئے اس اجنبی بچے میں قائم رہتا ہے۔ ہوتا یوں ہے کہ کروڑوں خصوصی خلیات دودھ کے ہمراہ بچے کے پیٹ میں جاتے ہیں اور پھر خون کی گردش کے ذریعے بچے کے تمام اعضا اور ہڈیوں کے خلیات میں چلے جاتے ہیں اور یوں یہ اجنبی بچہ اپنے (رضاعی ماں باپ) کی وراثتی خصوصیات کو اپنے اندر اپنے جسم کا حصہ بنا لیتا ہے۔قارئین کرام! یہ ہے ؛وہ اکیسویں صدی کی تحقیق‘ جس نے ثابت کیا کہ نسب اور خون کے رشتوں میں جو خصوصیات ہوتی ہیں ‘وہی خصوصیات دودھ پینے سے بھی پیدا ہو جاتی ہیں‘ لہٰذا ایک جیسی خصوصیات کی وجہ سے حکم بھی ایک ہے۔ صدقے اورقربان جاؤں قرآن پر جو حضرت محمدؐ کریم پر نازل ہوا کہ وہ اکیسویں صدی کی ریسرچ سے ساڑھے چودہ سو سال آگے ہے۔

صدقے قربان جائوں حضرت محمدؐ کریم کے فرمان پر کہ وہ جدید ترین تحقیق سے ساڑھے چودہ صدیاں آگے ہے۔ یاد رہے! محترم رشتہ داروں کی حرمت کو یہودی اور نصرانی بھی تسلیم اور عمل کرتے ہیں‘ مگر جس وضاحت کے ساتھ اسلام نے بیان فرمایا وہ حضرت محمدؐ کریم کی کامل شریعت کی دلیل ہے۔ باقی حرمت والی رشتہ داری کی پامالی کے میڈیکل نقصانات بہت سارے سامنے آ چکے ہیں‘ مزید آتے جائیں گے۔ڈاکٹر فوٹینی کہتی ہیں کہ اس موضوع پر تحقیق کہ جو سترہویں صدی سے جاری ہے۔ ابھی جاری رہے گی اور حقائق سامنے آتے جائیں گے۔ڈاکٹر فوٹینی یہ بھی کہتی ہیں کہ بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو اس کے جسم کا دفاعی نظام (امیون سسٹم) بہت کمزور ہوتا ہے۔ وہ صرف ماں کے دودھ سے ہی مضبوط ہوتا ہے۔ ماں اور بچے دونوں کی صحت دودھ پینے اور پلانے کے ساتھ بندھی ہوئی ہے۔ بچہ اپنی بھرپور جوانی تک ماں کے دودھ سے بیماریوں سے محفوظ رہتا ہے۔ اس میں کینسر‘ ہیپاٹائٹس کی بیماریوں کے ساتھ ساتھ وبائی بیماریاں بھی شامل ہیں‘ جبکہ ماں کے دودھ بنانے کے جو گلینڈز ہیں ‘ان کا پورے جسم سے تعلق ہے ‘جو ماں دودھ نہیں پلاتی ‘اس کی صحت پیچیدگیوں کا شکار ہو جاتی ہے۔ان پیچیدگیوں میں سرفہرست چھاتی کا کینسر ہے۔ اس کا علاج صرف اور صرف بچے کی فیڈنگ ہے۔ڈاکٹر فوٹینی مزید کہتی ہیں؛جو بچہ اپنی ماں کا دودھ پیتا ہے‘ اس کے پیٹ میں گیس اور ہاضمہ کا نظام ہی بہتر نہیں ہوتا ‘بلکہ اس کا دماغی نظام بھی بہتر رہتا ہے۔ قارئین کرام! جدید ریسرچ کا مطلب یہ ہوا کہ جو ماں اپنے بچے کو دودھ نہیں پلاتی‘ وہ نا صرف اپنے بچے پر ظلم کرتی ہے‘ بلکہ خود اپنی ذات پر ظلم کرتی ہے۔قرآن دودھ پلانے کی مدت دو سال قرار دیتا ہے۔ یہ آخری حد ہے۔ میاں بیوی باہم مشورہ سے پہلے بھی دودھ چڑھوا‘ سکتے ہیں ‘مگر بغیر کسی وجہ سے اپنے بچے کا حق مارنا زیادتی ہے۔ اس زیادتی کے نتائج دنیا میں بھی اچھے نہیں آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ نے پوچھ لیا‘ تو کیا جواب ہوگا؟بہرحال! ایک مومن اور مومنہ کا ایمان ہونا چاہیے کہ قرآن و حدیث کے احکامات اور ہدایات پر عمل سے دنیا ہی نہیں سنورتی‘ آخرت بھی خوبصورت اور حسین بن جاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں تمام رشتے خوبصورتی کے ساتھ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ (آمین)