حسد کی آگ ہمارے معاشرے کو کیسے کھوکھلا کر رہی ہے ؟ ایک خصوصی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) اللہ پاک جس کو چاہتا ہے عزت دیتا ہے جس کو چاہتا ہے ذلت دیتا ہے عزت اور ذلت دونوں ہی اللہ پاک ہاتھ میں ہیں۔ اللہ پاک چاہے فقیر کو غنی کردے۔۔۔یا غنی کو فقیر کردے۔ پھرانسان کیوں اللہ پاک کے فیصلوں کے سامنے کھڑے ہونے کی کوکشش کرتے ہیں

نامور کالم نگار رانا فاروق دلدار اپنی ایک خصوصی تحریر میں لکھتے ہیں۔۔۔ جب ہم میں سے کوئی انسان اپنی محنت سے کسی باعزت مقام تک پہنچنے کی کو کشش کرتا ہے تو آج کا معاشرہ اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ شکنی شروع کردیتاہے تاکہ وہ ترقی نہ کرے۔آج ہماری ذہنیت اتنی پست ہوگئی ہے کہ ہمارے اندر برداشت کا مادہ نہیں رہا۔ہمارا اندر بغض اور حسد سے بھرا پڑا ہے۔ آج کے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ دوسروں کی خوشی میں خوش ہونے کی بجائے حسد کی آگ میں جل کر منافقت کا روپ دھار کر اپنے ہی عزیز دوستوں کو ہی ذلیل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔حالانکہ کے حسد کرنے والا اپنے سوا کسی کا کچھ نہیں کرسکتا۔اگر انسان یہ سمجھ لے کے ہر کسی کو اس کی قسمت کا لکھا ملتا ہے۔حسد کی نشانی یہ بھی ہے جب کوئی ہمارے پاس نہیں ہوتا تو ہم اس کا مذاق بنا کر ہنستے اور اس کی عزت پامال کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حسد کرنے سے کسی کو کم یا زیادہ نہیں مل سکتا تو شاید حاسدوں کی تعداد میں کمی آجائے۔اللہ پاک سے دعا ہے ہم سب کو حسد اور منافقت سے بچاکر رکھے۔اللہ پاک ہم سب کو حسد اور منافقت جیسی برائیوں سے بچائے ترجمہ۔ مسلمان آپس میں ایک دوسرے کے بھائی ہیں۔ ]الحجرات:10 [ حدیث نبویﷺ ترجمہ۔ ”مسلمان مسلمان کا بھائی ہے،اُس پر خود ظلم کرتا ہے اور نہ اُسے بے یارو مددگار چھوڑتا ہے اور نہ اُسے حقیر جانتا ہے۔پھر آپ ﷺ نے اپنے قلب مبارک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے تین بار یہ الفاظ فرمائے: تقویٰ کی جگہ یہ ہے۔کسی شخص کے برا ہونے کے لئے یہی کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔ہر مسلمان کا خون،مال، اور عزت حرام ہے“ اخوت و محبت کی بنیاد اِیمان اور اسلام ہے۔یعنی سب کا ایک رب،ایک رسول،ایک کتاب،ایک قبلہ اور ایک دین ہے،جو کہ دین اسلام ہے۔