بڑی اچھی بات ہے ،یہ نظام چل نہیں پائے گا پرانا واپس لانا مشکل ہو گا اس طرح ملک میں افراتفری پھیلے گی اور پھر ۔۔۔۔ جنرل حمید گل پاکستان میں کس چیز کی خرابی پر مطمئن اور خوش ہوتے تھے ؟ حقیقت جان کر شاید آپ بھی تائید کریں

لاہور (ویب ڈیسک) ای ۔ پی مُون (سر ایڈورڈ پنڈلرل مون) 1934ء سے لیکر 1937ء تک ملتان کا ڈپٹی کمشنر رہا۔ اس وقت ملتان پنجاب کا سب سے بڑا ضلع تھا۔ ویسے بھی اس کی اہمیت مسلم تھی۔ مون بلاشبہ برصغیر کا سب سے نامور ڈپٹی کمشنر تھا۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ

سابق بیوروکریٹ اور نامور مضمون نگار شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔ برطانیہ نے اسے ’’سر‘‘ کا خطاب دیا۔ تقسیم کے بعد بھی جواہر لعل نہرو نے اپنے انڈین پلاننگ کمیشن سے منسلک رکھا۔ اس نے دو ہزار صفحات پر مشتمل British CONQUEST and Dominions of Indiaکتاب لکھی۔ وہ اپنے ایک مکتوب میں لکھتا ہے۔I used to travel Fifty miles a day on the Horse back visited and inspected each and every police station held long discussion with the THANEDARS on Law and order۔۔۔۔Although I was known as a harsh officer, I always protected Police from The EXCESSES of Judiciary۔۔(میں اکثر گھوڑے پر بیٹھ کر پچاس میل تک کا سفر ایک دن میں کر لیا کرتا تھا۔ ہر تھانے کا معائنہ کرتا۔ تھانیدار سے امن عامہ کی صورت حال پر باز پرس کرتا۔ گو میری شہرت ایک سخت گیر افسر کی سی تھی لیکن میں نے پولیس کو ہمیشہ عدلیہ کی دست بُرد سے بچایا)گویا ایک اعتبار سے وہ پولیس کا محسن تھا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب SP کی سالانہ خفیہ رپورٹ ڈپٹی کمشنر لکھتا تھا۔ تھانیداروں کے تبادلے اسکی منظوری سے ہوتے تھے۔ جتنا بڑا یہ عہدہ تھا اتنے ہی لطائف اس کے متعلق گھڑ لئے گئے۔ کہتے ہیں ایک دفعہ ایک انگریز ڈی۔ سی دورے پر گیا تو مقامی پولیس نے اپنی کارکردگی ظاہر کرنے کے لیے ایک بدنام ڈاکو اس کے حضور پیش کیا۔ ڈی ۔ سی نے جوش میں آ کر اسے گولی مار دی ڈاکو کا جسم سرد ہونا تھا کہ ڈی ۔ سی صاحب کا غصہ بھی کافور ہو گیا۔ خوف کی ایک سرد لہر انہیں اپنی ریڑھ کی ہڈی میں اُترتی ہوئی محسوس ہوئی

کیونکہ ان دنوں قانون بہرحال قانون ہوا کرتا تھا، موم کی ناک نہیں بنا تھا۔ ڈی ۔ سی صاحب نے سول سرجن کو بلایا اور کہا کہ وہ اپنی ’’میڈیکو لیگل‘‘ رپورٹ میں لکھ دے کہ ڈاکو ہیضہ سے مرا تھا۔ ڈاکٹر نے ایک نظر سے متوفی کو دیکھا اور دوسری نگاہ ڈی ۔ سی صاحب پر ڈالتے ہوئے بولا۔ حضور! اسکے جسم سے اُٹھتی ہوئی موجِ خون آپکے دستِ غیض تک آپہنچی ہے۔ آپ قتل عمد کے مرتکب ہوئے ہیں۔ میں کیسے غلط رپورٹ لکھ دوں؟ یہ سنتے ہی ڈی ۔ سی صاحب نے ایک فیصلہ کن جھٹکے سے میز کی دراز کھولی، وہی پستول ڈاکٹر کی کنپٹی پر رکھتے ہوئے بولے:WRITE That he DIED of CHOLERA, otherwise you are also going to get cholera-(ملزم کی طرح تمہیں بھی ہیضہ ہو سکتا ہے)اس پر ایک مجبور ڈاکٹر نے اپنی رپورٹ میں لکھا ’’ہیضے کا موذی مرض ملزم کے لیے جاں لیوا ثابت ہوا ہے۔ ایک انگریز ڈی ۔ سی کی شادی ہوئی تو اس کے دفتر کے اسسٹنٹ نے مبارکباد کا تار بھیجا ۔(HEARTIEST CONGRATULATIONS)MAY GOD GRANT YOU a SON at his Earliest CONVENIENCE)(شادی کی مبارک! اللہ تعالیٰ اپنی پہلی فرصت میں آپ کو اولاد نرینہ عطا فرمائے)تقسیم کے بعد پولیس نے آہستہ آہستہ کل پُرزے نکالنے شروع کئے۔ پنجاب کا وزیر اعلیٰ ممتاز دولتانہ آئی جی پولیس خان قربان علی خان کو انکل کہتا تھا۔ لیاقت علی خان کا قتل بھی اب کوئی راز نہیں رہا۔ چیف سیکرٹری انہیں خوش کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتا تھا۔ الیکشن میں ’’جھرلو‘‘ پھیرنے کی اصطلاح بھی پہلی بار منظرِعام پر آئی۔ قدرت اللہ شہاب لکھتے ہیں کہ

ایک مرتبہ ان کی بھی پیشی خان صاحب کے حضور ہوئی۔ جب خان صاحب نے کسی بات پر ناراضی کا اظہار کیا تو چیف سیکرٹری بھیگی بلی بنا رہا اور ان کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔ رفتہ رفتہ ایس پی نے تھانیداروں کے تبادلے ازخود کرنا شروع کر دئیے۔ ایس ۔ پی نے اپنی ACR ڈی ۔ سی سے لکھوانی بند کر دی۔ بالآخر نوبت بااینجا رسید کہ ساہیوال کے SSP نے پولیس گارڈ کو ہدایت کی۔ ڈی ۔ سی کو سلیوٹ نہ ’’مارا‘‘ جائے۔ایک طویل عرصہ تک ڈی ۔ سی اور ۔ ایس پی کے درمیان ایک UNEASY RELATIONSHIP چلتا رہا۔ کہنے کو تو ڈی سی ضلعی ٹیم کا کپتان تھا۔ لیکن یہ کپتانی عمران خان کی طرح نہیں بلکہ سرفراز کی طرح تھی۔ ڈرا ڈرا سہما سہما کپتان پرویز مشرف نے آ کر یہ تہمت بھی ختم کر دی۔ وہ ایک ایسا نظام لیکر آیا جسے آدھا تیتر آدھا بٹیر کہا جا سکتا تھا۔ جب جنرل نقوی کو اس ’’کارِخیر‘‘ کو قانونی شکل دینے کا کہا گیا تو میں اس وقت کمشنر بہاول پور تھا مجھے گورنر پنجاب جنرل صفدر صاحب نے کہا ، پنڈی جا کر نقوی کو سمجھائو! اس سے ایڈمنسٹریشن کا بیڑا غرق ہو جائیگا۔ میں نے کہا کب وہ سنتا ہے کہا میری! ہنس کر بولے۔ اتمامِ حُجت بھی تو کوئی چیز ہے۔ اس اثنا میں جنرل حمید گل صاحب سے ملاقات ہوئی کہنے لگے۔ بہت اچھا ہو رہا ہے! وہ کیسے؟ میں نے پوچھا وہ کیسے؟ تو فرمایا۔ ’’یہ نظام چل نہیں پائے گا۔

پرانا واپس لانا مشکل ہو گا اس طرح ملک میں افراتفری پھیلے گی اور انقلاب کا راستہ ہموار ہو گا۔ مرحوم نے شاید درست ہی کہا تھا ڈیڑھ سو سالہ نظام کو بغیر سوچے سمجھے بیک جنبش قلم بدل دینا درست نہیں تھا۔ ڈی ۔ سی اور مجسٹریٹوں سے جوڈیشل اختیارات واپس لیکر انہیں بے دست و پا کر دیا گیا ہے۔ صرف نام میں کیا رکھا ہے۔ علامہ اقبال نے درست ہی کہا تھا …ع۔۔عصا نہ ہو تو کلیمی بے کار بے بنیاد !اب صورت حال یہ ہے کہ لاء اینڈ آرڈر کا ستیاناس ہو گیا ہے۔ ڈی ۔ سی ۔ او سے حکومت کی توقعات پرانی ہیں۔ اختیارات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ وہ تھانیدار جو مجسٹریٹ کے بلانے پر تھر تھر کانپتا تھا اب اسے تھانے میں بلا کر گھنٹوں انتظار کراتا ہے۔ ڈسٹرکٹ ناظم والا تجربہ مکمل ناکام ہو چکا ہے۔ سیاسی آدمی کو انتظامیہ کا انچارج بنانے سے استعداد کار میں تو فرق نہ پڑا۔ کرپشن کا ہر در کھل گیا۔ اس نے EDO ور DCO کے اختیارات بھی غیر قانونی طور پر استعمال کرنے شروع کر دئیے۔ گریڈ I سے 10 تک تبادلے کے اختیارات EDO کے پاس تھے۔ 11 سے 16 تک DCO کے پاس تھے۔ لیکن انہیں عملاً ناظم استعمال کرتا تھا۔ دھونس اور دھاندلی کے ذریعے!؎عمر میری تھی مگر اس کو بسر اس نے کیا۔۔۔اب ہو گا کیا؟ اخباروں میں DMG اور پولیس کی کشمکش کا ذکر ہو رہا ہے۔ پولیس کبھی بھی DC کو DM کے اختیارات نہیں لینے دیگی۔ یہ لاکھ کوشش کر دیکھیں! کمان سے نکلا ہوا تیر کبھی واپس نہیں آتا۔ لیکن اصل حقیقت کی طرف کسی کی نظرنہیں گئی۔ ڈی سی اور مجسٹریٹ کو جوڈیشل پاورز عدلیہ دیتی ہے جو آجکل سول جج صاحبان کے پاس ہیں۔ کیا عدلیہ پرانا نظام بحال کرنے پر آمادہ ہو جائے گی؟(ش س م)