پاکستان کےسرکاری ہسپتالوں میں غریب اور لاچار لوگوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے ؟ سابق وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کے انکشافات اور اعترافات

لاہور (ویب ڈیسک)ایک پسماندہ شہر کے اسپتال کے باہر ایک بیمار اور لاچار سی خاتون ایک نوجوان کا سہارا لیے کھڑی تھیں، پریشانی جس کے چہرے سے عیاں تھی۔ میرے استفسار پر لڑکے نے بتایا کہ یہ اس کی والدہ ہیں جنھیں ڈاکٹر زنے سٹی اسکین کروانے کے لیے کہا ہے اور یہاں قرب و جوار میں

میاں محمد شہباز شریف اپنے ایک خصوصی مضمون میں لکھتے ہیں۔۔۔ یہ سہولت موجود نہیں، اس کیلیے انھیں دور دراز کا سفر کر کے ملتان جانا ہوگا۔یہ غریب لوگ لمبے سفر کے اخراجات (جس کے لیے بسا اوقات ادھار بھی پکڑنا پڑتا ہے) اورصعوبتیں برداشت کرکے کسی بڑے شہر کے سرکاری اسپتال میں پہنچ بھی جائیں تو اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ وہاں سی ٹی اسکین مشین درست حالت میں ہوگی اور مریض اس مفت سہولت سے فائدہ اٹھا سکے گا؟ سرکاری اسپتالوں میں اس طرح کی مشینیں جان بوجھ کر بھی خراب رکھی جاتیں کہ اس سے پرائیویٹ کلینکس اور لیبارٹریوں کا دھندا چلتا جس میں سرکاری اسپتال کے بدعنوان عملے کابھی حصہ ( کمیشن) ہوتا ۔اس کے لیے حکومت پنجاب نے ہر ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر اسپتال میں CT اسکین کی سہولت کی مفت فراہمی کو یقینی بنانے کا فیصلہ کیا۔ اور اسے بعض بدعنوان اور بدنیت سرکاری اسٹاف کی دستبرد سے بچانے کے لیے ” پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپماڈل(Public Private Partnership Model)” میں تبدیل کردیا ۔اس کیلیے قواعد و ضوابط کے مطابق باقاعدہ Bidding کروائی،6 انٹر نیشنل کمپنیوں نے جس میں حصہ لیا اور جاپان کی ہٹاچی (HITACHI) نے Bid جیت لی۔ اس کیلیے سرکاری اسپتالوں میں جدید معیار کی عمارت کی فراہمی ہمارے ذمے تھی جس میں CT اسکین کا کمرہ ،کنٹرول روم اورویٹنگ ایریا شامل تھے ۔CT اسکین کے اس سارے عمل میں اسپتال کے سرکاری اسٹاف کا کوئی عمل دخل نہ تھا، سوائے اس کے کہ میڈیکل سپریٹنڈنٹ یا متعلقہ ڈاکٹر مریض کواس ٹیسٹ کے لیے “ریفر” کرتا۔ CT اسکین مشینیں

ہٹاچی (HITACHI) کی تھیں، ان کی آپریشنل(Operational) اورمینٹی نینس ((Maintenance کی ذمے داری کے ساتھ عملہ بھی انہی کا تھا ۔یہ سہولت کسی ناغے اور وقفے کے بغیر روزانہ 24 گھنٹے دستیاب ہوتی ۔ غریبوں کے لیے اس مفت سہولت پر حکومت پنجاب (معاہدے کے مطابق) ہٹاچی (HITACHI) کو ادائیگی کرتی۔ کیا غریبوں کے لیے یہ سہولت اب بھی اسی معیار اور رفتار کے ساتھ موجود ہے ؟ جواب ظاہر ہے نہیں۔۔۔جو کہ ایک بڑی بد قسمتی ہے۔یہاں قصور کی زہرہ بی بی کا المیہ بھی یاد آیا۔ میں نے اخبار میں خبر پڑھی، ایک خاتون لاہور کے جناح اسپتال میں فرش پر زیرِ علاج تھیں اور اس حالت میں اپنے خالق حقیقی سے جا ملیں۔ یہ خبر ہر حساس دل کو تڑپا دینے والی تھی۔میں مرحومہ کے لواحقین سے اظہار تعزیت اور دیگر تفصیلات جاننے کے لیے ان کے گھر گیا۔ تو معلوم ہوا کہ مقامی اسپتال نے مریضہ کو لاہور کے کسی بڑے اسپتال لے جانے کے لیے کہاجس کے لیے ایمبولینس کی تلاش ہوئی مگر نہ ملی، آخر دو ہزار روپے میں ایک گاڑی ملی اور لواحقین اسے لے کر لاہور کے لیے روانہ ہوئے ۔یہاں شروع میں جنرل اسپتال پڑتا تھا ، انھوں نے مریضہ کو یہ کہہ کر” سروسز”بھجوا دیا کہ اس کا علاج “سروسز” میں ہوگا اور سروسز والوں “جنا ح ـ”لے جانے کو کہااور ہر مرتنہ ایمبولینس کے لیے پیسے دینے پڑتے۔ وہ جناح اسپتال پہنچی تو وہاں کوئی بستر فارغ نہ تھا چنانچہ اسے فرش پر لٹا کر ڈاکٹروں نے بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ اسی دوران اس نے آخری سانس لی اور اگلے جہاں سدھار گئی۔اس مریضہ کو انتہائی تکلیف کی حالت میں دربدر کے دھکے کھانے پڑے اور نہ جانے کتنے ہی لوگ اس نظام کا شکار ہوئے۔اس غفلت اور لاپروائی پر میں نے متعلقہ لوگوں کی سخت سرزنش کی اور ان کے خلاف کاروائی کا حکم دیا۔اس المیہ نے ایک اور سنگین مسئلے کی طرف بھی توجہ دلائی ،موت و حیات کی کشمکش میں، مریضوں کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی کا مسئلہ ۔بنیادی طور پر یہ وہی “دو پاکستان” والامسئلہ تھا ، امیروں کیلیے الگ پاکستان جہاں پرُآسائش زندگی گزارنے کیلیے ہر آسائش دستیاب ،معمولی سا نزلہ زکام ہو تو اس کیلیے بھی بہترین طبی سہولتیں حاضر، اور غریبوں کیلیے الگ پاکستان، جہاں موت بھی ایڑیاں رگڑتے ہوئے آئے۔پس یہی وہ لمحہ تھا جب بے وسیلہ مریضوں کی ایک اسپتال سے دوسرے اسپتال منتقلی کے لییپیشنٹ ٹرانسفر سسٹم (PTS)کی داغ بیل ڈالی گئی۔ اس کے لیے محکمہ صحت کے پاس پہلے سے موجود ایمبولینسوں میں سے اچھی حالت میں 500 ایمبولینسزکا انتخاب کیا گیا (باقی ماندہ کھٹارا ایمبولینسز باقاعدہ شفاف بولی کے ساتھ نیلام کر دی گئیں۔) ایمرجنسی سروس کیلیے 1122 پہلے سے موجود تھا۔