پرویز مشرف کے دور میں ڈاکٹر طاہر القادری نے نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم کو کیا جھٹکا دیا تھا ؟ برسوں بعد بڑا سیاسی راز منظر عام پر

لاہور (ویب ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمن نے واضح کیا کہ ان کی طرف سے ”آزادی مارچ“ موخر کرنے کا کوئی فیصلہ نہیں ہے، ہم نئے انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں اور اپوزیشن کی جماعتوں سے مشاورت جاری ہے۔ مولانا یہ مارچ اکتوبر میں کرنا چاہتے ہیں اور انہوں نے

نامور کالم نگار چوہدری خادم حسین اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ ابھی تک مسلم لیگ ن کی اس تجویز پر صاد نہیں کیا کہ مارچ اس سے اگلے ماہ (نومبر) تک موخر کر دیا جائے۔ مسلم لیگ ن پرسوں سوموار کے روز مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں غور کرے گی اور سفارشات مرتب کرکے جماعت کے قائد محمد نوازشریف کو بھیجی جائیں گی جن کا فیصلہ حتمی ہو گا۔ مسلم لیگ میں دو آرا ہیں، تاہم محمد نوازشریف بیانیہ کے حامیوں کی واضح اکثریت ہے اور اتفاق نہ کرنے یا تحفظات والے اقلیت میں ہیں، بہرحال حتمی رائے اور ہدائت تو سابق وزیراعظم کی ہو گی جو سنٹرل جیل کوٹ لکھپت میں ”آرام“ سے ہیں، اس میں پیپلزپارٹی کا بھی مسئلہ ہے جو تاحال اخلاق اور سیاسی حمایت تک ہے، آگے کا حال اللہ بہتر جانتا ہے۔ آج گزارشات تو بابائے جمہوریت اور سیاسی اتحاد نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) کے سولھویں یوم وفات کے حوالے سے کرنا تھیں لیکن سیاسی حالات حاضرہ کے ذکر کے بغیر یہ نا مکمل رہتیں، اگر نوابزادہ مرحوم کو خراج عقیدت ہی پیش کرنا مقصودہو تو دوسطروں میں بات مکمل ہو جاتی ہے“ بہت ہی خوبیاں تھیں مرنے والے میں“ لیکن بات یہاں تک نہیں، ملک کے موجودہ سیاسی حالات کی روشنی میں ان کے سیاسی کردار اور عمل کا ذکر کئے بغیر بات مکمل نہیں ہوتی۔ بلاشبہ مولانا فضل الرحمن مرحوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں اور انہوں نے متحدہ حزب اختلاف بنانے کے لئے محنت بھی کی مگر

اے پی سی ہونے اور رہبر کمیٹی بن جانے کے باوجود وہ کچھ نہ ہو سکا جو نوابزادہ نصراللہ ہوتے تو ہو جاتا۔مولانا فضل الرحمن نے ابھی گزشتہ روز ہی کہا ہے کہ ”آزادی مارچ‘ ہو گا اور اگر ان کو گرفتار بھی کر لیا گیا تو قیادت جیل سے کریں گے ویسے حضرت فضل الرحمن نے بھی ایک ترتیب دی ہوئی ہے کہ گرفتاریوں کی صورت میں کون کس کی جگہ لے گا اور قیادت کے فرائض سرانجام دے گا۔ اسی حوالے سے ہمیں نوابزادہ نصراللہ بہت یاد آئے، ان کے دو ’کارناموں“ کے حوالے تو ہم پہلے بھی بتا چکے ہوئے ہیں، آج موقع ہے پھر سے دہرا دیتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف سیاسی جماعتوں کے اتفاق کی ضرورت تھی، ان دنوں پاکستان ڈیمو کریٹک فرنٹ (پی ڈی ایف) کے نام سے ایک اتحاد بھی موجود تھا، جس کی قیادت پیر علی مردان شاہ پیر آف پگارو (مرحوم) کے پاس تھی، اس میں جماعت اسلامی اور بعض دوسری جماعتیں نہیں تھیں، نوابزادہ نصراللہ بڑے سیاسی اتحاد کی تگ و دو میں تھے، ان کی ملاقاتیں اور جماعتوں کے اجلاس جاری تھے، مگر فیصلہ نہیں ہو پا رہا تھا،ہم رپورٹر روزانہ خبر کی تلاش میں نکلتے اور ہر روز اختلاف والی اطلاعات حاصل کرکے خبر بناتے تھے اور یوں اتحاد نہیں بن رہا تھا، بڑی خبر ہمیشہ یہ ہوتی کہ نئے سیاسی اتحاد کا سربراہ کون ہو گا، اس کے لئے پیرپگارو کو سامنے رکھا جاتا تھا، لیکن پھر یہ ہوا کہ رفیق احمد باجوہ (مرحوم) کے گھر شاد باغ عشایئے کا اہتمام ہوا،

قائدین نے شرکت کی، ہمارا گھر تب شادباغ میں تھا، اس لئے ہم زیادہ وقت موجود رہے اور پھر یہ ہوا کہ نوابزادہ نصراللہ خان ڈنر ٹیبل سے باہر آئے اور ہم رپورٹروں کو بتایا کہ نو سیاسی جماعتوں نے اتحاد بنا لیا، مفتی محمود صدر، نوابزادہ نصراللہ خان سینئر نائب صدر اور رفیق باجوہ سیکرٹری جنرل ہیں، اتحاد کا نام پاکستان قومی اتحاد (پی این اے) ہے اور سب کا ایک جھنڈا ہو گا جس پر نوستارے ہوں گے۔ یوں ہم بے خبر رہے اور اتحاد بن بھی گیا۔ بعدازاں نوابزادہ نصراللہ نے ہمیں بتایا تھا کہ ہم ایک ایک جماعت کے اکابرین سے الگ الگ مل کر بات کرتے اور جب سب طے ہو جاتا ہے تو پھر اجلاس کے بعد اعلان کرتے ہیں یوں معتبر صحافی بھی خبر سے محروم ہی رہتے ہیں۔ دوسری بات نوابزادہ نصراللہ نے بڑے دلچسپ انداز میں کہی، پی این اے کی تحریک شروع ہو چکی تھی، گرفتاریوں کا سلسلہ بھی جاری تھا، ایسے میں بعض رہنما ”ہائیڈ اینڈ سیک“ (چھپن چھپائی) والی گیم کھیلتے تھے، لیکن نوابزادہ نصراللہ اپنے ڈیرے نکلسن روڈ پر ہمہ وقت موجود رہتے ہم نے پوچھا کہ آپ بھی تو گرفتار ہو سکتے ہیں، وہ بولے! فکر کی بات نہیں ہم تو مسافر ہیں ہر وقت بیگ تیار رکھتے ہیں، جب بھی کوئی گرفتار کرنے آئے حاضر ہیں۔ دو کپڑوں والے بیگ کے ساتھ روانہ ہو جائیں گے، یوں وہ ثابت کرتے تھے کہ وہ مزاحمت کا ارادہ نہیں رکھتے اور پرامن جدوجہد (تحریک) میں یقین رکھتے ہیں، اسی

حوالے سے ان کی یہ بات اور طریق کار بھی یاد آتا ہے کہ وہ اتحاد کے لئے الگ الگ ملاقاتیں کرتے ہیں اور تحفظات کا ازالہ کر لیتے ہیں، اب جہاں تک مولانا فضل الرحمن کا تعلق ہے تو وہ بھی ملاقاتیں تو کرتے ہیں لیکن یہ کھلی ہوتی ہیں اور پھر باخبر ذرائع اپنی چھوڑتے ہیں اور وہ اپنی کہتے ہیں، اب یہ معلوم نہیں کہ اندر والی بات ہی باہر آکر باخبر ذرائع والی خبر بنتی ہے یا پھر کچھ پردے میں رہنے دو والی بات بھی ہوتی ہے۔ بہرحال ابھی تک نوابزادہ نصراللہ خان والا اتحاد منظر عام پر نہیں آ سکا، تحفظات ہی تحفظات خبر بنتے ہیں،مولانا کو اب مسلم لیگ(ن) کا انتظار اور بلاول کو پیار سے سمجھانے والا وقت چاہیے اور وہ انہیں حاصل ہے۔ دیکھیں قطرے کے گہر ہونے تک کیا گزرتی ہے۔ نوابزادہ نصراللہ خان (مرحوم) آگ اور پانی کے ملاپ کے بہت بڑے ماہر تھے۔ پی این اے میں ضدّین کو جمع کیا تو پھر جنرل ضیاء کے خلاف پیپلزپارٹی اور اے این پی (سابق این اے پی) کو ساتھ بٹھا دیا اور ایم آر ڈی بنا دی، لمبی جدوجہد ہوئی، کوڑے، جیلیں اور سزائیں بھی ہوئیں۔پھر وہ دور بھی آیا، جب انہی نوابزاد نصراللہ نے لندن کا جان لیوا سفر کیا اور محترمہ بے نظیر بھٹو اور محمد نوازشریف کے درمیان میثاق جمہوریت بھی کرا دیا، ہم نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ(ن) والوں کو اکٹھے جلوس نکالتے نعرے لگاتے اور گرفتار ہوتے بھی دیکھا۔ نوابزادہ نصراللہ کی اسی کاوش کی ایک

مثال اور دے کر بات ختم کرتے ہیں۔ اس سے اپنے ایک دوست کی غلط فہمی بھی دور ہو جائے گی، نوابزادہ نصراللہ خان جنرل مشرف کے خلاف جدوجہد کو مزید بہتر کرنا چاہتے اور پہلے سے موجود اتحاد کی توسیع کا ارادہ تھا، اس سلسلے میں وہ حسب عادت علامہ طاہر القادری کو رضامندکر چکے اور چپ چاپ ان کی یہ خواہش بھی مان لی تھی کہ اتحاد کا نام تبدیل ہو گا اور وہ (طاہر القادری) پہلے سربراہ ہوں گے، اس سلسلے میں یقینی طور پر محترمہ بے نظیر بھٹو (شہید) کے تحفظات تھے ان سے بات کی جاتی تو مشکل ہونا تھی۔ نوابزادہ نے یہ بتا کر کہ علامہ طاہر القادری اتحاد میں شامل ہو رہے ہیں، اجلاس کے دفتر میں ہو گا، محترمہ راضی ہو گئیں، پھر ہم نے دیکھا کہ محترمہ بڑے ذوق سے منہاج القرآن آئیں ان ،نوابزادہ نصراللہ نے اطمینان سے بتایا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کی جماعت عوامی تحریک بھی شامل ہو گئی ہے، اب اتحاد کا نام تبدیل ہو گا اور اصول کے مطابق میزبان پہلے سربراہ ہوتے ہیں اس لئے علامہ طاہر القادری سربراہ ہوں گے۔ محترمہ بے نظیر بھٹو حیران رہ گئیں اور نوابزادہ نصراللہ کی طرف دیکھ کر کہا، نواب صاحب! آپ نے ہمیں بتایا ہی نہیں“ وہ حسب عادت مسکرا دیئے اور محترمہ نے جبراً قبول کر لیا، یہ الگ بات کہ حضرت علامہ طاہر القادری زیادہ دیر تک ساتھ نہ چل سکے اور خود چھوڑ کر قیادت نوابزادہ نصراللہ کے حوالے کرکے بیرون ملک چلے گئے(یہ ان کی روایت ہے) تو صاحبو! اب دیکھنا ہے کہ مولانا فضل الرحمن کتنے پانی میں ہیں۔(ش س م)