کئی سال سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے مشن پر کام کرنے والے ماما قدیر بلوچ کون ہیں ؟ بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ

کوئٹہ (ویب ڈیسک) ریٹائرمنٹ کے بعد عموماً لوگ آرام کی زندگی کو ترجیح دیتے ہیں لیکن بلوچستان سے تعلق رکھنے والے 79 سالہ ماما قدیر بلوچ کو آرام کا موقع نہیں ملا بلکہ ان کے حصے میں پہلے سے کئی گنا زیادہ مشکل کام آگیا۔یہ مشکل کام ایک طویل بھوک ہڑتالی کیمپ قائم کرنے

نامور صحافی محمد کاظم بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اور اس میں علامتی بھوک ہڑتال پر بیٹھنے کا ہے۔یہ علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ بلوچستان سے لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے قائم کیا گیا جس کو دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہوگیا۔ماما قدیر بلوچ کا تعلق بلوچستان کی قلات ڈویژن سے ہے۔ وہ چھ جون 1940 کو سوراب کے علاقے میں پیدا ہوئے۔انھوں نے مڈل تک تعلیم سوراب سے حاصل کی، میٹرک خضدار شہر سے کرنے کے بعد انٹرمیڈیٹ کوئٹہ سے کیا۔وہ تعلیم کے دوران اور اس کے بعد قوم پرستی کی سیاست سے وابستہ رہے اور کالعدم نیشنل عوامی پارٹی (این اے پی) کی سرگرمیوں میں بھی حصہ لیتے رہے۔سنہ 1974 میں انھوں نے کیشیئر کے طور پر یونائیٹڈ بینک لمیٹڈ میں ملازمت اختیار کی اور 2009 میں گریڈ تھری کے افسر کے طور پر ریٹائر ہوئے۔ریٹائرمنٹ کے سال یعنی 2009 کو ماما قدیر کے بڑے بیٹے جلیل ریکی کوئٹہ سے لاپتہ ہوگئے۔ماما قدیر نے الزام عائد کیا کہ ان کے بیٹے کو سکیورٹی فورسز کے اہلکار اٹھا کر لے گئے جس کے بعد ان کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ماما قدیر نے بتایا کہ انھوں نے جلیل ریکی کو محنت سے پڑھایا۔ انھوں نے ڈبل ایم کیا تھا اور وہ یونائیٹڈ بینک میں افسر کے طور پر تین سال تک ملازم رہے۔ماما قدیر بتاتے ہیں کہ جلیل ریکی کو بڑھاپے میں ان کا سہارا بننا تھا لیکن ایسا نہیں ہوسکا کیونکہ جبری طور پر گمشدگی کے تین سال بعد ضلع کیچ سے ان کی تشدد زدہ لاش برآمد ہوئی۔’

جب لاش گھر پہنچی تو دیکھا کہ بیٹے کی پیشانی پر ایک اور سینے پر دو گولیاں ماری گئی تھیں اور جسم کے مختلف حصے تشدد کے نشانات سے پُر تھے۔‘بیٹے کی جبری گمشدگی کے ساتھ ہی 2009 سے ماما قدیر ان لوگوں کے ساتھ شامل ہوگئے جو کہ پہلے ہی سے اپنے لاپتہ رشتہ داروں کی جبری گمشدگی کے خلاف وقتاً فوقتاً احتجاج کرتے رہتے تھے۔ماما قدیر نے بتایا کہ اس عرصے میں سیاسی جماعتیں بھی گمشدگیوں کے حوالے سے احتجاج کررہی تھیں لیکن لاپتہ افراد کے لواحقین نے یہ سوچا کہ وہ خود کیوں نہ اس حوالے سے تنظیم بنائیں۔’لواحقین کا اجلاس ہوا جس کے بعد انھوں نے نصراللہ بلوچ کی سربراہی میں اس تنظیم کے لیے وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کا نام تجویز کیا جس کے پلیٹ فارم سے باقاعدہ طور پرعلامتی بھوک ہڑتال کا سلسلہ شروع کیا گیا۔’ماما قدیر بلوچ کو اس تنظیم کا وائس چیئرمین مقرر کیا گیا۔اگرچہ اس کیمپ میں تنظیم کے عہدیداروں کے علاوہ لواحقین بھی بھوک ہڑتال میں بیھٹتے رہے ہیں لیکن ماما قدیر2009 سے مستقل طور پر اس میں بیٹھ رہے ہیں۔ ماسوائے سنہ 2018 میں سردیوں کے موسم میں اس کیمپ کو کراچی منتقل کیا جاتا رہا۔جن لوگوں کے لاپتہ رشتہ داروں کی تشدد زدہ لاشیں برآمد ہوئیں یا ان کے پیارے بازیاب ہوئے تو ان میں سے زیادہ تر لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے احتجاجی کیمپ میں نظر نہیں آئے۔لیکن ماما قدیر نے بیٹے کی لاش کی برآمدگی کے بعد ایسا نہیں کیا بلکہ انھوں نے احتجاجی کیمپ کو اپنا اوڑھنا بچھونا ہی بنا دیا۔ان کا کہنا تھا کہ

بیٹے کی جبری گمشدگی کے باعث جو دکھ ان کا تھا وہی دکھ ان سب کا ہے جن کے پیارے لاپتہ ہیں، اس لیے بیٹے کی لاش کی برآمدگی کے بعد انھوں نے جدوجہد کو ترک نہیں کیا۔’ویسے بھی جب تنظیم بنائی گئی تھی تو سب نے حلف اٹھایا تھا کہ اگر کسی کا رشتہ دار بازیاب ہوا تو وہ جدوجہد ترک نہیں کرے گا بلکہ تمام لاپتہ افراد کی بازیابی تک احتجاج جاری رکھا جائے گا۔’طوالت کے لحاظ سے اس علامتی بھوک ہڑتالی کیمپ کا شمار جدید دنیا کی طویل ترین کیمپوں میں ہوتا ہے۔ماما قدیر نے بتایا کہ ان کا احتجاج پرامن تھا لیکن اس کے باوجود ان کے لیے مشکلات کھڑی کی گئیں۔انھوں نے کہا کہ انھیں مبینہ طور پر متعدد بار بالواسطہ اور بلاواسطہ کیمپ ختم کرنے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔ان کا کہنا تھا کہ تین مرتبہ کوئٹہ میں ان کے کیمپ کو نذرِ آتش کرنے کے علاوہ اس میں گندگی بھی پھینکی جاتی رہی۔ایک مرتبہ گھر کے قریب موٹر سائیکل سواروں نے ٹکر ماری جس سے وہ گر کر زخمی ہوگئے۔جس طرح لاپتہ افراد کے رشتہ داروں نے اپنے پیاروں کی بازیابی کے لیے طویل علامتی بھوک ہڑتالی کی، اسی طرح پیدل لانگ مارچ بھی کی گئی۔اس لانگ مارچ کا آغاز اکتوبر 2013 میں کوئٹہ سے کیا گیا۔ماما قدیر بلوچ کی قیادت میں لانگ مارچ کے شرکا پہلے پیدل کراچی پہنچے۔ کراچی میں چند روز قیام کے بعد اسلام آباد کے لیے مارچ شروع کیا گیا۔اس مارچ میں خواتین کے علاوہ ایک دس سالہ بچہ علی حیدر بلوچ بھی شامل تھا جنھوں نے اپنے والد محمد رمضان کی بازیابی کے لیے اس مارچ میں شرکت کی تھی۔ماما قدیر نے بتایا کہ کوئٹہ سے براستہ کراچی اسلام آباد تک ان کو لگ بھگ چار مہینے لگے تھے۔’لانگ مارچ کے دوران بھی مختلف علاقوں میں ڈرانے اور دھمکانے کی کوشش کی گئی لیکن ہم نے اس کے باوجود لانگ مارچ کو جاری رکھا۔’انھوں نے سنہ 2014 میں لاپتہ افراد کی بازیابی کے سلسلے میں امریکہ کا بھی دورہ کیا۔ماما قدیر بلوچ نے 2018 میں جنیوا کا دورہ بھی کیا اور جبری گمشدگیوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ذیلی اداروں کے اجلاسوں میں بھی شرکت کی۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی)