دلدل : عزاداری کے جلوس کی ایسی سواری جس پر صرف سادات ہی سوار ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ یوم عاشور پر بی بی سی کی ایک معلوماتی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) مخمل کا لباس، نقارے کی تھاپ، شہنائی کی گونج اور یاحسین یاحسین کی صدا پر قدم بہ قدم اپنا سفر طے کرتی سواری۔ اس سواری کو ’دُلدُل‘ کہا جاتا ہے جس کو صرف سادات ہی چلا سکتے ہیں۔برصغیر میں عزاداری کی تاریخ اور روایت صدیوں قدیم ہے، جس میں ماتمی جلوسوں

نامور صحافی ریاض سہیل بی بی سی کے لیے اپنی ایک رپورٹ میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کے ہمراہ شبیہہ ذوالجناح، تعزیے اور علم برآمد کیے جاتے ہیں تاہم سندھ کے سابق دارالحکومت حیدرآْباد میں دلدل برآمد کرنے کی روایت اس خطے میں کہیں اور نظر نہیں آتی ہے۔ حیدرآباد تالپور حکمرانوں کا دارالخلافہ تھا اور یہ اس وقت تک رہا جب تک چارلس نپیئر نے سندھ فتح کر کے اس کا دارالحکومت کراچی منتقل نہیں کر دیا۔ تالپور خاندان کی اکثریت شیعہ مسلک سے وابستہ تھی لہذا حیدرآباد، خیرپور اور روہڑی میں عزاداری نے سرکاری سرپرستی میں فروغ پایا۔ تحریری طور پر یہ معلومات اور ریکارڈ دستیاب نہیں جس سے معلوم ہو سکے کہ دُلدُل برآمد کرنے کی روایت کی شروعات کب اور کیسے ہوئیں۔ حیدرآباد ریڈیو سٹیشن کے سابق ڈائریکٹر، شاعر، ادیب، اور کالم نویس نصیر مرزا کا کہنا ہے کہ ذوالجناح کی شکل ایک اور براق کی شکل دوسری ہے۔ شعرا نے تیز رفتاری میں اس کی خصوصیات بیان کرنے کے لیے اسے بھی دُلدُل ہی کہہ دیا ہے جو دراصل براق ہے۔’براق پر پیغمبر اسلام معراج پر گئے تھے، دُلدُل کا ڈھانچہ دیکھیں تو اس پر محراب بنا ہوا ہے جو مسجد کے محراب کی عکاسی کرتا ہے، یعنی دُلدُل کا براق سے تعلق ہے اور براق کا رسول سے اور محراب کا مسجد سے۔‘دُلدُل کے سوار سید احسن رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ دُلدُل کا آغاز میر صاحبان کے دور حکومت سے ہوا تھا، حیدرآباد میں اس کی تاریخ کو تقریبا 200 سال ہو گئے ہیں۔

’ذوالجناح برآمد کرنے کا سلسلہ تقسیم ہند کے بعد پاکستان میں متعارف ہوا ہے۔ اس سے قبل حیدرآباد میں ایسی سواریاں جنھیں ہم دلدل کہتے ہیں وہ آٹھ سے دس محرم کے درمیان نکلا کرتی تھیں اور جہاں بھی عزاداری کے مرکز تھے وہاں ان کا ٹھکانہ تھا۔‘سید احسن رضا کاظمی کا کہنا ہے کہ سینہ بہ سینہ جو باتیں پہنچی ہیں وہ یہ ہیں کہ کربلا میں امام حسین کے پاس ذوالجناح تھا یعنی دو پروں والی سواری تھی تو لوگوں نے خیال تصور کیا کہ شاید امام کے پاس اس قسم کی سواری ہو تو انھوں نے اس قسم کی چیز بنائی اس کے بعد اس کو امام حسین کے نام کے ساتھ منسوب کیا اور نکالنا شروع کیا۔دُلدُل کا اندرونی ڈھانچہ لوہے کا بنا ہوا ہے جس کا وزن لگ بھگ 70 کلو گرام ہے اور اس کے اوپر گھاس کے تنکے ہیں جس کے ذریعے ڈھانچے کو باندھا گیا ہے۔عزاداری میں ذوالجناح کے جلوس تو ہر کوئی نکال سکتا ہے چاہے وہ سادات ہو یا غیر سادات لیکن دُلدُل کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کا جلوس صرف سادات ہی نکالتے ہیں۔ اگر کوئی غیر سادات نکالتا بھی ہے تو سواری صرف سادات ہی کرتے ہیں۔ حیدرآباد میں نو محرم کی صبح اور مغرب کے وقت خیر شاہ کا پڑ، ولایت شاہ کا پڑ اور شیدیوں کے پڑ سے یہ دُلدُل نکالی جاتی ہے۔یاد رہے کہ جس جگہ علم نصب ہو اور آس پاس آبادی ہو سندھی زبان میں اسے پڑ کہا جاتا ہے۔میر عطا محمد تالپور نے حیدرآباد کے عروج اور زوال پر

اپنے تحقیقی مقالے میں لکھا ہے کہ تالپور حکمرانوں نے جس جس شعبے سے لوگ تعلق رکھتے تھے انھیں ایک مخصوص علاقے میں آباد کیا، ان علاقے کو ان کے پروفیشن کے ساتھ منسوب کیا جیسے قصائیوں کا پڑ، نائیوں کا پڑ، بڑھیوں کا پڑ، وغیرہ وغیرہ۔اس کے اندر کپڑے کا ایک رسہ بندھا ہوا ہوتا ہے جس کو سوار اپنے کندھوں پر ڈال کر اٹھاتا ہے اور دونوں طرف ہاتھوں سے پکڑ کر توازن رکھتا ہے۔ دلدل کی اونچائی اور چوڑائی اس قدر ہوتی ہے کہ سوار کی نگاہ سامنے تک نہیں جا سکتی وہ صرف آسمان یا دائیں بائیں دیکھ سکتا ہے۔ دلدل کو فرنٹ سے اونچا کرکے سوار کو داخل کیا جاتا ہے، اس طرح واپس بھی نکالا جاتا ہے۔دُلدُل کی سواری کوئی عام سواری نہیں جس کی تربیت دستیاب ہو اس کی تیکنیک سینہ بہ سینہ منتقل ہوتی ہیں۔ سید احسن رضا کاظمی کو ان کے والد نے سواری کے طریقے کار اور قدموں کے بارے میں آگاہ کیا۔ احسن رضا کا کا کہنا ہے جب نقارے بجائے جاتے ہیں اس کا جو ردھم ہوتا ہے اس کے مطابق دُلدُل کو سواری دی جاتی ہے جو ڈھولک اور شہنائی ہے اس کو بھی ذہن میں رکھتے ہیں اور اس سے اپنا تسلسل قائم رکھتے ہیں۔دُلدُل کے ہمراہ مددگار یا رضاکار بھی ہوتے ہیں جو اس کو چاروں طرف سے اٹھا کر چلتے ہیں، وقفے کے وقت سوار کو ہتھ پنکھے سے ہوا دی جاتی ہے اور کندھوں کو دبایا جاتا ہے۔سید احسان رضا کاظمی کے مطابق جلوس نو گھنٹے یا دس گھنٹے سڑکوں پر رواں دواں رہتا ہے

جس میں سے وہ دو سے تین گھنٹے آرام جبکہ چھ سے سات گھنٹے سواری دیتے ہیں۔اس ماتمی جلوس میں ایک شہنائی نواز اور دو ڈھول نواز ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ جب یہ دلدل کسی پڑ میں پہنچتی ہے تو وہاں نوبت یا نقارہ بجایا جاتا ہے جبکہ شرکا سر پر ہاتھ مار کر ماتم کرتے ہیں ان میں سے بعض برہنہ پا ہوتے ہیں۔شرکا میں روایتی بریانی کے علاوہ چائے، شربت اور چوری کی نیاز تقسیم کی جاتی ہے۔حیدر آباد میں دُلدُل کی روایت سکڑ کر اب تین سے چار دلدلوں تک محدود ہو گئی ہے۔مخمل کا لباس ہر سال تبدیل کیا جاتا ہے جبکہ زیورات سے اس کا سنگھار کیا جاتا تھا جس کے لیے خواتین اپنے طلائی زیورات دیا کرتی تھیں۔ ماضی میں دُلدُل پر لگے زیوارات کی حفاظت کے لیے پولیس اہلکار جلوس کے ساتھ چلا کرتے تھے جو آج کل سیکیورٹی کے دیگر معاملات کے باعث تعینات ہوتے ہیں تاہم اب بعض دلدلوں کو جڑاؤ زیورات سے سجایا جاتا ہے۔دُلدُل کے سوار سادات پہلے پاؤں میں گھنگھرو پہنتے تھے لیکن اب نوجوان نسل نے اس روایت کو ترک کر دیا ہے صرف نتھو شاہ کے پڑ سے برآمد ہونے والی دلدل کے سوار گھنگھرو باندھتے ہیں۔حیدرآْباد میں پچاس فیصد سے زائد محرم کے جلوسوں کے روٹ پرمٹ سنیوں کے پاس ہیں، جس سے یہاں پر مذہبی رواداری کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے لیکن اب بعض مقامات پر ماحول میں تبدیلی دیکھی جا سکتی ہے چند سال قبل کھائی روڈ پر دُلدُل کے جلوس پر فائرنگ کی گئی تھی جس میں نصف درجن کے قریب افراد زخمی بھی ہوئے تھے۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی )