یہ بتاؤ کہ میری شادی ہو جائے گی پھر اس کے بعد کیا ہو گا ۔۔۔۔۔؟ مستنصر حسین تارڑ نے ایک امریکی اور میکسیکن شہری کا مقبول زمانہ لطیفہ کیوں بیان کر ڈالا ؟ آپ بھی پڑھیے

لاہور (ویب ڈیسک) ہم میکسیکو کے شہر کین کون میں ’’فائنسٹ پلایا مجیرس‘‘ ریزارٹ کی جنت ارضی کی قید میں تھے۔ ہماری جنت میں تو وعدہ ہے کہ ہم جس بھی پھل کی جانب ہاتھ بڑھائیں گے وہ خود بخود آپ کے ہاتھوں میں آ جائے گا۔ یہاں معاملہ قدرے مختلف تھا۔

نامور کالم نگار مستنصر حسین تارڑ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ آپ اگر شغف فرماتے ہیں تو آپ کا دل پسند مشروب اک اشارے سے آپ کے ہاتھ میں آ جائے گا نہ صرف کمرے میں مے خوری نہیں بلکہ مے خواری کے تمام اہتمام تھے کہ جتنی شراب یہاں تھی اسے نوش کرنے کے بعد بندہ خوار ہو جاتا تھا۔ پورے ریزارٹ میں تقریباً بیس عدد چھوٹے بڑے مے خانے تھے۔ ان سب میں خون دل کی کشید والے معاملے تھے۔ ان میں سب سے دلچسپ آبی شراب خانہ تھا جو ایک سوئمنگ پول کے عین درمیان میں قائم تھا۔ پانی میں سٹول دھرے تھے اور ساقی صاحب بھی تقریباً تیرتے پھرتے تھے۔ آپ جو کچھ طلب کرتے تھے اس کا جام آپ کی جانب تیرتا چلا آتا تھا۔ اس آبی مے خانے کے لئے بہت سے فوائد تھے یعنی اگر مشروب میں پانی کی مقدار کم ہے تو جام کو ایک ڈبکی دے لیجئے۔ عام طور پر مے خوار ٹن ہو کر کبھی نالوں میں گرتے ہیں اور کبھی فٹ پاتھ پر کریش ہو کر اپنا سر پھوڑتے ہیں۔ یہاں ایسا کوئی خدشہ نہیں اگر آپ مست ہو گئے ہیں۔ جھومنے لگے ہیں اور سٹول سے گر گئے ہیں تو سیدھے پانی میں لڑھک جائیں گے۔ سارا نشہ ہرن ہو جائے گا۔ آپ دوبارہ اپنے سٹول پر براجمان ہو کر عبدالمجید سالک کا یہ شعر پڑھ دیں گے کہ … ساتھیا مے پلا کہ رات ہوئی ختم تا ریکیٔ حیات ہوئی اور ہاں اگر آپ تیر نہیں سکتے تو

آپ ڈوب بھی سکتے ہیں کہ پانی چلو بھر سے قدرے زیادہ مقدارمیں ہے۔ آپ اس ریزارٹ یا تفریحی مقام میں قیام کے لئے جو ادائیگی کرتے ہیں اس میں قیام کے ساتھ سب طعام وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ ناشتے کا اہتمام ایک بہت بڑے ہال میں یوں ہے کہ دنیا بھر کے پھل اور سینکڑوں نوعیت کی ناشتہ خوراکیں سبھی ہیں اور لطف کسی ایک خوراک کا بھی نہ آیا۔ ازاں بعد دیگر دل پذیر خوراکوں سے اجتناب کیا۔ صرف ایک ٹوسٹ فرائی انڈے اور کافی پر اکتفا کیا تو لطف آ گیا۔ اور رات دوپہر کے کھانے کے لئے متعدد ریستوران آپ کی من پسند ڈشیں حاضر کرتے جاتے ہیں۔ ان میں لبنانی‘ چینی ‘ ویت نامی‘ میکلیگن ‘ یورپی اور فرانسیسی ریستوران شامل تھے۔ آپ خالی جیب اس ریزارٹ میں چلے آئیے اگر آپ نے ویٹرز وغیرہ کو ٹپ سے محروم رکھنا ہے تو آپ کو کہیں بھی کسی نوعیت کی ادائیگی کی حاجت نہیں ہو گی۔ تازہ پھلوں کے جوس کثرت سے مہیا کئے جاتے ہیں۔ ملک شیک اور آئس کریم پالروں میں بچوں کا ہجوم کہ جو جی میں آئے کھائیے اور چلے جائیے۔ اس ریزارٹ کا ماحول بین الاقوامی ہے البتہ بیشتر عملہ مقامی ہے یہ عملہ پہلے پہل ہم شکل لگا۔ چند روز بعد غور کیا تو پھر بھی ہم شکل ہی لگا۔ پستہ قامت، موٹے سے، آنکھیں سیاہ لیکن معمولی، ناک عجیب ہے۔ غرض کہ خوش شکلی سے جتنا اجتناب میں نے میکسیکو میں دیکھا دنیا کے کسی اور ملک میں نہ دیکھا۔ یہ سب میکسیکو کی مایا تہذیب کی نسل کا تسلسل ہیں کہ

مایا لوگوں کی قامت چار فٹ سے کم ہی بڑھتی تھی۔ البتہ ہسپانوی نسل والے لوگ خاصے خوش آثار ہیں۔ خاص طور پر خواتین قدرے نمکین اور پرکشش ہیں۔ ریزارٹ کے مقامی عملے کو سیاحوں کی آئو بھگت کرتے۔ بار بار اپنی زبان میں خوش آمدید کہتے، مجھے بار بار ایک اذیت ناک خیال آتا رہا۔ یہ لوگ جب یہاں خوراک کی فراوانی دیکھتے ہو ں گے ان کے آسائش بھرے کمرے اور ان کے ملبوسات دیکھتے ہوں گے ان کی تنخواہ شائد اتنی بھی نہ ہو کہ وہ واڈکا کی ایک بوتل یا اتنا پرتکلف ڈنر خرید لاتے ہوں، جانے کن عسرت زدہ گھروں سے نکل کر آتے ہیں۔ ان کے بچے آئس کریم کو ترستے ہوں تو ان پر کیا گزرتی ہو گی کیا وہ دل ہی دل میں یہاں قیام پذیر سیاحوں سے شدید نفرت کرتے ہوں گے، میں نے عینی کو اپنی ان الجھنوں میں شریک کیا تو وہ کہنے لگی۔ابو جب پہلی بار میں کین کون کے ایک لگژری ریزارٹ میں چھٹیاں بسر کرنے کے لئے آئی تھی تو مجھے بھی شرمندگی سی ہوتی تھی لیکن میں نے جب متعدد خواتین سے دوستی کر کے ان سے پوچھا کہ کیا آپ لوگ ہمیں اچھا نہیں سمجھتے؟ تو ان سب کا کہنا تھا کہ آپ لوگوں کی آمد سے ہی ہمارا معیار زندگی بہتر ہوا ہے۔ ہمیں مناسب تنخواہ کے علاوہ وہی خوراک ملتی ہے جو سیاحوں کے لئے میزوں پر ہوتی ہے۔ علاوہ ازیں ہمارے مردوں کو وہ سب بوتلیں مفت میں مل جاتی ہیں جن میں بچی کھچی شراب ہوتی ہے بلکہ کئی بار بند بوتلیں بھی ہمارے نصیب میں آ جاتی ہیں۔

اگر کین کون کے سمندروں کے کنارے یہ ریزارٹ تعمیر نہ ہوتے تو ہم لوگ مچھلیاں پکڑ کر ہی گزر اوقات کرتے۔ اگرچہ مجھے یہاں شراب کی کثرت اور مے خواروں کی نشاط سے کچھ غرض نہ تھی لیکن یہ کمبخت سب کے سب تو میرے پلے سے پی رہے تھے۔ یہ مجھے بہت برا لگا۔ اکثر جی چاہا کہ مے خانے کے سٹول پر براجمان کسی مخمور صاحب کو گھور کر کہوں کہ حضرت یہ جو آپ جام پہ جام لنڈھا ئے چلے جا رہے ہیں، اس کی قیمت میں نے ادا کی ہے یعنی مجھے تو ان دنوں توفیق نہیں لیکن ریزارٹ کے اخراجات میں اس شراب کا معاوضہ بھی شامل ہے، جومیں ادا کر چکا ہوں۔ کچھ تو شکر گزار ہو جائیے۔ میکسیکو جتنا بھی دیکھا لوگوں کو ذرا آہستہ رو اور پرسکون پایا۔ نہ آنے کی جلدی ہے نہ کہیں جانے کی پرواہے۔ آپ نے وہ زباں زدعام لطیفہ سن رکھا ہو گا کہ ایک میکسیکن ایک بڑے چھجے دار ہیٹ کی چھائوں میں سمندر میں مچھلی پکڑنے کی ڈور ڈالے بیٹھا استراحت فرما رہا تھا تو ایک امریکی سیاح نے پوچھا‘ ایک دن میں آپ کتنی مچھلیاں شکار کر لیتے ہو۔ اس نے کہا کہ چار پانچ پکڑ لیتا ہوں ایک کھا لیتا ہوں بقیہ بازار میں فروخت کر دیتا ہوں تو امریکی کہنے لگا کہ دیکھو اگر تم ایک کی بجائے چار پانچ ڈوریں سمندر میں ڈال دو تو بیس پچیس مچھلیاں شکارکر لو۔ کیا خیال ہے؟ میکسیکن بے حد خوش ہو کر بولا‘ بات تو ٹھیک کہتے ہو۔ لیکن پھر کیا ہو گا؟ امریکی بولا‘ پھر تم ان مچھلیوں کو فروخت کرتے کرتے ایک دن ایک کشتی خرید کر سمندر کے اندر نکل جائو اوربے شمار مچھلیاں تمہارے ہاتھ آ جائیں گی۔ بلکہ اتنی مچھلیاں بیچنے کے بعد سال دو سال میں تم ایک فشنگ ٹرامز بھی حاصل کر سکتے ہو۔ مچھلیاں ہی مچھلیاں۔ یہاں تک کہ بالآخر تمہارے پاس فشنگ ٹرامزکی ایک فلیٹ ہو جائے گی۔ میکسیکن ذرا بیزارہوکر بولا تم درست کہتے ہو لیکن صرف یہ بتائو کہ بالآخر کیا ہو گا۔ امریکی سیاح نے فاتحانہ انداز میں کہا پھر تم امیر کبیر ہو جائو گے۔ پھر آرام سے بیٹھ کر زندگی سے لطف اندوز ہونا۔ میکسیکن مسکرایا اور کہنے لگا۔ تمہارا کیا خیال ہے میں اب کیا کر رہا ہوں؟‘‘ چنانچہ میں بھی اس میکسیکن کی مانند ان دنوں آرام سے بیٹھ کر زندگی سے لطف اندوز ہو رہا ہوں۔ بلکہ ایک ہسپانوی مقولہ ہے کہ کچھ نہ کرنے کے بعد اگر انسان ریلیکس کرے تو بے حد فرحت حاصل ہوتی ہے میں بھی کچھ نہیں کر رہا اور ریلیکس کر رہا ہوں۔(ش س م)