اینڈی فلاور جیسا یا جاوید میانداد جیسا۔۔۔۔۔؟ کس طرح کا کوچ بے حال پاکستانی کرکٹ ٹیم میں جان ڈال سکتا ہے ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

لاہور (ویب ڈیسک) آج سے چھ سال قبل 24 جون 2013 کا دن اب بھی مکی آرتھر کے ذہن میں نقش ہوگا۔ یہ وہ دن تھا جب آسٹریلوی کرکٹ ایک بے نظیر حادثے سے گزری۔انگلینڈ کے میدان میں ایشز کھیلنے پہنچنے والی آسٹریلوی ٹیم نے سیریز شروع ہونے سے دو ہفتے پہلے

نامور سیاسی مضمون نگار سمیع ابراہیم بی بی سی کے لیے اپنے ایک مضمون میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اچانک اپنے کوچ مکی آرتھر کو عہدے سے فارغ کر دیا۔خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس خبر کا خلاصہ ان الفاظ میں کیا، ’آسٹریلوی کرکٹ بورڈ نے ایشز شروع ہونے سے دو ہفتے پہلے کوچ مکی آرتھر کو ان کے عہدے سے برخاست کر دیا ہے۔ (یہ فیصلہ) متواتر برے نتائج اور بے شمار نظم و ضبط کے مسائل کے سبب ہوا ہے۔‘مکی آرتھر کی کوچنگ پروفائل میں سب سے بڑا کارنامہ جنوبی افریقہ کی کوچنگ کرنا تھا جو ان کی رہنمائی میں نمبر ون ٹیسٹ ٹیم بنی۔لیکن جب جنوبی افریقہ نے انھیں عہدے سے برخاست کیا، تب بھی کچھ ایسے ہی مسائل اور اس وقت کے کپتان گریم سمتھ سے اختلافات سر اٹھا رہے تھے۔مگر خبروں کا مسئلہ یہ ہے کہ یہ بہت جلد معلومات کے سیلاب میں دب جاتی ہیں۔ شاید یہی وجہ رہی ہو گی کہ جب آسٹریلیا نے اپنی قومی کرکٹ ٹیم کی کوچنگ کے لیے مکی آرتھر کو منتخب کیا تو کسی نے یہ سوچنے کی زحمت نہ کی کہ آخر جنوبی افریقہ نے انھیں عہدے سے ہٹایا ہی کیوں تھا۔جب پاکستان کرکٹ بورڈ نے سنہ 2016 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ کے بعد اپنی قومی ٹیم کی باگ ڈور مکی آرتھر کو تھمانے کا فیصلہ کیا، تب بھی شاید کسی نے یہ غور کرنے کی کوشش نہیں کی کہ آسٹریلیا اور جنوبی افریقہ کو اتنے شاندار کوچ کو ہٹانا ہی کیوں پڑا۔ اور نہیں تو شین واٹسن یا مچل سٹارک سے ہی

پوچھ لیا ہوتا۔لیکن شاید پی سی بی ’سنی سنائی‘ باتوں کی بجائے اپنے تجربے سے سیکھنا چاہتا تھا۔مکی آرتھر کا پی سی بی کے ساتھ تین سالہ دور بھرپور ’تجربہ‘ ثابت ہوا۔ جب انھوں نے یہ ذمہ داری سنبھالی تو اوائل ایام میں اکثر ہنستے مسکراتے دکھائی دیتے۔ میڈیا، جو کہ ہمیشہ ہی نووارد کوچز کا حامی رہتا ہے، بھی ان کی خوب تائید کرتا تھا۔چونکہ مکی نئے نئے تھے، سو کپتان اور ٹیم سے بھی خوب بنتی تھی۔ مصباح کی چھ سالہ محنت رنگ لا رہی تھی اور جولائی 2016 میں پاکستان انگلینڈ سے ٹیسٹ سیریز ڈرا کرنے کو تھا۔مہینے بعد پاکستان پہلی بار ٹیسٹ چیمپئین بھی بن گیا۔ مفت کا کریڈٹ مکی آرتھر کو بھی ملنے لگا۔مگر اس کے بعد مکی آرتھر کی کوچنگ کا وہ دور شروع ہوا جس میں وہ اکثر ڈریسنگ روم میں جھنجھلائے اور ناقابلِ ذکر الفاظ دہراتے دکھائی دیتے۔ٹیم جیت رہی ہو یا ہار کی طرف بڑھ رہی ہو، دونوں صورتوں میں مکی آرتھر ٹی وی کیمروں کے ممنون رہتے جو ان کے ’ٹیلی جینک‘ تاثرات خوب مہارت اور ٹائمنگ سے نشر کرتے۔اس مہارت میں مکی آرتھر کا اپنا بھی بہت کردار تھا۔ پی ایس ایل کے ایک میچ کے دوران ’سٹریٹیجک ٹائم آوٹ‘ کی ٹیم میٹنگ میں وہ کراچی کنگز کے پلیئرز پر برس رہے تھے کہ اچانک انھیں سکرین پر اپنا چہرہ ’کلوز شاٹ‘ میں نظر آیا اور پھر سہیل خان کی شامت آ گئی۔اس وقت سے سہیل خان قومی ٹیم کا حصہ بھی نہیں بن پائے۔اعداد و شمار تو صرف یہی بتا سکتے ہیں کہ مکی آرتھر کی رہنمائی میں پاکستان کرکٹ ٹیم کتنے ٹیسٹ ہاری یا کتنے ون ڈے جیتی، مگر ڈریسنگ روم کے کلچر پر جو اثرات انھوں نے چھوڑے ہیں، ان کی روشنی میں یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ اس خبر پر پلیئرز کے کیا تاثرات ہوں گے۔بہرحال مکی اس معاملے میں خاصے خوش قسمت کوچ ہیں کہ جنوبی افریقہ سے لے کر پاکستان تک، کسی بھی کوچنگ ٹرم میں، کہیں بھی انھیں اپنا کرکٹنگ تجربہ اور علم بانٹنے کی ضرورت پیش نہیں آئی اور ٹیمیں پلیئرز کی انفرادی کاوشوں سے ہی جیتتی رہیں۔المیہ بھی یہی رہا کہ تینوں ٹیموں میں جب پلیئرز کی انفرادی کاوشیں ماند پڑنے لگیں تو ڈریسنگ روم میں اختلافات، گالم گلوچ اور نظم و ضبط کے مسائل اٹھنے لگے اور بالآخر بات مکی آرتھر کو نکالے جانے پر ہی منتج ہوئی۔پاکستان کے معاملے میں البتہ مکی خوش قسمت رہے کہ یہاں انھیں برخاست نہیں کیا گیا بلکہ کنٹریکٹ میں توسیع سے معذرت کر لی گئی۔ شاید دونوں فریقین اپنے اپنے حصے کے سبق سیکھ چکے ہوں گے۔اب اگلا فیصلہ پی سی بی کو کرنا ہے کہ اسے جاوید میانداد اور مکی آرتھر جیسا ٹی وی کیمروں والا کوچ لانا ہے یا باب وولمر اور اینڈی فلاور جیسا مکمل کوچ لانا ہے۔(ش س م) (بشکریہ : بی بی سی )