کشمیر اور کشمیریوں سے بیوفائی کب کب اور کس کس نے کی ؟ ایک پول کھول دینے والی تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) سرینگر میں منگل کے روز ایک اکاسی سالہ بوڑھا میڈیا کے سامنے بلک بلک کر رو رہا تھا اور دہائی دیتا تھا کہ اسے بھارتی حکومت گھر سے نکلنے نہیں دے رہی۔ یہ بوڑھا اسی سرینگر میں شیر کشمیر کا لقب اختیار کرنے والے شیخ عبداللہ کا بیٹا فاروق عبداللہ ہے

نامور کالم نگار عمران یعقوب خان اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔فاروق عبداللہ جب سرینگر میں میڈیا کیمروں کے سامنے رو رہا تھا اس وقت نئی دلی کے سب سے طاقتور ایوان میں بیٹھا بھارت کا وزیر داخلہ امیت شا مکارانہ مسکراہٹ کے ساتھ ارکان لوک سبھا کو بتا رہا تھا کہ فاروق عبداللہ کو کسی نے گھر سے نکلنے سے نہیں روکا اگر وہ خود باہر نکلنے کو تیار نہیں تو کیا اس کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اسے یہاں لایا جائے؟ یہ مکافات عمل ہے، اس اکاسی سالہ فاروق عبداللہ کے باپ شیخ عبداللہ کواگست 1953ء میں اسکے سرپرست جواہر لال نہرو نے کشمیر کی وزارت عظمیٰ سے ہٹا کر جیل میں ڈال دیا تھا اور اس پر غیرملکی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کا مقدمہ بنایا گیا تھا۔یہی شیخ عبداللہ تھا جس نے سرینگر پر قبضے کے لیے نہرو کو اکسایا ، اس کا ساتھ دیا اور بدلے میں وزارت عظمیٰ پائی تھی۔شیخ عبداللہ کا وزارت عظمیٰ تک پہنچنے کا سفر بھی مکاری اور دھوکہ دہی سے عبارت تھا۔ انیس سو سینتالیس میں تقسیم برصغیر کے وقت کشمیر کے راجہ ہری سنگھ کا وزیراعظم مہر چند مہاجن تھا۔ مہر چند مہاجن کو مئی انیس سو سینتالیس میں سردار پٹیل کی درخواست پر راجہ ہری سنگھ نے وزیراعظم مقرر کیا تھا۔ مہر چند مہاجن کی سوانح عمری میں کشمیر کے الحاق کے ڈرامے کے واقعات ملتے ہیں۔ سرینگر پر بھارتی فوج کی چڑھائی کے وقت مہر چند مہاجن دہلی میں موجود تھا۔ بھارتی فورسز کی سرینگر پر چڑھائی کی

خبر پا کر مقابلے کے لیے پاکستان کے قبائلی عوام اور مجاہدین نکلے۔ اس صورت حال سے گھبرا کر راجہ ہری سنگھ نے نائب وزیراعظم رام لال بٹرا کو نہرو کے پاس بھیجا۔ چھبیس اگست کو جب رام لال بٹرا نہرو کے پاس پہنچا تو شیخ عبداللہ پہلے ہی نہرو کے گھر پر موجود تھا۔مہر چند مہاجن اور رام لال بٹرا نے نہرو کو راجہ ہری سنگھ کا پیغام دیا کہ شیخ عبداللہ کو جو بھی اختیار کشمیر میں دینا چاہتے ہو دو لیکن شام سے پہلے فوج سرینگر پہنچنی چاہئے ورنہ میں محمد علی جناح کے ساتھ معاملہ طے کر لوں گا۔ محمد علی جناح سے رابطے کی بات سن کر نہرو غصے میں آ گیا اور مہر چند مہاجن کو کمرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔ مہر چند مہاجن کانگریس کا رکن اور ریڈکلف ایوارڈ میں کانگریس کا نمائندہ رہ چکا تھا۔ سردار پٹیل نے کمرے سے نکلتے مہاجن کے کان میں کہا ‘ تم جناح کے پاس کسی صورت نہیں جاؤ گے۔ شیخ عبداللہ کمرے میں موجود نہیں تھا لیکن گفتگو سن رہا تھا۔ اس نے لمحے کی نزاکت کو بھانپ لیا۔ اس نے نہرو کو ایک چٹ بھجوائی جسے پڑھ کر نہرو کا رویہ بدل گیا اور نہرو نے کہا کہ مہاجن جو کہہ رہا ہے وہی بات شیخ عبداللہ کہہ رہا ہے۔شیخ عبداللہ کی دھمکی کام کر گئی اور اگلے ہی دن نہرو نے فوج کے ساتھ شیخ عبداللہ کو کشمیر بھجوا کر تمام انتظامی امور سونپ دیئے اور بعد میں شیخ عبداللہ مقبوضہ جموں و کشمیر کا پہلا وزیراعظم بنا۔

کشمیر کی وزارت عظمیٰ سنبھالنے کے بعد شیخ عبداللہ ایک آزاد ریاست کا حامی بن گیا۔ جس پر نہرو نے اسے جیل بھجوایا لیکن شاستری کے کہنے پر رہا کرکے دوبارہ کشمیر میں کردار سونپ دیا۔ شیخ عبداللہ پر غیرملکی طاقتوں کے ساتھ ساز باز کا الزام لگا بظاہر یہ طاقت پاکستان تھی لیکن شیخ عبداللہ دراصل امریکا کی مدد حاصل کرنے کی تگ و دو میں تھا۔ امریکا کی ڈی کلاسیفائیڈ دستاویز میں اس کا اعتراف موجود ہے۔شیخ عبداللہ آزاد ریاست کے بدلے میں امریکا کو فوجی اڈے کی پیشکش کر رہا تھا۔ شیخ عبداللہ جیل سے رہائی کے بعد بھارت نواز سیاست دان کا کردار تو ادا کرتا رہا لیکن اسے پچھتاوا رہا کہ بھارت کے ساتھ الحاق ایک غلطی تھی۔ اب اس کا بیٹا فاروق عبداللہ کئی برسوں کے اقتدار کے بعد پچھتا رہا ہے۔ دھوکے کی دہائی دیتا ہے۔ کشمیر کو ان حالات تک ایسے ہی کرداروں نے پہنچایا۔ نہرو جو کشمیر کی محبت کا دعویدار تھا آج اسے بھی بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں آن ریکارڈ گالیوں سے نواز رہی ہے۔ کشمیر کے ساتھ دھوکہ سرحد کے اس طرف رہنے والوں نے بھی کیا۔ زیادہ پرانی بات نہیں چند برس پہلے یہاں پورے طمطراق سے حکمرانی کرنے والے پرویز مشرف نے کشمیر کے سات حصوں اور مذہبی و لسانی بنیادوں پر تقسیم کی بات کی تھی۔ اس فارمولے پر کامیابی کے قریب تر پہنچنے کے ڈھول پیٹے گئے۔ یہ ڈھول پیٹنے والے اب بھی کسی نہ کسی شکل میں ایوانوں میں موجود ہیں۔ مودی حکومت کی طرف سے کشمیر کو ہڑپ کر لینے کی تازہ کوشش پر پاکستان کی قیادت اب تک بیانات تک محدود ہے۔ حکمران وائٹ ہاؤس کا دروازہ اب تک کیوں نہیں کھٹکھٹا پائے۔ اب تک ماسکو سے کوئی مدد کیوں نہیں لے پائے۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بھارتی اقدامات پر ڈھنگ کی قرارداد تیار نہ کر نے والے کشمیر کی کیا مدد کر پائیں گے جو اس نازک موقع پر بھی ایک دوسرے کو غیرسنجیدگی کے طعنے دینے سے باز نہ آئے۔اب تک سفارتی سطح پر او سی آئی سی رابطہ کمیٹی کے اجلاس اور ملائشین وزیراعظم کو فون کے سوا کوئی سرگرمی نظر نہیں آئی۔ او آئی سی وزرا خارجہ کا ہنگامی اجلاس اب تک طلب نہیں کیا جا سکا۔دوسری طرف بھارت آرٹیکل 370 کے خاتمے کے اعلان کے فوری بعد اسی دن P-5ملکوں کے سفیروں کو بلا کر موقف پیش کر چکا۔ پی فائیو میں امریکا، فرانس، روس برطانیہ کے علاوہ سدا بہار دوست چین بھی شامل ہے۔ اسی بریفنگ کے نتیجے میں امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ بھارت اسکو اندرونی معاملہ قرار دیتا ہے ، پاکستان اور بھارت سرحدی کشیدگی سے باز رہیں۔ بحیثیت قوم ہمیں یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ کشمیر کاز سے دھوکے کرنے والوں کی فہرست میں ہمارا نام نہ آنے پائے۔تاریخ بہت بے رحم ہے اور وہ کسی کو شک کا فائدہ بھی نہیں دیتی۔(ش س م)