کشمیر کی اصل کہانی ۔۔۔۔۔ نامور کالم نگار رؤف کلاسرا کی زبانی

لاہور (ویب ڈیسک) نہرو نے سوچا بھی نہ تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اس طرح کا منصوبہ بنا کر بیٹھا ہے جس کے مطابق وہ ہندوستان میں دو نہیں بلکہ درجن بھر آزاد ملک چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔ اس پلان کے تحت لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کیا ہوا کہ پاکستان کے علاوہ بنگال بھی

نامور کالم نگار رؤف کلاسرا پنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آزاد ملک بنے گا۔ نہرو یہ سوچ کر ہی کانپ گیا کہ وہ بھارت جس کی آزادی کے لیے سب لڑتے رہے تھے اس کا اہم علاقہ ایک آزاد ملک بنے گا؟ بنگال‘ جو ہندوستان کا دل تھا‘ ہمیشہ کے لیے اس کے سینے میں ایک آزاد ملک بن کر پیوست رہے گا۔ بنگال کوکھونا وہ کیسے افورڈ کر سکتے تھے؟ کلکتہ ایک تاریخی ساحلی شہر اور اس کے کارخانے، ملیں، سٹیل ورکرز سب کچھ ہندوستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر کشمیر، جہاں وہ پیدا ہوا تھا وہ اب آزاد ریاست کے طور پر ہندوستان کے ایک کونے میں جنم لے گا اور اس پر ہری سنگھ جیسا راجہ راج کرے گا جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کے پلان میں یہ بھی شامل تھا کہ ہندوستان کے دل میں حیدر آباد دکن کی شکل میں ایک آزاد مسلمان ریاست بنائی جائے گی۔ ان کے علاوہ اس پلان میں چند اور بھی شاہی ریاستیں شامل تھیں جنہیں لارڈ مائونٹ بیٹن پلان کے تحت آزادی ملنا تھی۔نہرو کو سمجھ آ رہی تھی کہ انگریز جان بوجھ کر ہندوستان کو درجنوں نئے ملکوں میں بانٹ رہے تھے تاکہ وہ کبھی ایک طاقتور ملک کے طور پر نہ ابھر سکے‘ ہمیشہ یہ چھوٹے موٹے ملک آپس میں لڑتے رہیں اور کمزور رہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان کو تین سو سال تک ”تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر چلایا تھا‘ اور اب ہندوستان کو چھوڑنے سے پہلے کمزور کرکے جارہے تھے۔ اب انگریزوں کا نیا منصوبہ تھا ”بانٹو اور چھوڑ دو‘‘۔

نہرو نے اپنے ہاتھ میں مائونٹ بیٹن کا دیا ہوا مسودہ پکڑا اور اپنے قریبی معتمد خاص کرشنا مینن کے بیڈ روم میں گیا‘ جو اس کے ساتھ شملہ گیا ہوا تھا۔ انتہائی غصے کی حالت میں نہرو نے وہ مسودہ اس کے بستر پر پھینکا اور بولا ”سب کچھ ختم ہو چکا ہے‘‘۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو اپنے دوست نہرو کے اس سخت ردعمل کا اندازہ اگلی صبح ہوا جب اسے ایک خط ملا جو نہرو نے اسے لکھا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کو یوں لگا جیسے اس پر کسی نے بم دے مارا ہو۔ وہ یہ توقع رکھے پوری رات سکون سے سوتا رہا تھا کہ اس نے نہرو کو جو پلان پڑھنے کو دیا تھا وہ نہرو کو پسند آئے گا اور نہرو جا کر کانگریس کو بھی اس پلان پر قائل کر لے گا اور یوں وہ یعنی لارڈ مائونٹ بیٹن‘ جسے لندن سے خصوصاً بھیجا گیا تھا کہ اس نے انیس سو اڑتالیس تک ہندوستان کو آزاد کرنے کا پلان منظور کرنا ہے‘ وہ کام جلدی نمٹا لے گا اور دوبارہ سمندری پانیوں میں لوٹ جائے گا۔ وہ کام جو اسے بہت پسند تھا۔ جب مائونٹ بیٹن نے وہ خط پڑھنا شروع کیا تو اسے یوں لگا کہ اس نے پچھلے چھ ہفتوں میں اپنے تئیں بڑی محنت اور عرق ریزی سے جو پلان تیار کیا تھا اور ایک ڈھانچہ بنایا تھا‘ نہرو نے ایک ہی ہلے میں اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اسے اپنی ساری محنت اکارت جاتی نظر آئی۔

نہرو نے انتہائی سخت الفاظ میں اس سارے پلان کو مسترد کر دیا تھا۔ نہرو نے لکھا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے اس پلان نے نہ صرف اسے خوفزدہ کر دیا بلکہ اسے یقین ہے کہ اگر وہ کانگریس کے ساتھ یہ شیئر کرے تو وہ اس پلان کو اس سے بھی زیادہ برے طریقے سے مسترد کر دے گی۔ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو کا وہ خط ختم کیا تو اسے لگا کہ اس نے اب تک جو خود کو اور پوری دنیا کو یہ یقین دلایا ہوا تھا کہ اس کے پاس ہندوستان کی آزادی کا پلان ہے اور اگلے دس دنوں میں وہ سب کو اس پلان پر راضی کر لے گا، وہ سب غلط فہمی تھی۔ نہرو کے سنگین اعتراضات کے بعد مائونٹ بیٹن کو یوں لگا کہ جس پلان کو وہ دنیا کے سامنے لانا چاہتا تھا‘ اس کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مائونٹ بیٹن یہ پلان برطانوی وزیراعظم ایٹلی کو بھیج چکا تھا‘ پوری کابینہ اس پلان پر اپنے اجلاس میں بحث کررہی تھی اور اس بارے میں مائونٹ بیٹن وزیراعظم کو بتا چکا تھا کہ وہ ہندوستانیوں کو اس پر راضی کر لے گا۔ اب اسے پتہ چلا کہ پورے ہندوستان کو چھوڑیں وہ تو محض کانگریس کو اس پلان پر راضی نہیں کرسکا تھا۔ تو کیا لارڈ مائونٹ بیٹن کو خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کا پلان بنایا، اسے لندن بھیج دیا اور نہرو کو کل رات اس کی کاپی دے کر رات کو سکون سے سو گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟

اس کا خیال تھا کہ وہ جس کام کے لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا وہ مشن پورا ہو جائے گا اور وہ دوبارہ اپنی پرانی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔ وہ اب تاریخ میں وائسرائے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے جنگ عظیم دوم کے بعد مسائل میں پھنسے برطانیہ کو ہندوستان سے بڑے آرام اور عزت کے ساتھ نکال لیا تھا؟ اس کا نام تاریخ میں عزت سے لکھا جائے گا؟ تو کیا خود پر زیادہ اعتماد لارڈ مائونٹ بیٹن کو لے ڈوبا تھا؟ لیکن لارڈ مائونٹ بیٹن ایک عام انسان نہ تھا جو نہرو کے اس سخت خط کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا اور کسی کیفے یا بار میں بیٹھ کر کڑھتا رہتا کہ اس کا چھ ہفتے کی محنت سے بنایا ہوا پلان مسترد ہو گیا ہے اور وہ اب برطانوی حکومت اور دنیا بھر کو کیا منہ دکھائے گا کیونکہ اس نے دس دن بعد یہی پلان سامنے لانا تھا جو مسترد ہو چکا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے سب سے پہلے خود کو مبارک باد دی کہ ایک دفعہ پھر اس کا وجدان درست نکلا تھا۔ اس نے سوچا‘ شکر ہے اس نے وہ مسودہ نہرو کو دے دیا کہ وہ پڑھ لے۔ اگر وہ یہ منصوبہ برطانوی حکومت سے منظوری کے بعد سامنے لاتا اور اس کو کانگریس مسترد کر دیتی تو یقینا اسے بہت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک نیا بحران پیدا ہو جاتا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے خود کو سنبھالا اور سوچنے لگ گیا کہ اب فوری طور پر اسے کیا کرنا چاہیے

تاکہ جو نقصان ہو چکا تھا اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ تسلی تھی کہ اس بم شیل کے باوجود اس کی نہرو سے دوستی بچ جائے گی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے فوراً ایک پیغام نہرو کو بھیجا کہ وہ فوری طور پر دلی واپس نہ جائے بلکہ ایک رات وہ مزید شملہ میں ٹھہر جائے۔ نہرو ایک رات مزید ٹھہرنے پر رضامند ہو گیا۔ طے ہوا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور نہرو اکٹھے بیٹھ کر اس پلان پر غور کریں گے اور نئے سرے سے پلان بنے گا اور ان خامیوں کو نکالا جائے گا جن پر نہرو کو اعتراض تھا۔ اس نئے پلان کے تحت ہندوستان کی تمام ریاستوں اور صوبوں کو ایک ہی آپشن دیا جائے گا۔ پاکستان یا ہندوستان۔ نہرو اور لارڈ مائونٹ بیٹن اس رات اکٹھے ہوئے۔ دونوں کے درمیان شملہ میں طے ہوا کہ بنگال آزاد نہیں ہوگا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے اس وقت کہہ دیا تھا کہ جناح کے پاس جو دو علاقے یا ریاستیں جا رہی ہیں وہ زیادہ دیر تک پاکستان میں نہیں رہ سکیں گی۔ کچھ عرصے بعد مائونٹ بیٹن نے اپنے دوست راج گوپال کو کہا تھا کہ مشرقی بنگال پچیس سال کے اندر اندر پاکستان سے الگ ہو جائے گا۔ انیس سو اکہتر کی جنگ نے مائونٹ بیٹن کی اس پیش گوئی کو درست ثابت کر دیا تھا۔ ایک دفعہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کر لیا وہ اب نہرو کے پلان پر چلے گا تو انہوں نے ایک ایسے افسر کو اپنی سٹڈی میں بلایا جو اس پلان کو بیٹھ کر لکھے۔ اس کی ایسی کہانی تھی جس نے لارڈ مائونٹ بیٹن تک کو متاثر کیا تھا۔ وی پی مینن کون تھا؟ اس کے پاس نہ آکسفورڈ یا کیمبرج کی ڈگری تھی نہ ہی وہ انڈین سول سروس کا افسر تھا اور نہ ہی وہ سیاسی خاندان سے تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن جیسا بندہ اس سے متاثر ہوتا؟ اہم سوال یہ تھا کہ وی پی مینن کون تھا جو نئے وائسرائے ہند کا اعتماد جیت کر اب اس کے ساتھ بیٹھ کر شملہ میں ہندوستان کی تقسیم کا نیا پلان لکھ رہا تھا؟ (ش س م)