عمران حکومت کی ایمنسٹی اسکیم شاندار ہے مگر یہ صرف اس صورت میں کامیاب ہو سکتی ہے اگر ۔۔۔۔۔ پاکستان کے نامور کالم نگار اور سابق بیوروکریٹ نے زبردست بات کہہ ڈالی

لاہور (ویب ڈیسک) یہاں ایک بار پھر واضح کر دیں کہ ایک بات سمجھنے کی ہے۔ روسی فوجیں پسپا ہوتے ہوئے راستے میں آئے ہوئے تمام شہرجلا گئی تھیں۔ خوراک کے ذخیرے ساتھ لے گئیں۔ پہلا شہر عبور کرتے ہی جرمن اور فرانسیسی فوجوں کو اندازہ ہو جانا چاہئے تھا کہ برفباری کی صورت میں واپسی پر کیا

نامور کالم نگار اور سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ اور کس قدرمشکلات پیش آ سکتی ہیں…(ن) لیگ نے بھی وہی حکمتِ عملی اختیار کی ہے۔ چونکہ انہیں شکست کا ادراک ہو گیا تھا اس لیے جاتے جاتے یہ مشکلات کا ایک پہاڑ کھڑا کر گئے ۔ قرضے اس قدر لیے کہ اصل رقم تو کجا اس کا سود دینا بھی مشکل پڑ رہا ہے۔ گردشی قرضے بارہ سو ارب روپے سے زیادہ کر گئے ہیں۔ اسی طرح گیس سیکٹر بھی دو سو ارب کا مقروض نکلا۔ نچلی سطح کی بیورو کریسی ان کی بھرتی کردہ ہے۔ پچیس سال کا عرصہ بڑا طویل ہوتا ہے۔ اوپروالے بھی ان کے انعام یافتہ ہیں۔ ان کی پالیسی STICK and CARROT کی تھی۔ افسروں کے لیے وافر مقدار میں گاجروں کا بندوبست کر رکھا تھا۔ آج تک کبھی سنا ہے کہ جس سرکاری ملازم کی تنخواہ پچاس ہزار ہے وہ کسی نہ کسی کمپنی سے منسلک ہو کر بیس لاکھ روپے تنخواہ لے رہا ہو۔ انہیں ہر قابل ذکر شخص کی نہ صرف ہسٹری بلکہ کیمسٹری بھی معلوم تھی …کون کتنے پانی میں ہے۔ کس کی ڈوریں کہاں سے ملتی ہیں۔ موقع کی مناسبت سے کونسی کل مروڑنی ہے۔ یہ بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر بانٹتے تھے۔ چونکہ کوئی ’’فری لنچ‘‘ نہیں ہوتا اس لیے نوکر شاہی سے حسب منشا کام کرواتے تھے۔ بہت کم لوگ ہیں جنہیں آنے والے کل کا ادراک ہوتا ہے خان صاحب اکثریت کو نہیں جانتے۔ انہیں محض نام جاننے میں پانچ سال لگ جائیں گے۔ ایسے لوگوں کی وفاداریاں اپنے سابق آقائوں سے رہیں گی یہ نیم دلی سے کام کریں گے۔

ادھر کی خبر ادھر پہنچائیں گے اور مناسب وقت کا انتظار کریں گے! سابقہ وزیر خزانہ ڈار صاحب کو طنزاً ڈالر ڈار کہا جاتا تھا۔ درحقیقت اتنا بڑا ڈرامہ باز کوئی وزیر خزانہ نہیں آیا۔ پہلے تو کسی کو انٹرویو دیتے نہیں تھے، بالفرض باامرِ مجبوری یا کسی کی مشہوری کے لیے ایسا کرنا پڑتا تو پہلے مکمل تسلی کر لیتے کہ اینکر نے کیا سوال پوچھنا ہے اور انہوں نے کس انداز میں جواب دینا ہے۔ سوال اگر گندم ہوتا تو یہ چنے کے علاوہ بھی تمام اجناس اس میں شامل کر دیتے ۔ گو بنیادی طور پر چارٹرڈ اکائونٹنٹ تھے لیکن اپنے آپ کو معاشیات کا ماہر سمجھتے۔ داتا دربار میں باقاعدہ حاضری دیتے۔ اکثر لوگوں کو حیرانی ہوتی کہ وہاں جا کر یہ مانگتے کیا ہیں۔ مبینہ طور پر وہ علیل ہیں اور لندن میں علاج کروا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں شفائے کاملہ عطا فرمائے۔ ان کا جاننشین گو اتنا دبنگ تو نہ تھا مگر گنوں کا پورا تھا مفتاح اسمٰعیل نے کسی طور پر ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دی ۔ آنے والے کل کو دیکھتے ہوئے اس نے ایک ایسا بجٹ دیا جس نے خان صاحب کی حکومت کے ہاتھ پائوں باندھ دئیے ۔ انکم ٹیکس کی چھوٹ کو چار لاکھ سے بارہ لاکھ پر لے گیا۔ اس قسم کی ہیرا پھیریوں سے خزانہ خالی ہو گیا۔ اس کا سب سے بڑا ’’کارنامہ‘‘ ایمنسٹی سکیم تھا۔ وہ ایک مخصوص طبقے کو آنے والے احتساب سے بچانے کے لیے ایک (SELECTIVE SCHEME) متعارف کرا گیا۔ اس کا فائدہ لیگیوں اور کراچی کی بزنس کمیونٹی کو ہوا۔ دیگران کو اس نے اس سے باہر رکھا۔ 2% رقم دیکر ہر قسم کی فکر سے آزاد ہو گئے۔ قانون کا اطلاق سب پر یکساں ہونا چاہئے۔ایسا نہ کیا گیا۔ موجودہ ایمنسٹی اسکیم کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ بے شمار لوگ سابق حکمرانوں کے ہتھکنڈوں یا موجودہ حکومت کے خوف سے فائدہ نہ اٹھاسکے۔ اس طرح کھربوںروپے ’’ٹیکس نیٹ‘‘ میں نہ آ سکے جو اب آئیں گے۔ خزانہ بھر جائے گا۔ وہ جنہوں نے پہلے فائدہ اٹھایا ہے ان سے بھی پوچھا جا سکتا ہے کہ انہوں نے پراپرٹی کی پوری مالیت ظاہر کی ہے یا نہیں۔ سابقہ حکومت نے وزیر خزانہ کے ایما پر یقیناً پردہ پوشی کی ہے۔ ان کے لیے بھی موقعہ ہو گا کہ وہ بقیہ رقم ادا کریں۔ اس وقت لوہا گرم ہے۔ لوگ ڈرے ہوئے ہیں۔ وہ دامے ۔ درمے ۔ قدمے ۔ سخنے اس کو لبیک کہیں گے اور خزانہ بھر دیں گے۔ (ش س م)