وہ پاکستانی خاتون جو پچھلے 2 سالوں سے اپنے گمشدہ سہاگ کی تلاش میں وزیراعظم ، آرمی چیف اور چیف جسٹس آف پاکستان سمیت ہر اہم شخصیت کے دروازے پر دستک دے چکی ہے مگر اسکی کہیں شنوائی نہ ہوئی ۔۔۔۔ ظلم و جبر کی ایک افسوسناک داستان

لاہور (ویب ڈیسک) سترہ دسمبر 2017کی تاریخ اور اتوار کا دن تھا، سردیوں کا خوبصورت موسم ہونے کے باوجود معاشی بدحالی نے آفاق احمد کو بالکل مایوس کردیا تھا۔ وہ گزشتہ دو سالوں سے کاروبار میں شدید مندی کے سبب انتہائی کسمپرسی میں زندگی گزار رہا تھا، کرائے کا مکان اور پانچ بچوں کی کفالت نے

نامور کالم نگار محمد عرفان صدیقی اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔معاشی طور پر دیوالیہ نکال دیا تھا۔ اُس روز بھی اہلیہ نے بچوں کے لئے گھر میں کھانے پینے کا سامان نہ ہونے کا شکوہ کیا تو وہ بحالتِ مجبوری گھر سے نکلا کہ جس شخص کو تین ماہ قبل گاڑی فروخت کی تھی اس نے رقم دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ’’بس ایک گھنٹے میں اس سے پیسے لیکر لوٹتا ہوں اور ساتھ ہی گھر کیلئے راشن اور کھانے پینے کا سامان بھی لیکر آتا ہوں‘‘۔ یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس نے اپنی اہلیہ سے کہے اور یہی وہ آخری دن تھا جس دن بچوں نے اپنے والد اور اہلیہ نے اپنے خاوند کا آخری دیدار کیا، صبح گیارہ بجے گھر سے نکلنے والا آفاق احمد جب رات آٹھ بجے تک گھر نہ لوٹا تو اہلیہ نے غصے میں اسے فون کیا کہ کہاں ہیں تو جواب ملا تم بچوں کو کھانا کھلا دو مجھے آنے میں مزید دو گھنٹے لگیں گے۔ اہلیہ نے غمزدہ آواز میں جواب دیا کیا کھلادوں گھر میں کچھ بھی نہیں ہے۔ آفاق احمد نے صرف یہی کہا کہ جو کچھ ہے کھلا دو مجھے آنے میں دیر ہورہی ہے، آفاق احمد کی اہلیہ نے جیسے تیسے کر کے بچوں کا پیٹ بھرا اور انہیں سلا دیا لیکن رات گئے جب خاوند گھر نہ پہنچا تو تشویش ہوئی پھر صبح ہو گئی اور خاوند گھر نہ آیا تو رشتہ داروں کو آگاہ کیا گیا۔ پولیس اسٹیشن، اسپتال، دوست احباب سب چھان مارے لیکن آفاق احمد کا کچھ نہ معلوم ہو سکا، جس دوست کو گاڑی فروخت کی تھی،

وہ پولیس اہلکار تھا۔ اہلیہ کے مطابق پولیس اہلکار جس کا نام سرور عرف ماموں تھا، نے کچھ مشکوک جوابات دیئے کیونکہ آفاق احمد کے فون ریکارڈ کے مطابق رات آٹھ بجے اہلیہ سے بات کرنے کے بعد انھوں نے اگلا فون سرور عرف ماموں کو ہی کیا تھا اور جب سرور سے معلومات لی گئیں تو اس نے کہا کہ میں نے آفاق کو رات نو بجے نیو کراچی کے مقام پر ایک لاکھ روپے دیکر رکشہ میں بٹھا کر گھر روانہ کردیا تھا جبکہ اہلیہ کا کہنا ہے کہ آفاق نے صرف پچاس ہزار روپے لینا تھا جبکہ سرور عرف ماموں کے مطابق نو بجے آفاق کو گھر روانہ کیا تھا اور فون ریکارڈ کے مطابق آفاق کا فون بھی اسی وقت سے بند آرہا تھا لیکن پولیس نے اپنے پیٹی بھائی سرور عرف ماموں سے اس حوالے سے کوئی تحقیقات نہ کیں جبکہ آفاق کی گمشدگی کے بعد سرور عرف ماموں نے آفاق احمد کو ڈھونڈنے میں کافی بھاگ دوڑ دکھائی، آفاق کی گمشدگی کا مقدمہ بھی زبردستی نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں درج کروایا جبکہ وہ آفاق احمد کا رہائشی علاقہ بھی نہ تھا۔ پھر تھوڑی بہت تلاش کے بعد مقدمے کی فائل بھی بند کروا دی گئی، آفاق احمد کی اہلیہ کے مطابق پولیس اہلکار نے کسی سلیم قریشی کا بھی ذکر کیا تھا کہ اس نے گاڑی آگے سلیم قریشی کو فروخت کردی تھی اور اسی سے ایک لاکھ روپے لیکر آفاق کو دلوائے تھے۔ بعد میں معلوم ہوا کہ سلیم قریشی خود بھی ڈرگ ڈیلر ہے۔ آج اس واقعے کو دوسال گزر گئے ہیں۔ آفاق احمد کی اہلیہ پچھلے دو

سالوں سے اپنے گمشدہ سہاگ کی تلاش میں در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہے، کبھی وہ صدرِ پاکستان کو خط بھیجتی ہے تو کبھی وزیراعظم عمران خان کو، کبھی آرمی چیف کو درخواست روانہ کر رہی ہے تو کبھی چیف جسٹس آف پاکستان کو لیکن اس کی سنوائی نہیں ہو رہی۔ خاص طور پر کراچی کی پولیس کا کردار انتہائی تکلیف دہ ہے جس نے غریب اور بے سہارا خاتون اور اس کے بچوں کے باپ کو تلاش کرنے کے لئے کچھ نہیں کیا۔ نہ جانے کس کے کہنے پر پولیس نے کیس کو بھی بند کردیا، نہ جانے آفاق احمد اس وقت کہاں اور کس حال میں ہوگا، اس کو کس کے حوالے کیا گیا، وہ زندہ بھی ہے یا نہیں، درجنوں سوال ہیں جن کے جوابات نہ ملنے کے باعث اس کی اہلیہ اور بچے روز جیتے ہیں اور روز مرتے ہیں۔ لیکن یاد رکھیے دنیا میں دو طرح کے لوگ ہیں ایک ظالم اور دوسر ے مظلوم، ظالم کے ساتھ شیطان کھڑا ہوتا ہے اور مظلوم کے ساتھ رحمان یعنی اللہ تعالیٰ، شاید کچھ دیر کے لئے ایسا محسوس ہو کہ ظالم کو کامیابی حاصل ہو رہی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ رحمان کے آگے شیطان کی کیا اوقات ہے لہٰذا جیت ہمیشہ مظلوم کی ہی ہوتی ہے، جس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات ہو وہ کیسے شکست کھا سکتا ہے۔ اس وقت بھی آفاق احمد کو غائب کروانے والے وقتی طور پر اسے اپنی کامیابی سمجھ رہے ہیں لیکن یاد رکھیے گا، مظلوموں، یتیموں، مسکینوں اور بیوائوں کی آہیں اور سسکیاں آپ کی دنیا اور آخرت کو برباد کرکے رکھ دیں گی۔ میری کراچی پولیس چیف ایڈیشنل آئی جی ڈاکٹر امیر شیخ سے بھی درخواست ہے کہ اس مظلوم خاندان کے ساتھ ہونے والی زیادتی کی داد رسی کریں اور ایف آئی آر نمبر NKIA363-2017 جو نیو کراچی انڈسٹریل ایریہ تھانہ میں کٹی تھی، اس کی دوبارہ تحقیقات کرا کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کریں۔(ش س م)