تشویشناک انکشاف : چناب نگر (ربوہ) کے ارد گرد کے علاقوں کی زمینیں دھڑا دھڑ کون خرید رہا ہے ؟ پاکستان کے خلاف کس سازش پر مسلسل عمل ہو رہا ہے ؟

لاہور (ویب ڈیسک) حالیہ چناب نگر (سابقہ ربوہ) جس جگہ آباد ہے اس جگہ کا پرانا نام“چک ڈھگیاں ”تھا، تقسیم ہند کے وقت اس وقت کا قادیانی خلیفہ جب اس“قادیان”سے سکھوں کے ڈر سے بھاگ کر پاکستان آگیا تھا۔ سر ظفر اللہ خان کی کوششوں سے اس جگہ قادیانی جماعت کے لئے بنیادی طور

نامور مضمون نگار ریاض احمد چوہدری اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔پر مبلغ بارہ ہزار روپے کے عوض 1034 ایکڑ زمین کی لیز مورخہ 11 جون 1948 کو پاس کی گئی۔اس وقت اس جگہ کا نام“ربوہ”رکھا گیا۔دنیا کے ہر کونے کھدرے سے قادیانیوں کو لاکر یہاں آباد کیا گیا اور کسی بھی مسلمان کے لیے یہاں زمین حاصل کرکے گھر بنانا ممنوع قرار دیا گیا۔ یوں یہاں ریاست کے اندر ایک ریاست بنائی گئی۔اس وقت چناب نگر شہر کا آباد رقبہ تقریباً 24 مربع کلومیٹر ہے۔اس کی لیز 2047ء میں ختم ہونے والی ہے اور قادیانی جانتے ہیں کہ مسلمانان پاکستان اس لیز کی تجدید کبھی نہیں ہونے دیں گے۔ اس لئے قادیانیوں نے اس خطرے کو بھانپتے ہوئے چناب نگر سے سرگودھا کی طرف کی زمینیں منہ مانگی قیمت پر خریدنی شروع کردی ہیں کہ اگر چناب نگر کی زمین کی لیز منسوخ ہو تو ہمارے پاس اپنی ذاتی ملکیتی زمین اس کے متبادل کے طور پر موجود ہو۔اس مقصد کے لئے سب سے پہلے چناب نگر کے ساتھ“احمد نگر ”نام کی ایک بستی پہلے ہی بسائی جاچکی ہے۔ وہاں سے آگے بھی چار پانچ گنا زیادہ قیمت پر دھڑا دھڑ زمینیں خریدی جا رہی ہیں اور ہم مسلمان ہی پیسوں کے لالچ میں قادیانیوں کو اپنی زمینیں فروخت کر رہے ہیں۔ ہمیں مملکت خدا داد پاکستان میں ایک اور اسرائیل بننے سے روکنا ہوگا۔ اس کے لئے لوگوں کو بتانا ہوگا کہ تھوڑے سے دنیاوی فائدے کے لئے اپنی آخرت کو برباد نہ کریں۔ اپنی زمینیں انہیں نہ بیچیں۔ اسرائیل کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہودی فلسطین کے چھوٹے سے رقبے پر قدم جمانے کے بعد آج فلسطین کے بڑے حصے پر قابض ہو چکے ہیں اور جب چاہتے ہیں وہاں کے بقیہ مسلمانوں کا قتل عام کر دیتے ہیں۔ فلسطینیوں کی نسل کشی کے پیچھے ان کا مقصد یہ ہے کہ وہاں کہ تمام مسلمان ختم ہوجائیں اور ساری زمین یہودیوں کو مل جائے۔ایسا لگتا ہے کہ یہودیوں کی شہ پر ہی قادیانی ان کا فارمولا پاکستان میں اپنانا چاہتے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ پاکستان کو باہر سے حملہ کر کے نہیں توڑا جا سکتا، لیکن اندر کے غدار اسے نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ یہی ہاتھ 1971ء میں ہمارے ساتھ مشرقی پاکستان میں ہو چکا ہے۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کہ مغلیہ دور سے لے کر اب تک مسلمانوں کو جب بھی شکست ہوئی تو ان کے اندر چھپے غداروں کی وجہ سے ہوئی۔(ش س م)