ڈالر کو ایک سازش کے تحت مہنگا کیا گیا ، مگر اب ڈالر اور روپے کی جنگ میں کیا ہونیوالا ہے اور عمران خان کی تبدیلی کا مستقبل کیا ہے ؟ نامور پاکستانی ماہر علم نجوم کی پیشگوئی

لاہور (ویب ڈیسک) نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان میں بھارتی جنتا پارٹی فیصلہ کن اکثریت سے انتخابات جیتی اورمودی نے وزیراعظم کا حلف اٹھا لیا۔تقریب حلف برداری میں سارک سربراہان کو دعوت دی گئی مگر وزیراعظم عمران خان کو نہیں بلایا گیا جو مودی کی پاکستان سے تعصب کی غمازی ہے۔

نامور کالم نگار اور ماہر علم نجوم محمد یاسین وٹو اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بی جے پی نے تن تنہا دوتہائی سے زیادہ اکثریت حاصل کی جس سے مودی کا دماغ خراب ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔وہ سیکولر بھارت کو شدت پسند ہندو ریاست میں بدل سکتے ہیں،مقبوضہ کشمیر میں مظالم کا سلسلہ تیز ہوسکتا ہے اور مودی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کرنے کے مزیداقدامات اُٹھا سکتے ہیں۔ہم نے اپنے ایک گزشتہ کالم میں علم الاعداد کی روشنی میں پیش گوئی کی تھی کہ نریندر مودی ان انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرینگے، انتخابات جیتنے کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں نمایاں پیشرفت ہوگی ۔ ہماری پیشگوئی کا ایک حصہ بالکل درست ثابت ہو چکا ہے، پاکستان اور بھارت کے مابین تعلقات میں بہتری کے بھی قوی امکانات ہیں۔مودی نے یہ انتخابات پاکستان دشمنی کی بنا پر جیتے اس میں کوئی شک نہیں۔ یہ انکا پاکستان اور مسلمانوں سے شدید نفرت کا اظہار ہے۔یہ سب انہوں نے انتخابات جیتنے کیلئے کیا یا دل سے بھی وہ یہی چاہتے ہیں،یہ الگ بحث ہے۔ تاہم دیکھنا یہ ہے کے زمینی حقیقت کیا ہے،کیا مودی اگلے پانچ سال پاکستان کے ساتھ مستقل دشمنی کی فضا برقراراور 20 کروڑ کی بہت بڑی اقلیت کو انتقامی نشانے پر رکھ کر سکون سے حکومت کرتے ہوئے اپنے معاشی اور سماجی پروگرام کو آگے بڑھا سکیں گے۔ایسا ہرگز ممکن نہیں ہو سکے گا۔ مسلمانوں سے نفرت اور پاکستان کے ساتھ دشمنی کا اظہار نریندر مودی کا الیکشن سٹنٹ تھا،ایسے ڈرامے انتخابی نتائج کے ساتھ ہی دفن ہو جاتے ہیں۔

مودی کو جو فیصلہ کن اکثریت ملی وہ ایک طاقتور وزیراعظم اور بڑے بڑے فیصلے کرنے کی پوزیشن میں بھی ہونگے۔ ملک کی پسماندگی ،درماندگی ،بے روزگاری ،مہنگائی، لاقانونیت اور آزادی کی چلنے والی بہت سی تحریکیں یہ سب مودی کے سامنے یقینابڑے بڑے مسائل ہیں۔انہوں نے پاکستان کے ساتھ دشمنی کو انتہا تک پہنچا کے دیکھ لیا ۔ اس سے بھارت رسوا ہوا، اب اگروہ اس تلخ تجربے کو دوبارہ دہرائیں گے تو نتیجہ اس سے بھی بھیانک نکلے گا ۔اس کا یقینا مودی ، اسکی فوج اور اسکے ساتھیوں کو ادراک ہے۔ان کو جس طرح فیصلہ کن اکثریت ملی ہے وہ خطے میں امن اور پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کی پوزیشن میں آ گئے ہیں۔ روایتی یا غیر روایتی انداز میں مسئلہ کشمیر دونوں طرف کی دلیر اورجرأت مند قیادت ہی حل کر سکتی ہے۔پاکستان میں عمران خان کی موجودگی میں ایسی قیادت موجود ہے جس میں اداروں کو خصوصی طور پہ پاک فوج کا اعتماد اور ساتھ حاصل ہے۔دوسری طرف نریندر مودی بھی اس پوزیشن میں ہیں اور دونوں لیڈروں کو کسی حد تک سرپھرا بھی کہا جا سکتا ہے ، مسئلہ کشمیر ایسی ہی قیادت حل کر سکتی ہے۔عمران خان کی قیادت میں پاکستان مشکلات مسائل اور آلام سے بتدریج نکلتا جا رہا ہے ۔ڈالر کو ایک سازش کے تحت کہاں سے کہاں پہنچا دیا گیا۔اسکی سازشی اڑان اب نیچے کی طرف آنا شروع ہو گئی ہے ڈالرپانچ روپے سستاہوا ہے۔ سعودی عرب کی طرف سے سے پاکستان کو ادھار یا ڈیفر پے منٹ پر تیل کی فراہمی کا وعدہ کیا گیا تھا وہ اگلے ماہ شروع ہو جائے گی۔

شاید اسی کے تناظر میں عمران خان کا کہناہے مزید دو ماہ مشکل ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ دن دور نہیں جب لوگ ملازمتوں کیلئے پاکستان آئینگے ۔ اگلے سال تک گردشی قرضوں میں اضافہ ختم ہو جائیگا۔ اسکے ساتھ ساتھ وہ اس عزم کا بھی اظہار کر رہے ہیں کہ چوروں کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے۔بیڈ گورننس کس طریقے سے گڈ گورننس میں بدل رہی ہے اس کا اظہار حکومتی اقدامات اوراسکے فیصلوں اور ان پر عمل سے ہو رہا ہے ۔ ہر سال رمضان میں لوڈشیڈنگ انتہا کو پہنچی نظر آتی تھی ۔رواں سال رمضان میں لوڈ شیڈنگ نہ ہونے کے برابررہی اور اسکے بعد بھی شدید گرمی میں بلا تعطل بجلی کی فراہمی جاری ہے۔بلاشبہ سابق حکومت نے بجلی کی پیداوار میں اضافہ کیا مگر وہ سپلائی کو مینیج نہیں کرسکی تھی یہ کام عمران خان حکومت نے کردکھایا۔ وزیراعظم کہتے ہیں کہ 90 فیصد علاقوں میں بجلی بند نہیں ہو رہی انہوں نے ساتھ یہ بھی کہا کہ بجلی چوری روکنے سے اٹھاون ارب روپے کی بچت ہوئی ہے ۔یہ گڈ گورننس کی طرف سے اُٹھتے قدم ہیں۔آٹھ ماہ میں حکومت نے جو کچھ کیا اسے مثالی نہیں تو بہتر ضرور قرار دیا جا سکتا ہے۔ 8 9, ماہ میں جس طریقے سے ملک میں بہتری لانے کی کوشش کی گئی ہے یہ بڑی محنت اور جذبے کا کام ہے۔ ایک بات یہاں واضح کرنے کی ضرورت ہے کہ اڑتیس سال کا ملبہ صرف چند ماہ میں نہیں اٹھایا جا سکتا ۔ نیا پاکستان معرض وجود میں لانے کیلئے اڑتیس سال نہیں تو اس سے نصف عرصہ درکار ہے۔ عمران خان پندرہ بیس سال حکمران رہے یا نہ رہے مگر پاکستان کو وہ ایسی ڈگر پر ضرور ڈال جائینگے کہ آئندہ آنیوالے لوگ ملک کو مزید آگے لے جانے میں آسانی محسوس کرینگے۔جیسا 38چالیس سال کے بگاڑکو سدھار میں بدلنا نا مشکل ہے اسی طریقے سے جب سدھارآ جائے گا وہ ذہنیت جو عمران خان اور ان کی ملک کو آگے لے جانے کی سوچ کی مخالفت کر رہی ہے اس کیلئے سدھار کو بگاڑ میں پھر سے بدلنا عوام کے باشعور ہونے کے باعث ناممکن ہو جائیگا۔ ایسے اقدامات کل کے بجٹ میں بھی نظر آئینگے۔جس میں حکومت دس لاکھ غریب لوگوں کیلئے راشن سکیم شروع کررہی ہے۔ معاشی مشکلات کے باوجود سماجی تحفظ کا بجٹ دگنا کرنے کا اعلان کردیا گیا ہے۔ ایسے اقدامات سے ریاست مدینہ کی تشکیل کا خواب پورا ہوتا ممکن دکھائی دے رہا ہے۔(ش س م)