اسلامی ممالک کے پاس موجود تیل کی دولت پر قبضہ جمانے کے لیے امریکہ اب تک کیا کچھ کر چکا ہے اور مزید کیا کرنے والا ہے ؟ پاکستان کے سابق اعلیٰ سرکاری افسر کی انکشافات سے بھر پور تحریر

لاہور (ویب ڈیسک) عرب نیشنل ازم کا چیمپئن ۔ دنیائے عرب کا غیر متنازعہ لیڈر! اس کی فوجی مہارت اور لیڈر شپ کا بھرم اسرائیل نے ایک دن میں کھول دیا۔ چشمِ زدن میں مصر کی سب ائیر فورس تباہ ہو گئی۔ فوجوں کو عبرت ناک شکست ہوئی اور صحرائے سینا یہودیوں کے قبضے میں آ گیا۔

نامور کالم نگار اور سابق بیورو کریٹ شوکت علی شاہ اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ایک کرنل کا CALIBER) بری طرح ’’ایکسپوز‘‘ ہو گیا۔ اسی صدمے کو سینے سے لگائے وہ چل بسا۔لیبیا کا کرنل قذافی بھی مغرب کی آنکھ میں بُری طرح کھٹکتا تھا۔ کسی زمانے میں اہل پاکستان اسے اسلامی دنیا کا ہیرو سمجھتے تھے۔ جب اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے آیا تو بھٹو اس کو کرکٹ اسٹیڈیم میں تقریر کرنے کے لیے لے گیا۔ اس کی شکل صورت ، ڈیل ڈول اور حرکات و سکنات کودیکھ کر لوگوں کو احساس ہوا کہ رنگیلا صرف فلمی اداکار ہی نہیں ہے ، ایک صحرائی ملک کا حکمران بھی ہے۔ اس کا انجام وہی ہوا جس سے امریکہ نے صدام کو دوچار کیا۔حیران کُن بات یہ ہے کہ آمر تو اپنے انجام کو پہنچ گئے ہیں لیکن ان کی جگہ ایک ایسے شخص نے لے لی ہے جو اپنے آپ کو خلیفہ المسلمین کہتا ہے۔ ابوبکر البغدادی، داعش کا سربراہ جس نے دیکھتے ہی دیکھتے موصل اور حلب پر قبضہ کر لیا۔ ابھی تک اس کی فوجیں عراق اور شام کی سپاہ سے برسرِ پیکار ہیں۔ عقل حیران ہے کہ وہ لڑائی کے لیے اسلحہ کہاں سے لیتا ہے؟ رقم کون مہیا کرتا ہے؟ اپنے جانثاروں سے رابطہ کس طرح قائم کرتا ہے۔ اس کے پاس ائیر پاور نہیں ہے۔ ٹینک اور بڑی توپیں نہیں ہیں۔ مواصلاتی نظام موثر نہیں ہے۔ امریکہ، روس، نیٹو اور دیگر ممالک نے مل کر اسے نکیل ڈال دی ہے۔ داعش کا مکمل خاتمہ ہو گیا۔ ابوبکر بغدادی یا تو مارا گیا ہے

اگر زندہ ہے تو کہیں عبرتناک زندگی گزار رہا ہے۔پرانی کہاوت ہے کہ آپ اگر مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی تہہ میں جائیں تو آپ کو تیل نظر آئے گا۔ وہ ریاستیں جہاں چارسُو الجوع الجوغ کی صدائیں آتی تھیں اب تیل کی دولت سے مالا مال ہیں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ عام آدمی تک تو خوشحالی کی تلچھٹ ہی پہنچتی ہے۔ مہ ناب حکمرانوں اور مغربی طاقتوں میں تقسیم ہو جاتی ہے۔ تیل نکالنے والی کمپنیاں امریکہ اور برطانیہ کی ہیں۔ڈسٹریبیوشن سسٹم ان کے پاس ہے۔ حتیٰ کہ تیل سے حاصل کی ہوئی دولت بھی ان کے بینکوں میں پڑی ہے۔ بادشاہ اور آمر اس خوف سے پیسہ ملکی بنکوں میں نہیں رکھتے کہ بغاوت کی صورت میں وہ ضبط کیا جا سکتا ہے۔ اربوں ڈالر نہ تو یہ خرچ کر سکتے ہیں اور نہ نکلوا سکتے ہیں۔ محض ایک نفسیاتی تسکین کے کوئی چیز بھی ان کے ہاتھ نہیں آ سکتی۔ امریکہ کئی ممالک کی دولت FREEZE کر چکا ہے۔ کسی زمانے میں ہندوستان میں یہ جملہ بڑا مشہور تھا ’’کھادا پیتا لاہے دا ، باقی احمد شاہے دا‘‘ یہ عربی لاہے ہرچیز کے لیے امریکہ کے مرہون منت ہیں…مذہبی اور دہشت گرد تنظیموں کو درپردہ مضبوط کر کے ان طاقتوں نے کرپٹ حکمرانوں کے لیے ایک ہوّا کھڑا کر رکھا ہے۔ ہر وقت ان کو ڈراتے رہتے ہیں کہ ہم نہ ہوتے تو اب تک تمہاری حکومت ختم ہو گئی ہوتی۔ بین الاقوامی سیاست میں یہ ایک DELICATE BALANCING ہے۔ داعش و دیگر تنظیموں کو کارروائیاں کرنے دو۔ لیکن انہیں اتنا مضبوط بھی نہ ہونے دو کہ وہ عرب طفیلی حکمرانوں کا تختہ اُلٹ دیں۔اب ہو گا کیا؟ اس مسئلے کا کوئی حل نکل سکے گا۔ کیا مسلم حکمران ان پیرانِ تسمہ پا کے چُنگل سے آزاد ہو سکیں گے؟ ایک طویل عرصہ تک ایسا ہوتا نظرنہیں آتا۔ افغانستان، شام ، لیبیا، عراق، یمن، خاک اور خون میں غلطاں رہیں گے۔ مسلمان، مسلمان سے لڑتا رہے گا۔ بھائی ، بھائی کا گلا کاٹتا رہے گا۔ امن اور خوشحالی ایک خواب بن کر رہ جائیں گے۔ ملکوں کی معیشت مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ تیل کی ساری دولت غیروں کے پاس چلی جائے گی۔ بھوک، غربت ، افلاس ، قحط سالی کا دور دورہ ہو گا…شاید سابقہ امریکی صدر بش نے درست ہی کہا تھا۔ صلیبی جنگیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔ پہلے تو مسلمان اور عیسائی آپس میں برسرپیکار ہوتے تھے ، اب کرسچین اور یہود محض تماشائی ہیں۔ مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑا دیا گیا ہے۔ اس سے بہتر حکمتِ عملی نہیں اپنائی جا سکتی تھی۔ بغض، عناد، رعونت، اور مفاد پرستی یکجا ہو گئی ہیں۔ اسے ماڈرن اصطلاح میں ’’ڈپلومیسی‘‘ کہا جاتا ہے۔ (ش س م)