جعلی اور فیک نیوز سے خبردار ۔۔۔۔۔ پاکستانی لڑکیوں کی چینی مردوں سے شادیوں کے پیچھے دراصل کس کی کیا مجبوریاں چھپی ہوئی ہیں ؟ صف اول کے صحافی نے اصل کہانی کا سراغ لگا لیا

لاہور (ویب ڈیسک) چونکہ چینی والدین بھی پاکستانیوں کی طرح بیٹیوں پر بیٹوں کو ترجیح دیتے ہیں، اس لیے بچیوں کو پیدائش سے قبل ہی اسقاطِ حمل کے ذریعے ختم کر دینے کا سلسلہ دہائیوں سے وہاں جاری تھا۔ اس رجحان کے سبب چین میں بیاہ کے قابل لڑکیوں کی تعداد بہت کم ہو چکی ہے۔

نامور کالم نگار اکرام سہگل اپنے ایک کالم میں لکھتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ ایسے میں کیا کیا جائے؟ دلہنیں درآمد کرنا آبادی میں پیدا ہونے والے عدم توازن کو درست کرنے کا ایک طریقہ ہے۔ پہلی پسند اگرچہ چین سے باہر انڈونیشیا، ملائیشیا وغیرہ میں بسنے والے چینی خاندانوں کی بیٹیاں ہی ہوں گی، لیکن اس کے باوجود دلہنوں کی کمی کا سامنا ہے۔ کسی بھی ترقی پذیر ملک کی طرح پاکستان میں بھی خواتین سمیت نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد بہتر مستقبل کی امید پر ملک سے باہر جانے کے لیے پر تول رہی ہے۔ اگر چینی نوجوان ایمانداری کے ساتھ پاکستان میں دلہنیں تلاش کرنے آئیں تو اس میں کوئی برائی نہیں۔ جب شادی اور خانہ آبادی کی بجائے عورتوں کا جسم فروشی کے لیے استعمال کرنے کے لیے جعلی شادیاں رچائی جائیں تو صورتحال تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس ذریعے سے پیسہ بنانا اور لڑکیاں بیچنا ایسا جرم ہے جس کا تدارک لازم ہے۔ اس بات کا اعتراف بھی کرنا پڑتا ہے کہ پاکستان میں عورتوں کی ٹریفکنگ اور دلہنوں کی تجارت کا مسئلہ چینیوں کی دلہنوں کی تلاش کی خاطر آمد سے شروع نہیں ہوا۔ ان مسائل کی یہاں لمبی تاریخ ہے۔ ہمیں مقامی و چینی افراد کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کا اندازہ ہونا چاہیے تھا۔ چینی سفارت خانے نے بجا طور پر شکایت کی ہے کہ پاکستانی اور دیگر ذرائع ابلاغ کی جانب سے غیر مصدقہ الزامات، پاکستان اور پاکستان سے باہر چین کے امیج کو نقصان پہنچا رہے ہیں۔ بین الاقوامی صورتحال کے پیشِ نظر جہاں مغربی دنیا میں

امریکا کی زیر قیادت چین کے خلاف معاشی، سیاسی اور میڈیا جنگ جاری ہے، غیر مصدقہ الزامات مغرب کے لیے مفید ہوں گے۔ پاکستان کو اس غیر منصفانہ چین مخالف لعن طعن کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ پاکستان کے قومی مفاد میں ہے کہ چین سے دوستانہ تعلقات نہ بگاڑے جائیں۔ چینی کسی بھی ممکنہ جرم کی تحقیقات میں تعاون کر رہے ہیں اور یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی چینی مجرم پکڑا گیا تو سزا ضرور بھگتے گا۔ خواہش ہے کہ پاکستانی پراسیکیوشن اور انصاف کی فراہمی بھی اتنی ہی نتیجہ خیز ہو۔ پاکستانی دفترِ خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ وہ چینی مردوں کی پاکستانی عورتوں سے شادی کے مسئلے کی ”قریب سے نگرانی‘‘ کر رہے ہیں۔ ”حکومتِ چین نے اس مسئلے پر ہر قسم کے ممکنہ تعاون کی پیشکش کی ہے جس کا بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔ چینی وزارتِ تحفظ عامہ کی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے ترجمان خارجہ نے کہا ”فریقین قریبی تال میل کے ساتھ کوششیں کر رہے ہیں‘‘۔ دفتر خارجہ کے ترجمان کا کہنا تھا ”سنسنی خیزی سے بچا جائے اور حساس معاملات پر صرف مصدقہ حقائق کی روشنی میں ہی رپورٹنگ کی جائے۔ پاکستان اور چین مستقل سٹریٹیجک اتحادی ہیں۔ دونوں ملکوں کی دوستی کو دونوں ہی ممالک میں عوام اور اداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ دونوں اطراف دوستی کو مضبوط تر کرنے اور سٹریٹیجک پارٹنرشپ کو تمام جہتوں میں بڑھانے کا عزم رکھتی ہیں‘‘۔جرائم پیشہ افراد دیگر مقامات پر بھی گلوبلائز ہوتی دنیا میں نئی ترقیوں کا فائدہ اٹھانے اور غیر واضح اور غیر منضبط قانونی خلا دریافت کرنے میں سرگرم ہیں۔ یورپی یونین مشرقی یورپ کی جانب توسیع کے عمل میں پہلے پہل ایسے ہی تجربات سے گزری۔اس گلوبلائزیشن کے مجرمانہ حصے پر قابو پانے کی ضرورت ہے لیکن عوامی سطح کے رابطوں کو فروغ دیا جانا چاہیے جو کہ دیگر ثقافتوں کی بہتر تفہیم میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ جعلی خبروں یا فیک نیوز کے حملوں کا شکار نہیں ہونا چاہیے، خصوصاً جب ایسے حملوں کو جنہیں پاک چین تعلقات خراب کرنے کے خطرناک مقاصد سے تحریک ملی ہو۔(ش س م)